BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 June, 2008, 13:58 GMT 18:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھویں، چیخوں کے سوا کچھ نہیں تھا

عورت
ایک زور دار دھماکہ ہوا اور چھت اور شیشے ٹوٹ کر ہم پر گر گئے: عینی شاہد
اسلام آباد میں ڈنمارک کے سفارتخانے کے باہر کار بم دھماکے کے ایک عینی شاہد راحیل نے بی بی سی کو بتایا کہ بم ایک گاڑی میں نصب تھا اور اس کے پھٹنے سے ایک ساڑھے تین فٹ گہرا گڑھا بن گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ڈینش ایمبیسی کے سامنے ایک نجی کمپنی کا سکیورٹی اہلکار کھڑا تھا جس کا نام خدا بخش تھا اور وہ جگہ پر ہی ہلاک ہو گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اندر کچھ زخمی تھے جنہیں انہوں نے ایمبولینس میں ڈالا اور ہسپتال روانہ کر دیا۔ ’کُل چار لاشیں ہمیں ملی تھیں جو سب پاکستانی تھے۔‘

ہر طرف فون بج رہے تھے
 ’ہم وہاں سے جلدی سے نکلے۔ تمام عمارت خالی کروا لی گئی تھی۔ ہر طرف فون بج رہے تھے۔ مجھے میرے بھائی نے وہاں سے لیا اور اب میں گھر خیریت سے پہنچ گیا ہوں۔
عینی شاہد

راحیل کے مطابق زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں میں کوئی بھی غیر ملکی شامل نہیں تھا۔

ڈنمارک کے سفارتخانے کے ساتھ واقع غیر ملکی این جی او ڈی ٹی سی کے گارڈ محمد اسلم نے بتایا ’میں اندر آفس میں کام کر رہا تھا ایک زور دار دھماکہ ہوا اور چھت اور شیشے ٹوٹ کر ہم پر گر گئے۔ زخمی اور ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر سکیورٹی اہلکار تھے۔ پانچ چھ زخمی تو میں نے خود اُٹھائے۔ تین چار ہمارے آفس کے تھے۔اب مجھے معلوم نہیں کہ کون کون تھے ۔جب میں آیا تو ہر چیز بکھری پڑی تھی۔‘

 ہم نے جب باہر دیکھا تو ہر طرف دھواں تھا اور پارکنگ میں کھڑی تمام گاڑیاں تباہ ہو چکی تھیں۔ ہر طرف سے چیخوں کی آوازیں آ رہیں تھیں اور لوگ ادھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔ میں نے ایسا نظارہ پہلے کبھی نہیں دیکھا۔
نعمان ملک

انہوں نے مزید کہا کہ مین گیٹ سے راستہ نہیں تھا اور میں پیچھے کے راستے سے باہر آیا۔ اور باہر آتے ہی انہوں نے زخمیوں کو سنبھالنا شروع کر دیا۔ ایک گارڈ گیٹ پر زخمی پڑا تھا جسے ہسپتال بھیج دیا اور اپنے آفس کے زخمی تھے انھیں باہر نکالا‘۔

امدادی کارکن عصمت اللہ نے بتایا ’جی آٹھ لاشیں تو ہم منتقل کر چکے ہیں۔ ہمارے سٹاف کے مطابق ایک غیر ملکی اور باقی سات پاکستانی ہیں اور زخمیوں کی تعداد ابھی معلوم نہیں۔ زیادہ تر کو پولی کلینک اور پیمز میں منتقل کیا گیا ہے۔‘

 ’میں اندر آفس میں کام کر رہا تھا ایک زور دار دھماکہ ہوا اور چھت اور شیشے ٹوٹ کر ہم پر گر گئے۔ زخمی اور ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر سکیورٹی اہلکار تھے
عینی شاہد

ایمبیسی کے قریب عمارت میں ملازم نعمان ملک نے بتایا کہ ایک زور دار دھماکہ ہوا اور سب کچھ لرز اٹھا۔ ’ہم نے جب باہر دیکھا تو ہر طرف دھواں تھا اور پارکنگ میں کھڑی تمام گاڑیاں تباہ ہو چکی تھیں۔ ہر طرف سے چیخوں کی آوازیں آ رہیں تھیں اور لوگ ادھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔ میں نے ایسا نظارہ پہلے کبھی نہیں دیکھا۔‘

انہوں نے کہا ’ہم وہاں سے جلدی سے نکلے۔ تمام عمارت خالی کروا لی گئی تھی۔ ہر طرف فون بج رہے تھے۔ مجھے میرے بھائی نے وہاں سے لیا اور اب میں گھر خیریت سے پہنچ گیا ہوں۔‘

اسلام آباد کے اطالوی ریستوراں پر حملہ کے بعد سیکیورٹی فرسز کے اہلکار (فائلسیکیورٹی بہتر کریں
سینیٹ کی ایک کمیٹی کا انتظامیہ کو حکم
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد