ڈنمارک ایمبیسی کے قریب دھماکہ، چھ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں ڈنمارک کے سفارتخانے کے باہر کار بم دھماکے میں چھ افراد ہلاک اور پچیس زخمی ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر رانا اکبر حیات نے بی بی سی کو بتایا کہ مرنےوالوں یا زخمیوں میں کوئی غیرملکی شامل نہیں ہے۔ تاہم ریسکیو کے ادارے کے یونٹ انچارج عصمت اللہ خان کے مطابق انکے ساتھیوں نے آٹھ لاشیں اور پانچ زخمی اسلام آباد کے دو ہسپتالوں میں منتقل کی ہیں۔ محمد اسلم نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں بظاہر ایک غیر ملکی نظر آتا تھا۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے مطابق بم کار میں نصب تھا اور اسکا ہدف ڈنمارک کا سفارتخانہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے کا شکار بننے والوں میں سفارتخانے اور اردگرد کے دفاتر کے سیکیورٹی گارڈ زخمیوں میں زیادہ تر کا تعلق سفارخانے کے سامنے اقوام متحدہ کی مدد سے چلنے والی غیر سرکاری تنظیم ڈی ٹی سی ای کے دفتر میں کام کرنے والوں سے تھا جو عمارت کی کھڑکیاں اور شیشے ٹوٹنے سے زخمی ہوئے۔ بم دھماکے میں بی بی سی اسلام آباد کے ایک ملازم ناصر مسیح گل کے چھوٹے بھائی عامر مسیح گل بھی انتقال کرگئے ہیں۔ ناصر مسیح نے بتایا کہ انہوں نے پولی کلینک میں اپنے بھائی کی لاش کی شناخت کرلی ہے۔ چھبیس سالہ عامر مسیح غیرشادی شدہ تھے اور غیرسرکاری تنظیم ڈی ٹی سی اے کے دفتر میں آفس بوائے کے طور پر ملازمت کرتے تھے۔ ناصر مسیح نے بتایا کہ انہیں پتہ چلا ہے کہ عامر دفتر کے باہر محافظوں کے پاس کھڑے تھے کہ دھماکہ ہوگیا جس کی وجہ سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ ڈی ٹی سی ای کے دفتر کی عمارت کے ایک سکیورٹی گارڈ محمد اسلم نے بتایا کہ دھماکے کے وقت وہ عمارت کے مرکزی دروازے سے عمارت کے اندر داخل ہو رہا تھا۔ ’دھماکے کی آواز پر میں واپس پلٹا تو اپنے ساتھی اور دیگر دو افراد کو خون میں لت پت پایا جنہیں اٹھا کر عمارت کے اندر لائے‘۔ سیکیورٹی گارڈ نے بتایا کہ اسکے بعد وہ ڈنمارک کے سفارتخانے کی عمارت کی طرف گئے جہاں مرکزی دروازے کے اندر موجود دو لاشوں اور دو زخمیوں کو ایمبولینس میں ڈال کر ہسپتال روانہ کیا۔ ڈنمارک کے سفارتخانے کے ویزا سیکشن کے صدر دروازے سے دس میٹر کے فاصلے پر سڑک کے بیچوں بیچ پڑے گڑھے سے اندازہ ہوتا تھا کہ حملہ آور نے سفارخانے کی عمارت کے قریب پہنچنے کی کوشش کی اور ویزا سیکشن کے قریب لگے بیریئر پر روکے جانے پر دھماکہ کر دیا۔ اسلام آباد کے رہائشی علاقے ایف سکس میں ڈنمارک کا سفارخانہ ایک ایسی گلی میں واقع ہے جہاں دیگر کئی سفارتی رہائشگاہیں اور دفاتر موجود ہیں۔ پولیس کے مطابق اس گلی میں گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ہے اسکے باودجو حملہ آور کے گاڑی سمیت اس گلی میں داخل ہونے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ تاہم اسلام آباد کے چیف کمشنر حامد علی خان نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق گاڑی پر سفارتکاروں کے زیر استعال گاڑیوں کی مخصوص نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی جو حملہ آور کو اس انتہائی سیکیورٹی زون کے اندر لانے میں مددگار ثابت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ دھماکے کے وقت ڈنمارک کے سفارتخانے میں ملازمتوں کے لیے انٹرویوز لیے جا رہے تھے۔ دھماکہ گوخاصا شدید تھا لیکن اس سے سفارخانے اور اسکے سامنے ایک غیرملکی غیر سرکاری تنظیم کی عمارت کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا۔ دھماکے کی شدت سے ڈنمارک کے سفارتخانے اور غیر سرکاری تنظیم کے صدر دروازے اور اسکے قریب کھڑی متعدد گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ دھماکے سے ایف سکس کے اس رہائشی علاقے میں دور دور تک گھروں کی کھڑکیاں، دروازے اور شیشے ٹوٹنے سے متعدد افراد معمولی زخمی بھی ہوئے۔ ڈنمارک کے سفارتخانے پر ہونے والے اس بم حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی تاہم ایڈشنل ڈپٹی کمشنر رانا اکبر حیات نے دھماکے کی جگہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈنمارک کے سفارتخانے کو نشانہ بنانے کا مقصد بظاہر وہ نفرت ہو سکتی ہے جو آجکل ڈنمارک کے خلاف یہاں کے لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے اس عمارت کے حفاظت کا خصوصی بندوبست کیا گیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ حملہ آور سفارتخانے کی عمارت کے اندر داخل نہیں ہو سکا۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی ہدایت پر وزارت داخلہ نے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس نے دھماکے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی میں پولیس کے علاوہ ایف آئی اے اور انٹیلی جنس بیورو کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکے میں سفید رنگ کی بڑی گاڑی استعمال کی گئی جس میں پندرہ سے بیس کلو دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔ گاڑی پر سفارتکاروں کے زیر استعمال گاڑیوں کی خصوصی نمبر پلیٹ نصب تھی جسکی وجہ سے حملہ آور کو سفارتخانے کے قریب سیکیورٹی زون میں داخل ہونے کا موقع ملا۔ ابھی حتمی طور پر یہ طے نہیں ہو سکا کہ حملہ آور نے خود کو بھی اس دھماکے میں اڑاد دیا ہے یا وہ بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔ دھماکے کی جگہ پڑنے والے گڑھے سے تحقیقاتی ٹیم کے ارکان نے کچھ مواد اکھٹا کر کے لاھور میں فورینزک لیبارٹری بھجوا دیا ہے۔ وزارت خارجہ کے سیکرٹری سلمان بشیر نے ڈنمارک سفارتخانے جا کر ناظم الامور کے ساتھ اس افسوسناک واقعے پر اظہار ہمدردی کیا۔ | اسی بارے میں اسلام آباد دھماکہ: تُرک خاتون ہلاک15 March, 2008 | پاکستان ’اسلام آباد دھماکہ، انتقامی ردِ عمل‘ 16 March, 2008 | پاکستان اسلام آباد دھماکہ، سینکڑوں گرفتار16 March, 2008 | پاکستان باجوڑ میں بم دھماکہ تین ہلاک19 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||