مردان، لڑکیوں کے سکول میں دھماکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے شہر مردان میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے لڑکیوں کے ایک سکول اور سی ڈیز کی ایک دوکان کو دو الگ الگ بم دھماکوں میں نشانہ بنایا گیا ہے جس سے سکول کی عمارت اور دوکان کو نقصان پہنچا ہے۔ مردان سے ملنے والی اطلاعات میں پولیس کے مطابق پہلا واقعہ پیر کی صبح سویرے مردان شہر سے تقریباً پچیس کلومیٹر دور لوند خوڑ کے علاقے میں پیش آیا۔ تھانہ لوند خوڑ کے ایک اہلکار بشیر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے رات کی تاریکی میں گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بائزی خرکی کے گیٹ کے ساتھ دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا جس کے پھٹنے سے سکول کا گیٹ مکمل طورپر تباہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ اس سکول کے تمام کمروں اور قریب واقع ایک اور گرلز پرائمری سکول اور مقامی ہسپتال کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دوسرا واقعہ مردان کے ایک اور علاقے پارہوتی میں اتوار کی رات پیش آیا جہاں پولیس کے مطابق فلمیں فروخت کرنے والی سی ڈی کی ایک دوکان کو بم دھماکے میں آڑا گیا۔ اس دھماکے سے دوکان کو جزوی طورپر نقصان پہنچا ہے۔ تاحال کسی تنظیم نے ان واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ واضح رہے کہ مردان صوبہ سرحد کا دوسرا بڑا شہر سمجھا جاتا ہے۔ اس شہر میں اس سے پہلے بھی پولیس تھانوں اور فوجی اہلکاروں پر متعدد بار خودکش اور دیگر حملے ہوتے رہے ہیں جبکہ ان حملوں کی ذمہ داری مقامی طالبان نے قبول بھی کی تھی۔ چند ہفتے قبل بھی مردان کینٹ میں پنجاب ریجمنٹ سنٹر میں واقع ایک بیکری میں فوجی اہلکاروں کو ایک خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا جس میں چار فوجی اہلکاروں سمیت تیرہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ | اسی بارے میں درۂ آدم خیل، نیا محاذ18 May, 2008 | پاکستان مردان میں بم دھماکہ، تین ہلاک25 April, 2008 | پاکستان مردان میں مسلح تصادم، پانچ ہلاک02 February, 2008 | پاکستان مردان: لڑکیوں کے سکول میں دھماکہ11 May, 2007 | پاکستان مردان : لڑکیوں کے سکول میں دھماکے04 May, 2007 | پاکستان بم کی افواہیں، متعدد سکول بند23 February, 2007 | پاکستان پراسرار گمشدگیاں اور بے بسی23 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||