BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 June, 2008, 11:35 GMT 16:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھماکہ: انٹیلیجنس ٹیم پاکستان کے لیے روانہ

دھماکہ
’دھماکے میں ایک ڈنمارک کا شہری بھی ہلاک ہوا ہے‘
ڈنمارک کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ڈنمارک کی ایک ٹیم منگل کے روز پاکستان پہنچ چکی ہے جب کہ دوسری ٹیم بدھ کو پہنچ رہی ہے۔

کوپن ہیگن میں ڈنمارک کے وزارت خارجہ کی پریس آفیسر کلیڈز ہوم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیمیں پاکستانی حکام کی تحقیقات میں مدد کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ سوموار کو اسلام آباد میں ڈنمارک کے سفارتخانے کے قریب بم دھماکے میں ایک ڈنمارک کا شہری بھی ہلاک ہوا ہے۔ ’ہلاک ہونے والے سفارتخانے کے عملے میں سے نہیں تھے بلکہ سفارتخانے آئے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ سفارتخانے کے دو پاکستانی اہلکار اس حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ان دونوں ٹیموں میں کُل افراد کی تعداد دس ہے۔ ’ان میں سیاسی ماہرین، ماہر نفسیات، انجینیئر اور انٹیلیجنس کے لوگ شامل ہیں۔‘

انہوں نے تصدیق کی کہ انٹیلیجنس کی ٹیم میں ڈنمارک کی داخلی انٹیلیجنس ایجنسی پی ای ٹی اور ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی پر مشتمل ہے۔

منگل کو ڈنمارک کے وزیر اعظم نے کہا تھا ’ہم پارلیمنٹ کی منظورکردہ سکیورٹی اور خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں لائیں گے۔ ہم اس حملے کو ڈنمارک کے سفارتخانے پر اور ڈنمارک پر حملہ تصور کرتے ہیں۔ یہ حملہ ایک گھناؤنا اور بزدلانہ عمل تھا۔‘

تاہم پاکستان وزارت خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈنمارک کا کوئی شہری اس حملے میں ہلاک نہیں ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈنمارک کے چند حکام پاکستان آ رہے ہیں۔ ان کی تحقیقات صرف یہ ہوں گی کہ وہ اپنے سفارتخانے کا جائزہ لیں گے۔

اگرچہ اس حملے کی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم ڈنمارک کی داخلی انٹیلیجنس ایجنسی پی ای ٹی اس پہلو پر غور کر رہی ہے کہ اس حملے کے پیچھے القاعدہ کا ہاتھ ہے۔ اور اسی سلسلے میں ایک تحقیقاتی ٹیم جلد پاکستان پہنچ رہی ہے۔

تاہم ہوم کا کہنا تھا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس حملے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔

ہوم سے ڈنمارک کے سفارتخانے کے حوالے سے پوچھا تو انہوں نے کہا ’ہم نے اسلام آباد میں سفارتخانہ بند نہیں کیا اور دہشت گرد اس قسم کے حملے کر کے ہمیں سفارت خانہ بند کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔‘

واضح رہے کہ سوموار کو ڈنمارک کے سفارت خانے کے قریب بم دھماکے میں چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستانی حکام نے اس دھماکے میں ڈنمارک کے شہری کے ہلاک ہونے کی تصدیق نہیں کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد