ججوں کی بحالی، وکلاء کے قافلے روانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اعلٰی عدالتوں کے ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء کے مجوزہ لانگ مارچ میں شرکت کے لیے وکلاء کے قافلے کراچی اور کوئٹہ سے سکھر کے لیے روانہ ہو گئے ہیں جہاں سے وہ بارہ جون کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پہنچیں گے۔ کراچی سے ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کراچی سے قائد اعظم مزار سے شروع ہونے وکلاء کے قافلے کو الوادع کرنے والے والوں میں پی سی او کے تحت حلف نہ لینے والے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد اور سابق جج فخر الدین جی ابراہیم بھی شامل تھے۔ وکلاء کے قافلے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن اور رہنماء بھی شریک ہیں۔ ایک درجن بسوں اور کاروں پر مشتمل وکلاء کا قافلہ سپر ہائی وے سے ہوتا ہوا حیدرآباد پہنچے گا، جہاں سے مزید وکلاء شامل ہوجائیں گے ۔ کراچی سے روانگی سے قبل وکلاء کے نمائندوں نے تقریریں کرتے ہوئے کہا کہ آئین توڑنے والوں کو آئینی تحفظ فراہم کیا گیا، تو تحفظ فراہم کرنے والے بھی اتنے ہی مجرم ہوں گے جتنا آئین توڑنے والا۔ فخر الدین جی ابراہیم کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ وقت کا تقاضا اور لازمی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ آئینی پیکیج کو رد کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ لانگ مارچ اپنی منزل حاصل کرے گا۔ بلوچستان اور سندھ سے وکلاء سکھر میں اکھٹے ہوں گے جہاں سے وہ ملتان روانہ ہوں گے۔ گیارہ جون کو وکلاء کا لانگ مارچ ملتان سے شروع ہو گا۔ وکلاء کا لانگ مارچ پہلے لاہور پہنچے گا جہاں سے وہ اسلام آباد میں پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر پہنچے گا۔
کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق بلوچستان سے وکلاء کا قافلہ لانگ مارچ میں شرکت کے لیے ضلع کچہری کوئٹہ سے سکھر کے لیے روانہ ہوگیا ہے۔ سیاستدانوں مزدوروں اور سول سوسائٹی کے افراد نے وکلاء کو رخصت کیا۔ کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر شہروں کے وکیل آج صبح ضلع کچہری میں جمع ہو گئے تھے جہاں سے گاڑیوں میں یہ قافلہ روانہ ہوا ہے۔ اس قافلے کی قیادت وکیل رہنما علی احمد کرد ایڈووکٹ بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہادی شکیل ایڈووکیٹ اور بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ کر رہے ہیں۔ نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالحئی کے علاوہ دیگر جماعتوں کے کارکن مزدور اساتذہ اور سول سوسائٹی کے دیگر ارکان نے وکلاء کو رخصت کیا ہے۔ اس موقع پر سخت نعرہ بازی کی گئی۔ ہادی شکیل ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے قافلے میں اس وقت سو کے لگ بھگ وکیل شامل ہیں جبکہ راستے میں مچھ، سبی، ڈیرہ مراد جمالی اور ڈیرہ اللہ یار کے وکیلوں کو وہ ساتھ کے لے کر سکھر پہنچیں گے جہاں سندھ اور بلوچستان کے بیشتر اضلاع کے وکیل جمع ہوں گے اور پھر ملتان کے لیے روانہ ہوں گے۔ اس سے پہلے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ قافلے ژوب اور ڈیرہ اسماعیل خان کے راستے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگا لیکن باز محمد کاکڑ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ مرکزی قیادت سے مشورے کے بعد سکھر جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے پاس وسائل کی کمی ہے وگرنہ ان کے قافلے میں ہزاروں لوگ شامل ہوتے۔ لاہور سے امداد علی سومرو نے بتایا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چودھری اعتزاز احسن نے اتوار کو لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے کراچی شہداء ہال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہ وکلاء کا لانگ مارچ بارہ جون کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پہنچے گا۔ اس موقع پر لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر انور کمال، ضلعی بار لاہور کے صدر منظور قادر اور دیگر وکلاء رہمنا بھی اعتزاز احسن کے ہمراہ تھے۔انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کا نعرہ ’ ہم ملک بچانے نکلے ہیں آؤ ہمارے ساتھ چلو‘ ہوگا۔ جبکہ اس کا دوسرا نعرہ ’گو مشرف گو ہوگا‘۔ اعتزاز احسن نے بتایا کہ لانگ مارچ پیر کی صبح رشید اے رضوی، محمود الحسن اور منیر اے ملک کی قیادت میں سندھ ہائی کورٹ کراچی سے شروع ہوگا، لانگ مارچ کا یہ قافلا مزار قائد سے ہوتا ہوا سکھر کی جانب بڑھے گا۔ اس قافلے میں سندھ کے دیگر شہروں سے بھی وکلاء شامل ہوتے جائیں گے۔ وکلاء کا یہ قافلہ سوموار کی شام سکھر پہنچے گا۔ اعتزاز احسن کے مطابق لانگ مارچ میں وکلاء کے علاوہ سول سوسائٹی، طلبہ، سیاسی کارکنوں، کسانوں، مزدورں سمیت زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی شامل ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ لانگ مارچ دس جون کو سکھر سے چل کر براستہ قومی شاہراہ اسی دن شام کو ملتان پہنچے گا، قافلے میں سندھ کے معزول جج بھی شامل ہوں گے۔ ملتان معزول چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری قافلےکا استقبال کریں گے۔ اعتزاز احسن نے بتایا کہ رات کو لاہور میں قیام کرنے کے بعد بارہ جون جمعرات کو لانگ مارچ جی ٹی روڈ کے ذریعے راولپنڈی ضلعی بار پہنچے گا اور مری روڈ پر پشاور سمیت سرحد اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے آنے والے وکلاء کے قافلے مری روڈ پر مرکزی قافلے میں شامل ہوجائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ راولپنڈی سے لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف روانہ ہو کر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے گا۔ ایک سوال کے جواب میں اعتزاز احسن نے کہا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے کتنے دن پڑاؤ کرنا ہے اور تحریک کی آئندہ حکمت عملی کیا ہوگی اس کا فیصلا لانگ مارچ کرے گی۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ جس طرح تین نومبر دو ہزار سات کو صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے ساٹھ ججوں کو معزول کر کے انہیں بچوں سمیت گرفتار کر لیا ایسا تو کسی غیر مہذب معاشرے میں بھی نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر مشرف نے ججوں کو نجی جیلوں کے اندر محبوس کر دیا تھا اور ایسا کسی بادشاہ، کسی شہنشاہ، کسی سلطان یا کسی فرعون نے بھی نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اب مشرف یہ غلط بیانی کر رہے ہیں کہ انہیں ججوں کو برطرف اور گرفتار نہیں کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر مشرف نے ججوں کو گرفتار نہیں کیا تھا تو وہ کون تھے جن کو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے حکم پر رہا کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف نے غلط بیانی سے کام لیا ہے اور کب تک ایسا شخص صدر کے منصب پر فائز رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مشرف کو محفوظ راستہ نہیں دینا چاہتے، ان کے خلاف آزاد ماحول میں، آزاد عدلیہ کے پاس مقدمہ چلایا جائے اور ان کا اس کیس میں ٹرائل کیا جائے جو چیف جسٹس اور ان کے بچوں کو محبوس رکھنے سے متعلق ہے اور جس کی ایف آئی آر اسلام آباد کے ایک تھانے میں درج ہے۔ | اسی بارے میں سابق سفیر لانگ مارچ کے حامی08 June, 2008 | پاکستان وکلاء لانگ مارچ، آغاز اب سکھر سے06 June, 2008 | پاکستان ملک بھر میں وکلاء کا عدالتی بائیکاٹ 08 May, 2008 | پاکستان فوجیوں پر مقدمہ چلائیں، فوجیوں کا مطالبہ04 June, 2008 | پاکستان مستعفی نہیں ہوں گا: پرویز مشرف 07 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||