’لانگ مارچ‘: نمبروں کا کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لانگ مارچ کا آخری مرحلہ شروع ہو گیا ہے اور وکلاء کا قافلہ دارالحکومت کے لیے رواں دواں ہے۔ اسلام آباد میں جمعہ کے روز پہنچنے والے اس قافلے کے استقبال کے حوالے سے تیاریاں شروع ہیں۔ یہ تیاریاں نہ صرف وکلاء اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے ہو رہی ہیں بلکہ حکومت بھی اپنی تیاریوں میں مصروف ہے۔ پریڈ گراؤنڈ کو جو کہ اسلام آباد میں ایوان صدر کے بالکل سامنے واقع ہے، بالکل بند کردیا گیا ہے۔ آدھے راستے میں کنٹینرز کو جوڑ کر سٹیج بنایا جا رہا ہے جبکہ دونوں اطراف کو شامیانے لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ وہاں پر موجود اعلیٰ پولیس حکام ایک طرف کھڑے بات چیت کر رہے تھے اور ساؤنڈ سسٹم والے افراد اپنے انتظامات میں مصروف تھے۔ ایک جانب ایک نجی ٹی وی کا کیمرہ مین گاڑی پر چڑھے فلم بنا رہا تھا۔ کچھ دور ہی سے نعروں کی آواز سنائی دی اور معلوم ہوا کہ ڈسکہ بار کے اراکین پہنچے ہیں۔ بیس لوگوں پر مشتمل اس قافلے نے نعرہ بازی کرتے ہوئے سٹیج کے پیچھے جانے کی کوشش کی۔ پولیس حکام فوراً ایکشن میں آ گئے اور ان کا تعاقب کرتے ہوئے روکا۔ سٹیج کے پیچھے کچھ فاصلے پر خاردار تار ڈالی گئی ہے۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ اس سٹیج کے پیچھے کسی کو آنے کی اجازت نہیں ہے۔ ’اور خاص طور پر اس خاردار تار کے پار کا علاقہ بند کیا گیا ہے۔ کل کسی کو اس تار کے پار جانے کی اجازت نہیں ہے۔‘ وہاں سے نکلنے پر ڈی چوک یعنی وہ راستہ جو کے پارلمنٹ لاجز کی طرف جاتا ہے وہاں کھڑے چند اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں سے جب پوچھا گیا کہ ان کو کیا اطلاعات ہیں کہ کتنے افراد کے مجمع کی توقع کی جا رہی ہے تو انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ نہیں تو پچھتر ہزار تو ضرور ہوں گے۔ ان کو جب یہ بتایا گیا کہ وزیر اطلاعات نے رات گئے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ پندرہ سے پچیس ہزار افراد، تو وہ ہنس پڑے اور کہا ’وہ سیاسی بیان ہے جناب آپ کس کی باتوں میں آ گئے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ کچھ دیر پہلے مشیر داخلہ رحمٰن ملک یہاں آئے تھے اور انہوں نے کہا ہے کہ کل کتنی ہی مار کیوں نہ پڑے اپنی جگہ نہیں چھوڑنی۔
ایمبیسی روڈ سے ہوتے ہوئے آبپارہ چوک پر پہنچے تو رونق لگی ہوئی تھی۔ وہاں پر قائم سبیل پر جماعت اسلامی کے کارکن بیٹھے تھے اور جماعت کے اعلیٰ حکام گاہے بگاہے چکر لگا رہے تھے اور انتظامات کا جائزہ لے رہے تھے۔ ایک کارکن سے جب پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں کتنے کا مجمع کل پہنچے گا تو ان کا خیال بھی یہی تھا کہ ایک لاکھ تک۔ ان میں سے ایک کارکن نے کہا ’اتنا مجمع تو ضرور ہو گا کیونکہ جماعت کے امیر قاضی حسین احمد بھی پہنچ رہے ہیں اور مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف بھی۔
’جب ان سے کہا گیا کہ نواز شریف تو نہیں آ رہے تو ان کا کہنا تھا ’ابھی مسلم لیگ نواز کے اسلام آباد سے قومی اسمبلی کے رکن ڈاکٹر طارق آئے تھے اور انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی کی صورتحال کے مد نظر نواز شریف کی آمد کا اعلان نہیں کیا جا رہا۔‘ ان کارکنوں سے جب پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں معزول چیف جسٹس بحال ہو جائیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی سمجھ نہیں آرہی کہ ایک طرف تو پانی کا انتظام اور دوسری طرف ججوں کو بحال کرنے پر صاف مؤقف بھی اختیار نہیں کرتی۔ اس سبیل کے ساتھ ہی سی ڈی اے کی ایمبولینس کھڑی تھی اور کچھ ہی فاصلے پر سرحد پولیس کے کچھ اہلکار۔ آبپارہ چوک سے سیدھی اسلام آباد ہائی وے پر پہنچے تو جگہ جگہ بینرز لانگ مارچ کے قافلے کے استقبال کے لیے آویزاں تھے۔ اسلام آباد ہائی وے پر عام طور پر یا تو کسی غیر ملکی سربراہ مملکت کے آنے پر بینرز لگے دیکھے گئے ہیں اور یا پھر کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی منانے پر۔ فیض آباد پر آتے ہی لانگ مارچ کے حوالے سے سرگرمیوں کا احساس ہوا۔ پوری کشمیر روڈ پر پاکستان مسلم لیگ نواز کے پوسٹرز اور حنیف عباسی کی طرف سے بینر۔ کچھ کم تعداد میں عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف کے بھی قافلے کے استقبال کے حوالے سے پوسٹر لگے ہوئے تھے۔ تاہم پوسٹر اور بینر لگنے کا کام جاری تھا۔
لیاقت باغ پہنچنے پر ایک ویران باغ ملا اور اس کے گیٹ کے سامنے محمد فقیر سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی تصویر کے سامنے اگر بتیاں جلا رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ستائیس دسمبر سے ادھر ہی ہیں۔ ’میرے دادا اور والد دونوں ذوالفقار علی بھٹو کے جیالے تھے اور اب میں اپنی قائد کو کیسے چھوڑ کر گھر بیٹھ سکتا ہوں۔‘ ان سے جب معزول چیف جسٹس اور لانگ مارچ کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا ’باسٹھ یا تریسٹھ افراد ضروری ہیں یا سولہ کروڑ عوام؟ یہ آ کر کیا انصاف دیں گے۔ آپ میرے ساتھ چلیں اور جس جج کو خریدنا ہو میں خرید کر دیتا ہوں۔‘ تو کیا وہ آصف زرداری کی پالیسی کے حق میں ہیں تو وہاں کھڑے پیپلز پارٹی کے ایک کارکن نے کہا ’اس کو کیا معلوم سیاست کیا ہے اس کو خود سیاست کرتے چھ ماہ ہوئے ہیں۔‘ فقیر محمد کا کہنا تھا کہ یہ سب صدر مشرف کو بلیک میل کرنے کا طریقہ ہے اور نادان عوام ان رہنماؤں کی موتی پروئے ہوئے جملوں میں آ جاتی ہے۔ وہاں سے واپسی کے لیے نکلا تو مسلم لیگ نواز کا ایک بہت بڑا کیمپ لگا ہوا تھا جہاں پر بتایا گیا کہ انہوں نے ایک ہزار افراد کے کھانے کا بندوبست کیا ہوا ہے۔ اس سارے سفر میں سیاسی جماعتوں اور وکلاء سے ملاقات بھی ہوئی اور بات چیت بھی لیکن کوئی عام شہری نہیں ملا جو کہ پوسٹر یا بینر اٹھائے معزول چیف جسٹس کی بحالی کے لیے نعرہ مار رہا ہو۔ ایک دوکان پر رکا اور لانگ مارچ کے بارے میں دریافت کیا تو اس دوکان دار کا کہنا تھا ’اس مہنگائی میں میں اپنا گھر بار چلانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میرے لیے میرا خاندان زیادہ ضروری ہے۔‘ | اسی بارے میں ’اسوقت صدرنہیں، پارلیمان رکاوٹ ہے‘10 June, 2008 | پاکستان ’پارلیمان کےگھیراؤ کے حق میں نہیں‘11 June, 2008 | پاکستان اسلام آباد میں سخت سکیورٹی10 June, 2008 | پاکستان لانگ مارچ ابتدائی مرحلہ مکمل10 June, 2008 | پاکستان وکلاء کا قافلہ بہاولپور پہنچ گیا10 June, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی، وکلاء کے قافلے روانہ09 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||