BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 June, 2008, 18:49 GMT 23:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وکلاء سے معاہدہ: شاہراہِ دستور بند

اسلام آباد سکیورٹی
راولپنڈی کینٹونمنٹ کے علاقے سے گزرنے کی اجازت نہیں ہو گی
وزیر اطلاعات شیری رحمٰن نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں کہا کہ وکلاء برادری اور حکومت میں ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت ڈپلومیٹک انکلیو سے لے کر سکرٹیریٹ تک کا علاقہ سیل کردیا گیا ہے۔

پریس بریفنگ میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومت کم از کم پندرہ سے بیس ہزار افراد متوقع کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شاہراہِ دستور کا راستہ سکیورٹی کے تحت بند کیا گیا ہے اور یہ معاہدہ حکومت نے اپنی اتحادی جماعتوں کو بھروسے میں لے کر کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وکلاء قافلے کا رستہ جو متعین ہوا ہے وہ فیض آباد سے زیرو پوائنٹ اور وہاں سے سہروردی روڈ، ایمبیسی روڈ اور پریڈ گراؤنڈ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس راستے کے علاوہ کوئی متبادل راستہ اختیار نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قافلے کے شرکاء کے لیے اسلام آباد انتظاممیہ پانی فراہم کرے گی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری نے کھانے کا بندوبست کیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ کھانا سب کے لیے تو کافی نہیں ہو گا اس لیے وہاں سٹال لگے ہوں گے جہاں سے کھانا خریدا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سٹیج پر وکلاء برادری ہی ہو گی جبکہ حکومتی لوگ یا تو مانیٹرنگ روم میں ہوں گے یا پھر اپنی وزارتوں میں۔

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ وکلاء کا مطالبہ تھا کہ آرمی ہاؤس راولپنڈی کے سامنے سے گزرتے ہوئے اسلام آباد پہنچیں تو شیری رحمٰن نے کہا کہ کنٹونمنٹ کا علاقہ ممنوعہ ہے اور وہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

کسی سانحے کی صورت میں انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت ذمہ داری حکومت اور لانگ مارچ کی انتظامیہ کی بھی ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ شاہراہ دستور بند کرنے اور ایک خاص رستہ متعین کرنے کا مقصد یہ ہے کہ شہر میں جو خوف پھیلا ہوا ہے اس کو کم کیا جائے۔ انہوں نےکہا کہ اطلاعات ہیں کہ اسلام آباد میں تین غیر ملکی بینک کل بند ہوں گے۔

واضح رہے کہ جمعہ کو سفارتخانوں کے ویزا دفاتر بھی بند ہوں گے۔

انہوں نے صدارتی ترجمان راشد قریشی کے ساتھ میٹنگ کے بارے میں کہا کہ انہوں نے ایک خاص میٹنگ کی کوریج کے بارے میں سوال اٹھایا تھا اور پی ٹی وی کے ایم ڈی نے انہیں بتایا کہ ادارے کو کوئی نوٹیفیکیشن موصول نہیں ہوا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد