گرم موسم اور آزاد عدلیہ کے شیدائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے شدید گرم اور حبس والے موسم میں آزاد عدلیہ کے شیدائیوں نے میلہ کا سا سماں صبح سے باندھ رکھا ہے۔ سینکڑوں کی تعداد میں ملک کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے وکلاء، سیاسی و سماجی کارکن جمع ہو رہے ہیں۔ ان کی تعداد میں گزرتے وقت کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ ٹولیوں کی شکل میں صوبہ سرحد کے دیر اور میانوالی جیسے علاقوں سے وکلاء اور سیاسی کارکن صدر پرویز مشرف کے خلاف دل کی بھڑاس نکالتے چلے آ رہے ہیں۔ انہوں نے سیاہ پٹیاں اور بینرز اور پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے ہیں۔ پریڈ گراونڈ کو تین کنٹینروں سے دو حصوں میں تقسم کیا گیا ہے۔ اس سے کچھ دور وکلاء رہنماؤں کے بیٹھنے اور خطاب کا انتظام بھی ایک دو کنٹینروں پر کیا گیا ہے۔ پنڈال کو چاروں جانب عدلیہ کی آزادی اور ججوں کی بحالی کے نعروں سے سجے بینروں نے بھرا ہوا ہے۔ تھوڑی دور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے بھی وکلاء کے حق میں جیو کے دفاتر کے سامنے وکلاء سے اظہار یکجہتی کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ صحافیوں کی سہولت کے لیے محکمہ اطلاعات نے بھی ایک کیمپ لگایا ہے لیکن وہاں بیٹھنے کا ہی انتظام تھا، کسی فیکس یا فون کی سہولت نہیں تھی۔ پانی کا انتظام حکومت نے تو ٹینکروں کے ذریعے کیا ہے لیکن ہر آنے والا اپنے ساتھ بھی پانی کی ایک آدھ بوتل ضرور لایا ہے۔ اس کے علاوہ کھانے پینے کی اشیاء اور جوس کے سٹال بھی لگائے گئے ہیں جہاں قیمتاً یہ اشیاء خریدی جاسکتی ہیں۔ مرد و زن کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر عارضی بیت الخلاء بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔ ان کی موجودگی کی اطلاع سائن بورڈز سے کی گئی ہے۔ حیرت کی بات میرے قیام کے دوران پریڈ گراونڈ میں صرف قومی ترانوں کا بجانا تھا۔ نہ وکلاء تحریک کے حق میں کوئی گیت نہ ترانہ۔ وکلاء رہنما اطہر من اللہ بھی لانگ مارچ کا ساتھ دینے کی بجائے اب پریڈ گراونڈ میں نجی ٹی وی چینلز کو 'ایکسکلیوسو' خبریں دے رہے تھے۔ ماضی کے احتجاج کی طرح اس مرتبہ بھی میڈیا کی شاید توجہ حاصل کرنے کے لیے انوکھے قسم کے احتجاج بھی دیکھے جاسکتے تھے۔ کوئی قمیض اتار کر تو کوئی زنجیریں پہن کر اپنی مشکلات سے عوام کو آگاہ کر رہا تھا۔ وکلاء کا احتجاج اسلام آباد تک تو پہنچ گیا۔ اب آگے کیا ہوگا سب کی نظریں اس بات پر ہیں۔ کیا یہ وکلاء کا آخری تیر بھی جلد بازی میں چلا دیا گیا یا اس کے بعد بھی کوئی پتہ اعتزاز احسن نے چھپا رکھا ہے۔ اس بات کا اعلان وہ آج خطاب میں شاید کر دیں۔ ورنہ لوگ اس لانگ مارچ کی افادیت کے بارے میں آئندہ چند روز میں سوالات ضرور اٹھائیں گے۔ | اسی بارے میں وکلاء قافلے کا لاہور میں شاندار استقبال12 June, 2008 | پاکستان سکھر تا ملتان: شرکاء کم مگر پرجوش12 June, 2008 | پاکستان لانگ مارچ میں لال بینڈ12 June, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی، وکلاء کے قافلے روانہ09 June, 2008 | پاکستان لانگ مارچ کے لیے چندے کی اپیل04 June, 2008 | پاکستان ’ججز بحالی کے لیے لانگ مارچ ہوگا‘16 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||