وکلاء قافلے کا لاہور میں شاندار استقبال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عدلیہ بحالی کے لیے وکیلوں کا لانگ مارچ لاہور پہنچ گیا اور اب وکلاءاپنی آخری منزل اسلام آباد کی جانب روانہ ہورہے ہیں جہاں انہوں اعلان کے مطابق پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرنا ہے۔ لانگ مارچ اپنے دوسرے مرحلے میں ملتان سے لاہور تک کی مسافت آدھے دن اور پوری رات میں مکمل کی اور صبح پو پھٹنے پر وکلاءاور لانگ مارچ کے دیگر شرکاء لاہور میں داخل ہوئے۔ ملتان میں معزول چیف جسٹس کے خطاب کے بعد لانگ مارچ کا یہ قافلہ ساہیوال کی طرف چل پڑا۔ ساہیوال میں علی احمد کرد اور دیگر رہنماؤں نے وکلاء سے خطاب کیا۔ مسلم لیگ نون کے سرکردہ رہمنا مخدوم جاوید ہاشمی بھی ملتان سے قافلے کے کے ساتھ ساتھ رہے۔ لانگ مارچ اوکاڑہ پہنچا تو کچہری چوک اور شہر کے دیگر مقامات پر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور عام شہریوں نے آتشبازی، گل پاشی اور دھول کی تھاپ پر اس کا استقبال کیا۔ اوکاڑہ شہر کے اندر سے ہوتا ہوا جیسے ہی قافلہ جی ٹی روڈ پر آیا تو اس نے ایک دم شکل بدل دی۔
قافلے کی قیادت کرنے والے علی احمد کرد اپنی گاڑی قافلے سے الگ کر کے اس سے آگے نکل گئے، دیگر گاڑیاں بھی آگے پیچھے ہو گئیں۔ قافلے کو پتوکی میں وکلاء نے روک لیا تو ایک بار پھر وہ ترتیب میں آگیا لیکن وہاں سے چلتے ہی پھر اس میں بی ترتیبی آگئی۔ قافلہ جب صبح کے وقت جب لاہور میں داخل ہوا تو ملتان روڈ کے ایک استقبالی کیمپ کے علاوہ کہیں بھی بڑا استقبال نہیں ہوا۔ کئی مقامات پر استقبالی کیمپ تو موجود تھے لیکن وہاں کوئی سیاسی کارکن موجود نہیں تھا۔ جس کی وجہ قافلے کی تاخیر اور پوری رات گذر جانا بتایا جا رہا ہے۔ اوکاڑہ اور دیگر مقامات پر وکلاء اور سیاسی کارکنان عدلیا کی بحالی کیلئے اور مشرف کے خلاف شدید نعرہ بازی کرتے رہے۔ پتوکی تک لانگ مارچ کے ساتھ پولیس بھی چلتی رہی لیکن جیسے ہی لانگ مارچ پتوکی سے آگے بڑھا تو پولیس واپس چلی گئی اور قافلے نے لاہور تک کا سفر سیکیورٹی کے بغیر طے کیا۔ ادھر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری بدھ کی شام ہی بذریعہ ہوائی جہاز ملتان سے لاہور پہنچ گئے تھے ۔لاہور ائر پورٹ پر وکلاءاور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا اور انہیں ایک جلوس کی شکل میں لاہور ہائی کورٹ لے جایا گیا۔ راستے میں جگہ جگہ سیاسی جماعتوں نے استقبالی کیمپ لگا رکھے تھے جن سے جلوس کے شرکاء پر گل پاشی کی جاتی رہی۔ سب سے زیادہ مسلم لیگ نون کے کیمپ اورکارکن تھے لیکن انکے علاوہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کےکارکن بھی متحرک نظر آئے۔ پوری مال روڈ ساری رات ترانوں اور سیاسی گانوں سے گونجتی رہی۔ جبکہ مال روڈ اور دیگر مقامات پر آویزان بینروں پر ’عدلیہ کی جنگ نواز شریف کے سنگ‘، ’عدل یا جدل‘، ’ہم ملک بچانے نکلے ہیں آؤ ہمارے ساتھ چلو‘، جیسے نعرے درج تھے۔ لاہور ائر پورٹ ، ٹھوکر نیاز بیگ سے ہائی کورٹ کی طرف جانے والے تمام راستوں پر جسٹس افتخار محمد چوھدری، نواز شریف اور شہباز شریف کی تصاویر آویزاں تھیں۔ | اسی بارے میں ’اسوقت صدرنہیں، پارلیمان رکاوٹ ہے‘10 June, 2008 | پاکستان اسلام آباد میں سخت سکیورٹی10 June, 2008 | پاکستان لانگ مارچ ابتدائی مرحلہ مکمل10 June, 2008 | پاکستان وکلاء کا قافلہ بہاولپور پہنچ گیا10 June, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی، وکلاء کے قافلے روانہ09 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||