BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 May, 2008, 21:26 GMT 02:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ججز بحالی کے لیے لانگ مارچ ہوگا‘

ججوں کی بحالی
پاکستان بھر میں وکلاء معزول ججوں کی بحالی کی تحریک چلا رہے ہیں
پاکستانی وکلاء کی نمائندہ تنظیم پاکستان بار کونسل نے معزول ججوں کی بحالی کے لیے لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی تاریخ کا تعین سترہ مئی کو لاہور میں ہونے والی پاکستان وکلاء کانفرنس میں کیا جائےگا۔

اس بات کا اعلان پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین سید رحمان اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی جسٹس ریٹائرڈ رشید رضوی نے بار کونسل کے اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کےنمائندوں سے بات چیت میں کیا۔

خیال رہے کہ پاکستان بار کونسل کے زیرِ اہتمام ملک بھر کے وکلاء کے منتخب نمائندوں کی کانفرنس سینچر سترہ مئی کو لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میں ہو رہی ہے جس میں معزول ججوں کی بحالی کے لیے جاری تحریک کو تیز کرنے کے لیے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔

جمعہ کی شام ہونے والے پاکستان بار کونسل کے اجلاس میں بائیس میں سے اٹھارہ ارکان نے شرکت کی جبکہ وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک، سابق وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا سمیت چار ارکان اجلاس میں شرکت نہ کرسکے۔

پاکستان بارکونسل کے وائس چیئرمین سید رحمان اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی جسٹس ریٹائرڈ رشید رضوی نے ساڑھے چار گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ اجلاس میں کثرت رائے سے لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لانگ مارچ ججوں کی بحالی کے لیے آخری آپشن نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بار کونسل نے اعلان مری پر عمل درآمد کے لیے لچک کا مظاہرہ کیا اور اس مقصد کے لیے انتظار بھی کیا لیکن کچھ نہیں ہوا۔

سید رحمان نے کہا کہ وکلاء کی جدوجہد معزول ججوں کی بحالی تک جاری رہے گی اور وکلاء خاموش نہیں بیٹھیں گے بلکہ ہر قسم کی جدوجہد کریں گے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بار کونسل ان ججوں کو جج تسلیم نہیں کرتی جنہوں نے تین نومبر سنہ دو ہزار سات کو پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا۔

لانگ مارچ ججوں کی بحالی کے لیے آخری آپشن نہیں:رشید رضوی

معزول ججوں کی بحالی کے پارلیمان کو مہلت دینے کے سوال سید رحمان نے کہا کہ یہ معاملہ پارلیمان کے سامنے نہیں ہے اور جب یہ پارلیمان میں آئے گا تو اس وقت دیکھیں گے۔

بار کونسل کے چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی رشید رضوی نے بتایا کہ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت تمام معزول ججوں کو صوبوں کی بار ایسوسی ایشنوں میں مدعو کریں گی۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بار کونسل نے سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن کے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کے بارے میں فیصلہ ان پر چھوڑ دیا ہے اور اعتزاز احسن خود یہ فیصلہ کریں گے کہ ان کو ضمنی انتخاب میں حصہ لینا چاہئے یا نہیں۔ان کے بقول پاکستان بارکونسل اس معاملہ میں فریق نہیں بناچاہتی ہے۔

واضح رہے کہ اعتزاز احسن نے جمعرات کو پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ ان کے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ وکلاء کی اس کانفرنس میں کیا جائے جس میں وکلا تحریک کے حوالے سے آئندہ کی حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔

یاد رہے کہ سینچر سترہ مئی کو وکلاء کے منتخب نمائندوں کی ملک گیر کانفرنس لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن میں ہورہی ہے جس میں صوبائی بار کونسلوں، ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشنوں کے علاوہ ضلعی بار کے عہدیدار شرکت کریں گے اور بند کمرے میں ہونے والے اس کانفرنس میں وکلاء تحریک کو تیز کرنے کے لیے آئندہ کی حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد