BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 May, 2008, 09:32 GMT 14:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ملک بھر میں وکلاء کا احتجاج، بائیکاٹ

وکلاء کا اجلاس
وکلاء رہنماؤں نے کہا کہ اب وکلاء اور سول سوسائٹی کو احتجاج سے مزید روکا نہیں جاسکتا ہے
پاکستان بھر میں وکلاء بارہ مئی کے واقعہ اور اتحادی حکومت کے وعدے کے مطابق ججوں کے بحال نہ ہونے کے خلاف یوم سیاہ منا رہے ہیں، اس احتجاج میں سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ساتھ آل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (اے پی ڈی ایم) بھی شریک ہے۔

اسلام آباد سے ذیشان ظفر کے مطابق آج وکلاء اور سول سوسائٹی نے اعتزاز احسن کی قیادت میں نجی ٹی وی چینل جیو کے دفتر سے پارلیمنٹ ہاوس تک احتجاجی مظاہرہ کیا۔

اس موقع پر اعتزاز احسن نے بارہ مئی دو ہزار سات کو کراچی میں ہونے والے پر تشدد واقعات کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معزول ججوں کو بحال کرنے کی دوسری ڈیڈ لائن گزرنے سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوئے اور ہم بھر پور عزم کے ساتھ معزول ججوں کو بحال کروائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب وکلاء سترہ مئی کو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے تو اس بار بھی سول سوسائٹی اور پاکستانی عوام وکلاء تحریک کا بھر پور ساتھ دیں گے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ بارہ مئی کی ڈیڈ لائن پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان نےدی تھی جس کو وکلاء نے تسلیم کیا تھا اور آج اس ڈیڈ لائن کا آخری دن بھی گزر گیا لیکن ہمارے پیچھے موجود قومی اسمبلی میں کوئی اجلاس نہیں ہو رہا ہے اور نہ ہی کوئی قرداد پیش کی گئی ہے۔

اعتزاز سے اپیل
 اگر جج بحال نہ ہوں تو اعتزاز احسن آزادانہ حیثیت سے انتخاب لڑیں، وکلاء گھر گھر جاکر ان کے لیے ووٹ مانگیں گے
وکلاء رہنما

اس مظاہرے میں وکلاء سے اظہار یکجہتی کے لیے سول سوسائٹی کے اتحاد عوامی جہموری اتحاد کے نمائندوں نے بھی شرکت کی جو عدلیہ کی آزادی کے حق میں اور صدر پرویز مشرف کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔

کراچی سے ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کراچی اور ملیر میں وکلاء تنظیموں نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ہے۔ انہوں نے سیاہ پٹیاں باندھیں اور بار کے دفاتر پر سیاہ جھنڈے لہرائے۔ احتجاجی اجلاسوں میں گزشتہ برس بارہ مئی کو رونما ہونے والے واقعات کے ملزمان کی عدم گرفتاری پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس بارہ مئی کو کراچی میں معزول چیف جسٹس افتخار چوہدری کی آمد پرہنگامہ آرائی میں سینتالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

کراچی میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر رشید رضوی اور صلاح الدین گنڈہ پور، شاہد کلیمی، محمود الحسن اور دیگر وکلاء رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال قبل اس شہر کے شہریوں کے ساتھ اس وقت کی حکومت اور ارباب اختیار نے خون کی ہولی کھیلی تھی اور شہر کو یرغمال بنایا تھا، سڑک پر موت رقصاں تھی۔ آج ایک سال کے بعد بھی اس میں کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آ رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اٹھارہ فروری کے بعد عوام نے تبدیلی کے جو خواب دیکھےتھے وہ چکنا چور ہوتے نظر آ ر ہے ہیں۔اور اعلان کیا کہ بارہ مئی، نو اپریل اور تین نومبر کے دنوں کو وکلاء برادری ہمیشہ منائےگی چاہے کوئی بھی بر سراقتدار ہو۔

عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے بھی کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا

رشیدر رضوی اور دیگر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اب نوجوان وکلاء اور سول سوسائٹی کو احتجاج سے مزید روکا نہیں جاسکتا ہے۔ سولہ مئی کے بعد اس ملک میں جو کچھ ہوگا اور جو تحریک چلے گی اس کی ذمہ دار اتحادی حکومت ہوگی۔

وکلاء رہنماؤں نے سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن سے اپیل کی کہ اگر جج بحال نہ ہوں تو وہ آزادانہ حیثیت سے انتخاب لڑیں، وکلاء گھر گھر جاکر ان کے لیے ووٹ مانگیں گے۔

کراچی میں بارہ مئی کے حوالے سے سیاسی جماعتوں نے بھی پروگرام ترتیب دیے ہیں۔ اے پی ڈی ایم کی جانب سے شام کو احتجاجی جلوس نکالا جائےگا، متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے ہلاک ہونے والے کارکنوں کی یاد میں جماعت کے دفتر میں جلسہ منعقد کیا جائےگا جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے کارکنوں کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کی جائےگی۔

بلوچستان
کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار عزیزاللہ خان نے بتایاہے کہ بلوچستان بار ایسوسی ایشن کی اپیل پر صوبے بھر میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے۔ بلوچستان کے بیشتر شہروں میں بارہ مئی کے واقعہ کو ایک سال پورا ہونے کے حوالے سے یوم سیاہ منایا جا رہا ہے جبکہ وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے۔

’بہت مہلت دی‘
 نئی حکومت کو بہت مہلت دی، ان کی نیک نیتی پر شک نہیں کیا لیکن جو باتیں سامنے آئی ہیں ان کے تحت وہ آمر کے سامنے سر نہ جھکانے والے ججوں کی بحالی میں مخلص نہیں ہیں۔ اس کے برعکس ان ججوں کو جنہوں نے رات کی تاریکی میں جاکر حلف اٹھایا ہے ان کی بحالی کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے
وکلاء رہنما

کوئٹہ میں اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے دفاتر پر بھی سیاہ پرچم لہرائے گئے ہیں جبکہ کارکنوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی ہیں۔ بلوچستان کے دیگر شہروں موسی خیل ژوب لورالائی چمن قلعہ سیف اللہ میں بھی آج یوم سیاہ منایا جا رہا ہے۔

پنجاب

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کےمطابق پنجاب کے وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔ بار ایسوسی ایشنز کی عمارتوں پر سیاہ پرچم لہرائےگئے اور احتجاجی اجلاس ہوئے۔

صوبائی دارالحکومت میں لاہور ہائی کورٹ بار اور لاہور بار کے الگ الگ احتجاجی اجلاس ہوئے جس میں بارہ مئی کے واقعہ کی مذمت کی گئی۔

کراچی میں بارہ مئی کے حوالے سے سیاسی جماعتوں نے بھی پروگرام ترتیب دیے ہیں

پاکستان بار کونسل کے رکن حامد خان نے ہائی کورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ججوں کی بحالی کے معاملہ پر جو وعدے کیے گئے تھے ان کو پورا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے حوالے سے وکلاء تنظیمیں جو لائحہ عمل ترتیب دیں گے اس میں لانگ مارچ کا بھی ایک آپشن موجود ہے۔

دوسری جانب لاہور کی ضلع بار کے صدر منظور قادر نے اپنے خطاب میں مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف سے کہا ہے کہ وہ حکومت سے الگ ہوکر وکلاء تحریک میں شامل ہوجائیں۔اجلاس کے دوران آصف علی زرداری کے خلاف ’قوم سے غداری آصف زرادری، کےنعرے لگائے گئے۔اجلاس کے بعد وکلاء نے پی ایم جی چوک میں احتجاجی دھرنا بھی دیا اور پرامن طور پر منشتر ہوگئے۔

لاہور کے علاوہ فیصل آباد،گوجرنوالہ،گجرات، سیالکوٹ، ملتان، ساہیوال، بہاولپور سمیت صوبے کے دیگر شہروں میں وکلاء نے احتجاج کیا۔

پشاور
پشاور سے ہمارے نمائندہ رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق صوبہ سرحد میں بھی وکلاء تنظیموں اور سیاسی جماعتوں نے سانحہ بارہ مئی کے حوالے سے یوم سیاہ منایا اور احتجاجی مظاہرے کیے۔

پیر کو پشاور ہائی کورٹ میں وکلاء کی تمام تنظیموں کا ایک جنرل باڈی اجلاس پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عبدالطیف آفریدی ایڈوکیٹ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں تحریک انصاف، جماعت اسلامی، پختون خواہ ملی عوامی پارٹی اور سول سوسائٹی کے مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس میں ایک قرارداد متفقہ طورپر منظور کی گئی جس میں متحدہ قومی موومنٹ کو حکومت میں شامل کیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ ایک اور قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ تمام معزول جج بشمول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو فوری طورپر بحال کیا جائے اور مہنگائی اور بیروزگاری کا خاتمہ کیا جائے۔

اجلاس کے اختتام پر وکلاء اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے پشاور ہائی کورٹ اور جسٹس چوک تک ایک احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا جس میں صدر پرویز مشرف کے خلاف شدید نعرہ بازی کی گئی۔

اسی بارے میں
کس کے کتنے ہلاک ہوئے؟
12 May, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد