سکھر تا ملتان: شرکاء کم مگر پرجوش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معزول ججوں کی بحالی کے لیے وکیلوں کا لانگ مارچ اپنی آخری منزل اسلام آباد کی طرف رواں دواں ہے۔ اس لانگ مارچ کا اصل رنگ لاہور کے بعد شاید ابھر کر سامنے آئے۔ کیونکہ سکھر سے ملتان تک وکلاء کے ساتھ جو سفر کیا اس دوران کسی جگہ پر کوئی رکاوٹ آئی نہ کوئی پولیس ناکہ لگا ہوا تھا۔ سکھر سے وکیلوں کے لانگ مارچ کی ابتدا کچھ دیر سے ہوئی تو کوئٹہ اور کراچی سے آئے ہوئے وکلاء نے ناشتے پر اپنی برہمگی کا اظہار کیا اور کہا کہ سکھر کے وکیلوں کو جگانا پڑیگا۔ شاید اسی برہمگی کی وجہ سے لانگ مارچ کی سربراہی کرنے والے علی احمد کرد نے سکھر میں کوئی خطاب کیا نہ سفر کی رسمی ابتدا۔ وہ اپنی کار میں دو وکیل ساتھیوں سمیت اگلی منزل کی طرف روانہ ہوگئے۔ میڈیا کی تمام ٹیمیں لانگ مارچ کی رسمی ابتداء کے چکر میں سکھر ہائی کورٹ بار کےچکر لگاتی رہی مگر تمام وفود سفر پر الگ الگ ٹولیوں میں روانہ ہونے لگے تو ہم نے بھی قومی شاہراہ پر چند سیاسی جماعتوں کی گاڑیوں کو نظر میں رکھتے ہوئے اپنے سفر کا آغاز کیا ۔ سکھر سے شروع ہونے والے قافلےمیں وکلاء سے زیادہ تعداد ان سیاسی جماعتوں کے کارکنان کی تھی جنہوں نے لانگ مارچ کی حمایت کی ہے۔ مسلم لیگ نواز ،جماعت اسلامی، تحریک انصاف، سندھی قوم پرست جماعت عوامی تحریک اور لیبر پارٹی کے کارکنان اپنی اپنی ائر کنڈیشنڈ کوچز میں سوار لانگ مارچ قافلے کے ہمراہ تھے۔ پیپلزپارٹی سےوابستہ وکیلوں نے لانگ میں شرکت کی نہ ہی وہ کسی تقریب میں سرگرم نظر آئے۔ سکھر سے لانگ مارچ کے ابتدائی مناظر دیکھ کر مجھے گزشتہ سال مارچ کی وہ شام یاد آگئی جب معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سکھر بار سے خطاب کرنے پہنچے تھے۔ انہیں سکھر ائرپورٹ سے موجودہ وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے ان کا استقبال کیا تھا اور ہزاروں کارکنوں کے قافلے کے ساتھ انہوں نے پانچ منٹ کےفاصلے کا راستہ تین گھنٹوں میں طے کیا تھا۔ ان کی ایک جھلک دیکھنے کےلیے سندھ کےدور دراز علاقوں سے وکیل ہزاروں کی تعداد میں پہنچے تھے۔ مگر اب دس جون کو سکھر سے جو قافلہ لانگ مارچ کے لیے روانہ ہوا وہ ایک اتنا مختصر سا قافلہ تھا کہ موٹر وے پولیس کو کسی جگہ پر قومی شاہراہ عام ٹریفک کے لیے بند کرنا پڑی نہ رکاوٹیں کھڑی کرنا پڑی۔ لانگ مارچ سکھر کے بعد جب ضلع گھوٹکی کی حدود میں داخل ہوئی تو مسلم لیگ نواز کے اقلیتی ایم این اے درشن لال نے ایک پٹرول پمپ پر جسلےکا انتظام کیا تھا جہاں علی احمد کرد نے مختصر خطاب کیا۔ ضلعی گھوٹکی کی مقامی ضلعی بار نے پیپلزپارٹی سے وابستگی کی وجہ سے لانگ مارچ کے شرکاء کا استقبال کیا نہ کوئی تقریب منعقد کی۔ رحیم یار خان کی مقامی بار نے قومی شاہراہ سے متصل ایک فلور مل کےاندر جلسے کا انتظام کیا تھا۔ جہاں پیپلزپارٹی کے ایک بزرگ کارکن پارٹی جھنڈے کے ساتھ نظر آئے۔ انہوں نے ججوں کی بحالی کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی جماعت سے لانگ مارچ میں شرکت نہ کرنے کی ہدایات نہیں ملیں اس لیے انہوں نے لانگ مارچ میں بہاولپور تک سفر میں ساتھ دینا ہے ۔ وکیلوں کے لانگ مارچ میں پیپلزپارٹی کی عدم شرکت کو بعض لوگ ایک ہی خاندان کے افراد کےدرمیان تلخ ناراضگی جیسی نظر سے دیکھ رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کھل کر وکیلوں کی مخالفت بھی نہیں کرتی اور حمایت بھی نہیں۔ اور شاخد اسی وجہ سے وکیلوں کی لانگ مارچ میں حکمراں جماعت پیپلزپارٹی یا اس کے سربراہ آصف علی زرداری کو کسی مقام پر حدف تنقید نہیں بنایا گیا۔ رحیم یار خان میں رکے تو لیبر پارٹی کے سرخ جھنڈے اٹھائے کارکنان کے ہجوم میں ایک خاتون نظر آئی جس نے اپنے سینے پر ایک نعرے کا سٹیکر لگایا ہوا تھا جس پر لکھا تھا ’زرداری اپنا وعدہ پورا کرو، ججوں کو فوراً بحال کرو‘۔ مگر لیبر پارٹی کارکنوں نے وہ سٹیکر والا نعرہ پورے سفر میں کسی مقام پر نہیں لگایا۔ لانگ مارچ میں کراچی سے آئی ہوئی خواتین نے جہاں نعروں کی خوشگوار تبدیلی اور انفرادیت پیدا کی وہاں شہری علاقے کی خواتین کو سندھ اور پنجاب کے کئی چھوٹے بڑے قصبوں میں نعرے لگاتے ہوئے اور جھنڈے اٹھائے دیکھ کر مقامی لوگ حیران بھی ہوئے اور خوش بھی ۔ لانگ مارچ کا ایک رنگ وکیلوں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کی دلچسپ نعرے بازی ہے۔ ان کے نعرے زیادہ تر عدلیہ کی آزادی، چیف جسٹس افتخار چودھری کی حمایت اور صدر مشرف کے مخالفت پر مبنی ہیں۔ لانگ مارچ میں خصوصی طور پر صدر مشرف مخالف نعروں نے انوکھا رنگ بھر دیا ہے۔ اپنے نعروں میں کوئی انہیں دو نمبر دے رہا ہے تو کوئی دس نمبر۔ کراچی سے آیا ہوا ایک بزرگ رحیم یار خان میں جھومتے ہوئے نعرے لگا رہا تھا ’بس مشرف بس مشرف، تو ہے نمبر دس مشرف‘۔اس کے مقابلے میں خواتین وکلاء نے نعرے لگانا شروع کیے کہ’ہن کلا بہ کے رو مشرف ،تو بندا نمبر دو مشرف ،ہم ہیں تیرے پیو مشرف‘۔ لانگ مارچ کے شرکاء کی تعداد کم سہی مگر ان کے جذبات اور مقصدیت کی مثالیں سفر کےدوران کئی مقامات پر کئی صورتوں میں نظر آتی رہیں۔ لانگ مارچ میں جہاں اکثر کارکنان ائرکنڈیشنڈ کوچز، کوسٹرز اور گاڑیوں میں سوار تھے وہاں ایک سرخ چھوٹی مگر بغیر ائرکنڈیشنڈ گاڑی میں پورا خاندان سوار تھا۔ اس سرخ گاڑی کو گھر کے بزرگ سربراہ ڈرائیو کر رہے تھے اور ان کے ساتھ ان کی بیگم اور پچھلی سیٹ پر ان کا ایک بیٹا کئی دنوں کے سفری سامان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ تمام راستے انہوں نے اپنی رفتار کم کی نہ کہیں ساتھیوں کے قافلے سے کٹ کر کھڑے ہوئے۔ رات کو جب ہم ملتان پہنچے تو دونوں میاں بیوی نوجوانوں کی طرح چست اور نعرے لگانےمیں مصروف تھے۔ لانگ مارچ میں سفری بے ترتیبی ضرور تھی مگر شرکاء کے عزم کو تپتی دھوپ نے بھی مدہم نہیں کیا۔ لانگ مارچ کے شرکاء کا پنجاب کے چھوٹے بڑے شہروں میں پھولوں، شربت، جوس اور ٹھنڈے پانی سے استقبال کیا گیا۔ لانگ مارچ کے بعض شرکاء نے ملتان پہنچ کر بتایا کہ انہیں سندھ پولیس کی طرف سے سختی متوقع تھی مگر جب وہ پنجاب پہنچے تو انہوں نے اپنے سفر کو پولیس پروٹوکول میں ہونیوالا احتجاج سمجھا۔ ملتان بار نے شہر کی تمام ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں سندھ اور بلوچستان سے آئے ہوئے مہمانوں کو رہائشی کمرے فراہم کیے۔انہیں کھانےاور آرام کرنےمیں کوئی دقت محسوس نہ ہوئی۔ کہتے ہیں کہ احتجاجی تحریکوں کو پاکستان جیسے ممالک میں حکومتی سختیاں اور رکاوٹیں زیادہ مضبوط اور کامیاب بناتی ہیں۔ مگر سرکاری پروٹوکول میں پنجاب سے جاری وکلاء لانگ مارچ کے شرکاء کو اس بار اسلام آباد میں کسی حکومتی سختی کی توقع کم ہے ۔ |
اسی بارے میں منزل اب دور نہیں: جسٹس افتخار12 June, 2008 | پاکستان وکلاء قافلے کا لاہور میں شاندار استقبال12 June, 2008 | پاکستان منزل اب دور نہیں: جسٹس افتخار11 June, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی، وکلاء کے قافلے روانہ09 June, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی کے لیے لانگ مارچ17 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||