BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 May, 2008, 12:08 GMT 17:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ججوں کی بحالی کے لیے لانگ مارچ

تازہ ترین خبر
پاکستان بارکونسل کے فیصلے کی روشنی میں وکلاء کا احتجاج بدستور جاری رہے گا
پاکستان میں وکلاء کے منتخب نمائندوں کی کانفرنس میں ججوں کی بحالی کے لیے دس جون کو لانگ مارچ کا اعلان کردیا گیا ہے۔

اس بات کا اعلان پاکستان بارکونسل کےوائس چئرمین سید رحمان نے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن میں ہونے والی آل پاکستان وکلاء نمائندہ کانفرنس کے اختتام پر پریس کانفرنس میں کیا۔


وکلاء کے منتخب نمائندوں کی ملک گیر کانفرنس میں صوبائی بار کونسلوں، ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشنوں کے علاوہ ضلعی بار کے عہدیدار شرکت کی اور بند کمرے میں ہونے والی اس کانفرنس میں وکلاء تحریک کو تیز کرنے کے لیے آئندہ کی حکمت عملی ترتیب دی گئی۔

سید رحمان نے کہا کہ دس جون سے شروع ہونے والے لانگ مارچ کو ’عدلیہ بحالی لانگ مارچ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لانگ مارچ کے طریقۂ کار، مقام، سمت اور راستوں کا تعین کرنے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔

سید رحمان نے اعلان کیاکہ لانگ مارچ سے پہلے چوبیس مئی کو فیصل آباد، اکتیس مئی کو ملتان اور نو جون کو لاہور میں وکلاء کے مزید کنونشن ہوں گے جن میں معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری مہمان خصوصی ہونگے جبکہ دیگر معزول ججوں کو ان قومی کنونشن میں بھی مدعو کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بارکونسل کے فیصلے کی روشنی میں وکلاء کا احتجاج بدستور جاری رہے گا جس کے تحت ہر جمعرات کو ملک بھر کے وکلاء مکمل دن کی ہڑتال کریں گے جبکہ دیگر دنوں میں روزانہ ایک گھنٹے کی علامتی ہڑتال کی جائے گی۔

جج بحال ہوئے تو جشن و چراغاں
 وکلاء کانفرنس میں کیے گئے فیصلے کے مطابق اگر دس جون سے پہلے اعلیٰ عدلیہ کے جج بحال ہو گئے تو اس روز ملک کے طول وعرض میں جشن منایا جائے گا اور کراچی سے خبیر تک چراغاں کیا جائے گا
اعتزاز احسن

اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ وکلاء کانفرنس میں کیے گئے فیصلے کے مطابق اگر دس جون سے پہلے اعلیٰ عدلیہ کے جج بحال ہو گئے تو اس روز ملک کے طول وعرض میں جشن منایا جائے گا اور کراچی سے خبیر تک چراغاں کیا جائے گا۔
ایک سوال پر اعتزاز احسن نےکہا کہ وہ ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ آئندہ دو تین روز میں کریں گے۔

کانفرنس میں ایک قرار داد میں کہا گیا کہ اعلان مری میں تیس دنوں میں ججوں کی بحالی کا جو وعدہ کیا گیا اس کو پورا نہیں کیا گیا ہے جس سے وکلاء بڑی مایوسی ہوئی ہے۔

کانفرنس میں قرارداد کے ذریعے کہا گیا کہ عوام نے وکلاء تحریک کی حمایت کی اور اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات میں ان مشرف مخالف جماعتوں کو ووٹ دے کر کام دیا جنہوں نے عدلیہ کی بحالی اور آزادی کے لیے آواز بلند کی۔
کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے ’گو مشرف گو‘، ’مشرف جو یار ہے، غدردار ہے‘، ’آئے گا دوبارہ، چیف جسٹس‘ اور ’چیف تیرے جان، نثار بے شمار‘ کے نعرے لگائے۔

وزیر اطلاعات شیری رحمٰنججوں کی بحالی
’بحران پیدا ہو گا‘شیری رحمٰن کا ٹیکسٹ بیان
وکلاءہم نہیں مانتے
ججوں کی مجوزہ بحالی میں ایک نئی رکاوٹ
نیا آئینی تصادم؟
ججز کی بحالی - ایک قدم آگے دو قدم پیچھے
منیر اے ملکججوں کی بحالی
حکمران اتحاد کے اس فیصلے کا خیرمقدم
مولانا فضل الرحمنقرارداد سے بحالی
ججوں کی بحالی کے اعلان پر ملا جلا ردِعمل
اسی بارے میں
چیف جسٹس سندھ کی تبدیلی
15 May, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد