منزل اب دور نہیں: جسٹس افتخار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معزول چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ وکلاء تحریک کا کسی منطقی انجام تک پہنچنا ضروری ہے۔ انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں وکلاء برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد عدلیہ سے ہی جمہوریت آگے بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء برادری نے اس طرح کا انقلاب برپا کیا ہے کہ اس کا کسی منطقی انجام تک پہنچنا ضروری ہے اور ’مجھے امید ہیں کہ آپ اس میں کامیاب ہوں گے۔‘ انہوں نے کہا وکلاء برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ لوگوں نے یک جہتی، تہڈیب اور اعتماد کے ساتھ پندرہ مہینے سے اس تحریک کو چلایا ہوا ہے اس لیے آپ قابلِ تحسین ہیں۔ اگر آپ قربانیاں نہ دیتے تو آج کا دن نصیب نہ ہوتا۔ وکلاء کی ہی وجہ سے اس قوم میں بیداری آئی ہے۔‘ معزول چیف جسٹس نے لانگ مارچ میں حصہ لینے والوں سے کہا کہ وہ صبر کا دامن نہ چھوڑیں کیونکہ اب ’منزل بہت دور نہیں بہت قریب ہے۔‘
انہوں نے پاکستانی میڈیا کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کی وجہ سے وکلاء نے 16 کروڑ عوام کو بیدار کیا اور اس وکلاء کی تحریک میں میڈیا کو جتنا بھی خراجِ تحسین پیش کیا جائے وہ کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کے بعض اداروں نے مالی مشکلات کے باوجود وکلاء تحریک کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ اس سے قبل سپریم کورٹ بار کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا وکلاء پاکستان کی تاریخ بدلنے نکلے ہیں اور صدر مشرف اب ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے فرانس کی ملکہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح اس نے کہا تھا کہ اگر روٹی نہیں ملتی تو کیک کھاؤ اسی طرح صدر مشرف بھی کہتے ہیں کہ اگر دال نہیں ملتی تو مرغی کھاؤ۔ اس سے قبل معزول ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء کا لانگ مارچ کا قافلہ جب ملتان سے لاہور پہنچا تو وکلاء نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس تقریب میں حصہ لینےکے لیے معزول چیف جسٹس الگ سے بذریعہ ہوائی جہاز لاہور پہنچے تھے جو ہوائی اڈے سے ساڑھے آٹھ گھنٹے میں ایک جلوس کی شکل میں لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں پہنچے۔ معزول چیف جسٹس نے اپنی تقریر میں لاہور کے شہریوں کا اس پرجوش خیر مقدم کے لیے شکریہ ادا کیا۔ تقریب میں معزول ججوں اور وکلاء رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ درجنوں گاڑیوں، مسافر بسوں، کوچز اور ویگنوں پر سوار وکلاء، سیاسی کارکن، طلباء، مزدور، سماجی تنظیموں کے کارکن اور زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد اس لانگ مارچ میں شریک تھے۔ شدید گرمی کے باوجود لاہور ہائی کورٹ کے پنڈال میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی تقریر سننے کے لیے وکلاء کی ایک بڑی تعداد جمع تھی۔ لاہور کے قریبی شہر پتوکی میں وکیل رہنما علی احمد کرد نے ایک مختصر خطاب میں وکلاء کا شکریہ ادا کیا۔ اس سے قبل خانیوال میں بھی ایک مختصر جلسہ ہوا جس میں وکلاء کے نمائندوں نے خطاب کیا۔ لانگ مارچ کے آغاز پر ملتان میں زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آیا جہاں منگل کو قافلوں کی صورت میں وکلاء اور سیاسی کارکن سینکڑوں کی تعداد میں کراچی اور کوئٹہ کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں سے پہنچے تھے۔
لانگ مارچ ملتان ڈسٹرکٹ بار سے شروع ہوا جہاں اس سے قبل معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے خطاب کیا۔ اس خطاب میں انہوں نے شہریوں کو انصاف کی فراہمی پر زور دیا۔ شدید گرمی اور دھوپ کی پروا کیئے بغیر شہری ہزاروں کی تعداد میں لانگ مارچ کے شرکاء کو رخصت کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ لانگ مارچ کے راستے میں دونوں اطراف شہری لمبی قطاروں میں موجود تھے جو ہاتھ ہلا ہلا کر شرکاء کے ساتھ اپنی حمایت اور یکجہتی کا اظہار کر رہے تھے۔ کئی جگہوں پر شہریوں نے لانگ مارچ کے شرکاء پر پھولوں کی پتیاں بھی نچھاور کئیں۔ ان شہریوں میں ہر عمر اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے جن میں نوجوان، بچوں اور عورتوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل تھے۔ ملتان میں لانگ مارچ کا وقت صبح دس بجے کا دیا گیا تھا لیکن کافی دیر تک وہاں نغموں کی آوازیں گونجتی رہی اور جیسے ہی گرمی بڑھی معزول چیف جسٹس وکلاء کی مرکزی قیادت کے ہمراہ پنڈال میں پہنچےجہاں تقریباً اڑھائی ہزار لوگ موجود تھے۔ ملتان بارمیں عوام کی تعداد توقعات سے بہت کم تھی لیکن جو موجود تھے انہوں نے تقریب کو بہت رنگین اور پر جوش بنایا ہوا تھا۔ معزول چیف جسٹس کی آمد پر پھول کی پتیاں نچھاور کی گئیں، غبارے اور کبوتر ہوا میں چھوڑے گئے۔ معزول چیف جسٹس بھی رومال سے اپنا پسینہ بار بار صاف کرتے رہے۔ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے پارٹی پرچم کافی واضع نظر آ رہے تھے۔ تاہم سیاسی جماعتوں کے یہ جھنڈے پنڈال میں لے جانے کی اجازت نہیں تھی۔ تقریب سے وکلاء رہنما حامد خان، سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن، منیر ملک اور علی احمد کرد نے پرجوش تقاریر کیں۔ سکیورٹی کے انتظامات بہت سخت تھے اور پولیس نے تمام علاقہ اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔ ملتان ڈسٹرکٹ بار اور ہائی کورٹ بار کے وکلاء نے پچھلے ایک ہفتہ سے عوامی رابطہ مہم شروع کر رکھی تھی جس میں پورے شہر میں بینرز اور ہولڈنگ بورڈز لگائےگئے تھے جن پر ’عدلیہ بحال کرو، چیف جسٹس بحال کرو’ جیسے نعرے درج تھے۔ وکلاء کے ساتھ ساتھ دوسرے شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کر کہ یہ یقین دہانی کروائی کہ وہ وکلاء کے ساتھ ہیں۔ | اسی بارے میں ’اسوقت صدرنہیں، پارلیمان رکاوٹ ہے‘10 June, 2008 | پاکستان اسلام آباد میں سخت سکیورٹی10 June, 2008 | پاکستان لانگ مارچ ابتدائی مرحلہ مکمل10 June, 2008 | پاکستان وکلاء کا قافلہ بہاولپور پہنچ گیا10 June, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی، وکلاء کے قافلے روانہ09 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||