لانگ مارچ میں لال بینڈ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وکلاء کا اب تک کا لانگ مارچ ویسے تو کئی لوگوں کے مطابق پھیکا اور بےرنگ ہے لیکن اسلام آباد پہنچنے پر اسے کچھ رنگ دینے کی ایک کوشش ایک نیا بینڈ ’لال‘ کرے گا۔ ’لال‘ بینڈ انقلابی شاعر حبیب جالب کی مشہور نظم ’میں نے اس سے یہ کہا‘ مصہور انقلابی حبیب جالب جن کی شاعری جنرل ایوب خان اور بعد میں جنرل ضیا کے دور میں آمریت کی مخالفت سے کوٹ کوٹ کر بھری ہوی ہے۔ ان کی اس نظم ’میں نے اس سے یہ کہا‘ میں مظالم کے خلاف آواز نہ اٹھانے والی قوم سے ایک نظمیہ شکایت کی گئی ہے۔ اس نظم کو گا کر تیمور رحمان، شاہرام اظہر اور مہوش وقار پر مشتمل ایک نئے بینڈ لال کو کافی مقبولیت ملی ہے۔ اب یہ نظم یہ گروپ لانگ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے پر گائے گا۔ بینڈ کے ایک رکن تیمور رحمان کا کہنا ہے کہ وہ وکلا کے مارچ کی حمایت کرتے ہیں، اس میں شرکت کریں گے عدلیہ کی آزادی کے لئے نعرے لگائیں گے اور شرکاء کو اپنے فن سے محظوظ بھی کریں گے۔ چوبیس سالہ گلوکار شاہرام اظہر کا کہنا ہے کہ آج کے پاکستانی سیاسی حالات میں بھی حبیب جالب کی شاعری بالکل تازہ اور موزوں لگتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاست کافی بدقسمت رہی ہے جس میں فوجی آمر اس ملک پر گزشتہ ساٹھ برسوں سے حکومت کر رہے ہیں۔ ’حبیب جالب کی شاعری جمہوریت، آزادی، انصاف اور غریبوں کی جدوجہد کی آواز ہے۔ اس لئے یہ آج بھی اتنی ہی موثر ہے۔‘ لیکن اس گروپ نے اپنے لئے ’لال‘ نام کیوں چنا؟ مہوش وقار نے بتایا کہ لال انقلاب کا رنگ ہے اور وہ انقلابی ہیں۔ ’یہ مزور تحریک کا، بائیں بازو کا رنگ ہے اور چونکہ ہم سوشلسٹ سوچ رکھتے ہیں تو اس لیئے اسے چُنا۔‘ بینڈ کا مکمل البم آئندہ چند ماہ میں ایک نجی ٹی وی کے اشتراک سے تیار ہوگا۔ اس مقصد کے لیئے تیمور اور شاہرام جوکہ لندن میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں پڑھائی چھوڑ کر پاکستان آئے ہیں۔ کچھ لوگوں کے خیال میں اس بینڈ نے محض حبیب جالب کے ترنم میں گیٹار شامل کرکے اسے نئی شکل دینے کی کوشش کی ہے۔ لیکن حبیب جالب کی شاعری کو جو رنگ و شکل دے لیں وہ اپنے پیغام کی وجہ سے ہمیشہ لوگوں کے شعور کو جھنجوڑتی رہے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||