پریمیئر: فلم جنت کی ٹیم لاہور میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کی مشترکہ فلم ’جنت‘ کے پریمیئر شو کے لیے فلم کے ہیرو عمران ہاشمی اور ہیروئن سونال چوہان سمیت فلمی ٹیم کے متعدد اراکین لاہور پہنچ گئے ہیں۔ ’جنت‘ سولہ مئی کو بھارت اور پاکستان میں ایک ساتھ نمائش کے لیے پیش ہو رہی ہے اور منگل کو اس کا لاہور میں پریمیئر ہورہا ہے۔ بھارتی ہدایتکار مہیش بھٹ کی فلم ’جنت‘ وہ پہلی بھارتی فلم ہے جس کا پریمیئر پاکستان میں منعقد ہوگا۔ فلم کے ہیرو عمران ہاشمی کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔ وہ لاہور کے علامہ اقبال ائر پورٹ پر پہنچے تو پرستاروں کے ہجوم اور کیمرہ مینوں کی دھکم پیل کی وجہ سے میڈیا سے گفتگو کر سکے نہ پاکستان فلم انڈسٹری کی ان لڑکیوں اور لڑکوں سے گلدستے وصول کر سکے جو دو گھنٹے سے ان کے انتظار میں کھڑے تھے۔ عمران ہاشمی نے بعد میں لاہور کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’جس طرح مجھ سے ائر پورٹ پر محبت کا اظہار کیا گیا ہے یوں لگتا ہے کہ میں اپنے گھر آیا ہوں۔ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میری چوتھی فلم پاکستان میں ریلیز ہو رہی ہے۔ مجھے پاکستان کے لوگوں نے بہت محبت دی اور میری فلم ’آوارہ پن‘ ہندوستان سے زیادہ پاکستان میں ہٹ ہوئی۔‘ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کی نئی فلم ’جنت‘ کو بھی پاکستان میں پسند کیا جائے گا۔ عمران ہاشمی نے پاکستانی فلم میں کام کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا ہے۔ سونال چوہان کی بطور ہیئروئن یہ پہلی فلم ہے۔انہوں نے کہا وہ بہت خوش ہیں کہ ان کی پہلی فلم کا ہی پریمئر بین الاقوامی سطح پر خاص طور پر لاہور جیسے شہر میں ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی دیرینہ خواہش تھی کہ وہ لاہور دیکھ سکیں لیکن یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ انہیں فلم کے ہیروئن کی طور پاکستان جانے کا موقع ملے گا۔ ’جنت‘ کے پاکستانی شراکت دار فلم ساز سہیل خان کا کہنا ہے کہ ہندوستانی فلم انڈسٹری پاکستان کو ایک بڑی مارکیٹ کے طور پر دیکھتی ہے۔ یہ درست ہے کہ آج پاکستان میں سینما گھر نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن کبھی یہ سات سو ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انڈین فلموں کی وجہ سے اگر سینما گھر بڑھ جاتے ہیں اور ان کی تعداد پانچ سو بھی ہوجاتی ہے تو اندازہ کرلیں کہ مارکیٹ سے حاصل ہونی والی آمدن کا کیا حساب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ کی کشش نے ہی ہندوستانی فلم انڈسٹری کو پاکستان کی جانب متوجہ کر رکھا ہے اب یہ پاکستانیوں کا کام ہے کہ وہ اس میں سے کس طرح اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔ سہیل خان نے تجویز پیش کی پاکستان میں صرف ان فلموں کی نمائش کی اجازت دی جائے جو دونوں ملکوں کی مشترکہ پروڈکشن ہو۔ سہیل خان ’جنت‘ سے پہلے تین فلمیں ’نظر‘،’کلر‘ اور ’آوارہ پن‘ میں مشترکہ فلم سازی کر چکے ہیں۔ ان فلموں کی پاکستان میں نمائش ہوچکی ہے۔ لاہور آنے والی انڈین فلم کی ٹیم میں ہدایت کار مہیش بھٹ بھی شامل ہیں۔ انہوں نے پاکستانی فلم مارکیٹ میں ہندوستانی فلم انڈسٹری کی دلچسپی کے حوالے سے بی بی سی کو بتایا ’دلچسپی صرف کمرشل نہیں ہوتی۔ دلچسپی خطے کو شانت پرامن بنانے اورایسا عمل بنانے کی ہوتی ہے جس سے سب ایک ساتھ ترقی کریں۔‘ مہیش بھٹ نے کہا ’پاکستان کے سنگرز اور میوزک ڈائریکٹرز نے ہمیں اتنا کچھ دیا ہے آپ کو اس کا اندازہ ہی نہیں ہے۔‘ انہوں نے پاکستانی اداکار جاوید شیخ کی تعریف کی جو ہندوستانی فلموں میں کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا ’یہ اکٹھے چلنے کے بعد معلوم پڑے گا کہ ہر رشتہ لینے کا نہیں ہوتا بلکہ کچھ رشتے ساتھ چلنے کے ہوتے ہیں۔‘ مہیش بھٹ کی فلم’جنت‘ کرکٹ میچ فکسنگ کے موضوع پر بنائی گئی ہے۔ اس فلم میں عمران ہاشمی کو ایک سٹے باز دکھایا گیا ہے۔ فلم کے ہیرو عمران ہاشمی کے مطابق فلم میں ایک کڑوے سچ کو بتانے کی کوشش کی گئی ہے۔ |
اسی بارے میں بھارتی فلمیں: قطرے قطرے کا سیلاب بن گیا14 April, 2008 | پاکستان چالیس برس بعد پاکستانی فلم انڈیامیں05 April, 2008 | پاکستان مظفر آباد: 2 منی سنیما گھر بند23 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||