بھارتی فلمیں اور پاکستانی سنیما | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکام کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران ایک درجن سے زائد بھارتی فلمیں مقامی سینما گھروں میں دکھائی جا چکی ہیں، جبکہ چھ مسترد بھی ہوئی ہیں۔ حکومت پاکستان نے دو برس قبل ’تاج محل‘ اور ’مغل اعظم‘ جیسی تاریخی فلموں کو سکریننگ کی خصوصی اجازت دی تھی۔ اس کے بعد سے اب تک پاکستانی سینسر بورڈ نے ایک درجن بھارتی فلموں کو نمائش کی اجازت دی تھی۔ یہ سب کی سب اب تک دکھائی جا چکی ہیں یا پھر دکھائی جا رہی ہیں۔ ’آواراپن‘ ’گول‘ اور ’ویلکم‘ کے فورا بعد اب ’ریس‘ اور ’تارے زمین پر‘ پاکستانی شائقین کو محظوظ کر رہی ہیں۔ ’ریس‘ تاہم زیادہ فلم بینوں کو اپنی جانب کھینچ رہی ہیں کیونکہ یہ پہلی فلم ہے جو بھارت اور پاکستان میں بیک وقت پیش کی گئی۔ فلم سینسر بورڈ کے سربراہ اظفر شفقت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جون دو ہزار چھ میں قانون میں ترمیم کے بعد پاکستان میں صرف وہ بھارتی فلمیں دکھائی جاسکتی ہیں جو بھارت سے باہر شوٹ کی گئی ہوں۔ فلم بنانے والا چاہے بھارتی ہو اور اس میں تمام کے تمام اداکار بھارتی ہوں لیکن اگر وہ بھارت سے باہر فلمائی گئی ہوں گی تو انہیں پاکستان میں نمائش کی اجازت دی جاسکے گی۔
جن چھ فلموں کی پاکستان میں نمائش کی اجازت نہیں دی گئی ان میں ’سنڈے‘ اور پنجابی فلم ’اساں کو مان وطنے دا‘ شامل تھیں۔ مسترد کرنے کی وجہ اظفر شفت نے بتاتے ہوئے کہا کہ فلم سازوں کے دعویٰ کے برعکس ان میں بھارتی مقامات تاج محل، دلی، بھارتی پولیس، نمبر پلیٹس اور بھارتی ہوٹل دکھائے گئے تھے۔ سینسر بورڈ کے مطابق موجودہ وقت میں ان کے پاس کسی بھارتی فلم کی درخواست زیر غور نہیں ہے۔ بھارتی فلموں کی نمائش کی شرائط میں نرمی سے پاکستانی سینما گھروں کو مالی فائدہ ہو رہا ہے۔ بڑی تعداد میں شائقین نے اہل خانہ کے ہمراہ ان سینما گھروں کا دوبارہ رخ کیا ہے۔ پاکستانی فلم ’خدا کے لیے‘ کی آج کل بھارت میں نمائش سے توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستانیوں کو مزید اچھی بھارتی فلموں کا مزا بڑی سکرین پر لوٹنے کے مواقع مل سکیں گے۔ | اسی بارے میں ’تارے زمین پر‘، نمائش پر پابندی18 March, 2008 | فن فنکار تاج محل فلم بین نہیں کھینچ سکی28 April, 2006 | فن فنکار مغل اعظم کا لاہور میں پریمئر شو23 April, 2006 | فن فنکار فلم تاج محل اٹھائیس اپریل سے16 April, 2006 | فن فنکار نورجہاں کی پوتی کی فلم تاج محل18 November, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||