BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 April, 2008, 08:18 GMT 13:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارتی فلمیں: قطرے قطرے کا سیلاب بن گیا

تارے زمین پر
یکے بعد دیگرے کئی بھارتی فلمیں ایک ایک کرکے پاکستان میں دکھائی گئیں
پاکستان میں ایک نئی ’دوڑ‘ شروع ہوچکی ہے۔ یہ کسی اسمبلی، وزارت یا نوکری کے لیے نہیں بلکہ پاکستانی سینما گھروں میں جاری ہے۔ بھارتی فلم ’ریس‘ اس وقت اس دوڑ میں آگے آگے ہے جبکہ عامر خان کی ’تارے زمین پر‘ بھی کچھ زیادہ پیچھے نہیں۔

بھارتی فلمیں اب آہستہ آہستہ پاکستان میں اپنے قدم جما رہی ہیں۔ تقریباً دو برس قبل ہندوستانی فلم ’تاج محل‘ اور ’مغل اعظم‘ پاکستانی سینماؤں میں دکھائی گئی جس کے بعد انیس سو پینسٹھ کے بعد اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے لگی پابندی کا خاتمہ ہو گیا تھا۔

اس کے بعد کئی بھارتی فلمیں ایک ایک کر کے پاکستان میں دکھائی گئیں لیکن اب گزشتہ چند ماہ سے جیسے یہ قطرے سیلاب کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ ’آوارا پن‘، ’گول‘ اور ’ویلکم‘ کے فورا بعد اب ’ریس‘ اور ’تارے زمین پر‘ پاکستانیوں کو محظوظ کر رہی ہیں۔

’ریس‘ آگے اس لیے بھی ہے کیونکہ یہ بھارت اور پاکستان میں بیک وقت ریلیز کی گئی جبکہ 'تارے زمین پر' چار ماہ کی تاخیر سے پاکستان آئی۔ اس دوران اس فلم کی تعریف سنے کے بعد اکثر لوگوں نے یہ فلم سی ڈیز پر ہی دیکھ لی تھی۔

بھارتی فلموں کے بہت سے شائقین اب اپنا شوق غیرقانونی سی ڈیز کے ذریعے نہیں بلکہ سینما گھروں کا رخ کر کے پورا کر رہے ہیں۔ بھارتی فلموں کی آمد کی وجہ حکام کے مطابق صدر پرویز مشرف کی اپریل دو ہزار چھ میں خصوصی اجازت تھی۔ اس فیصلے کے دو برس بعد میں نے پاکستانی سنیما ہاؤس میں فلم نہ دیکھنے کا تقریباً اپنا تیس برس پرانا بائیکاٹ بالآخر ختم کر دیا۔

بھپاشا باسو
بھارتی فلمیں اب آہستہ آہستہ پاکستان میں اپنے قدم جما رہی ہیں

اس طویل بائیکاٹ کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ ایک تو والد صاحب کا اب واپڈا سے ریٹائر ہونا اور دوسرا پاکستانی فلموں کا گرتا معیار تھا۔ بچپن میں والد صاحب اکثر اپنے ادارے کی وجہ سے کسی بھی سینما گھر میں پورا باکس بک کروا لیا کرتے تھے اور تمام خاندان، چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، پاکستانی فلم دیکھنے وہاں پہنچ جاتا تھا۔ فلمیں بھی معیاری ہوتی تھیں تو ہر کوئی اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیتا۔ خوب میلہ سجتا۔

پھر اچانک والد صاحب کا سینما والے علاقے سے تبادلہ ہوگیا اور بعد میں ریٹائرمنٹ، وی سی آر اور ضیاء الحق جیسی وبائیں آن پہنچیں۔ لوگوں نے گھروں پر فلمیں دیکھنا شروع کر دیں اور پاکستانی فلمی صنعت کے اس بحرانی دور کا آغاز ہوا جس سے پیچھا وہ آج تک نہیں چھڑا سکی۔

اس ابتری نے بڑی تعداد میں سینما گھروں کو بھی شاپنگ مالز میں تبدیل کر دیا۔ ایسے حالات میں بچے کھچے سینما گھر جانے کا رسک کون لے سکتا تھا۔

لہٰذا سینما گھر میں فلم دیکھنے کا شوق جب بھی بیرون ملک جانے کا موقع ملا پورا کیا۔ عامر خان کا پہلا شاہکار ’لگان‘ اگر لندن میں لطف اندوز ہوئے تو عمران ہاشمی کی ’مرڈر‘ اور وینے پاٹھک کی ’بھیجہ فرائی‘ دلی میں دیکھ ڈالیں۔ لیکن باہر کے دورے کون روز روز کرسکتا ہے اور پھر مشکل ہے کہ اس میں اسے فلم دیکھنے کا بھی موقع ملے۔

اسلام آباد ویسے تو ملک کا دارالحکومت ہے اور بڑی منصوبہ بندی سے بنایا گیا تھا لیکن یہاں ایک چیز کے خاتمے پر کافی افسوس ہے۔ کئی برس پہلے یہاں کی سرکاری سینما ’نیفڈیک‘ کا مالی بحران کی وجہ سے خاتمہ اور نجی سینما میلوڈی کا دو ہزار تین میں جلائے جانا تھا۔ ایک کمی یہاں ہے جو جانے کب پوری ہوگی۔

لیکن جڑواں شہر راولپنڈی میں گزشتہ برس قائم ہونے والےسینے پیکس نامی سینما گھر نے یہ کمی قدرے پوری کی ہے۔ تاہم اس کی دوری میرے جیسے کئی لوگوں کو وہاں جانے سے پہلے کئی مرتبہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ البتہ سینما سے میرا طویل فاقہ بھارتی فلم ’ریس‘ نے ختم کر دیا۔

سینے پیکس کا چار سو نسشتوں والا ہال نمبر پانچ تقریباً فل تھا۔ خوش آئند بات بڑے بوڑھے، عورتیں اور بچے سب کا فلم دیکھنے کے لیے آنا تھا۔ اگرچہ یہ سب غیرملکی فلم دیکھنے آئے تھے لیکن ایک اور خوش آئند بات ان سب کا بغیر کسی کے کہنے پر قومی ترانے پر احترام میں اٹھ کھڑے ہونا تھا۔ یہ ریت تو اب بھارتی سینما گھروں میں بھی نہیں رہی۔ لیکن شاید سینما منتظمین وقت بچانا چاہتے تھے لہذا فلم کے گانوں کی طرح ترانہ بھی انہوں نے فاسٹ فاروڈ کیا۔

گول
سینما گھر کی کمی اسلام آباد میں ہے جو جانے کب پوری ہوگی

فلم کے دوران پاکستانیوں کی اشیاء خوراک پر خصوصی توجہ سے یہ شک بھی ہوا کہ عالمی سطح پر اشیاء خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی خبر شاید ابھی ان لوگوں تک نہیں پہنچ پائی ہے۔ بعض شائقین کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ کھانے کے لیے زیادہ اور فلم کے لیے کم آئے ہیں۔

بعض فلم بینوں کو یہ شک بھی گزرا کہ فلم میں پاکستانی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کافی کچھ سینسر بھی کیا گیا ہے۔ اس شک کا ’کارن‘ فلم میں بعض مقامات پر جمپس تھیں۔ فلم اور ساونڈ سسٹم کی کوالٹی ماضی کی سینماؤں سے کہیں درجے بہتر تھی لیکن بیرون ملک کئی بہترین سینما ہاوسز سے تھوڑا کم۔

میری پونے تین سالہ بیٹی میرے ہمراہ تھی۔ ہال میں کان پڑی آواز سنائی نا دیتے ماحول میں اس نے مجھے سے آخر میں ایک ننھی سی شکایت کی کہ ابو اس ٹی وی کا ریمورٹ نہیں ہے کیا؟

بھارتی فلم’پابندی اٹھا ہی لیں‘
بھارتی فلموں پر عائد پابندی اٹھانے کا مشورہ
بےنظیر بھٹوبےنظیر بھٹو پر فلم
پاک بھارت فلم انڈسٹری کا مشترکہ منصوبہ
ایمان علی’خدا کے لیے‘
’گائیکی ترک کرنے والے طالب پر فلم‘
اداکارہ نازوپشتو سرکل سے
پختون لڑکیوں پر فلموں کے دروازے بند کیوں؟
ہدایت کارہ میرا نائر (فائل فوٹو)ٹیکنالوجی کا استعمال
فلموں میں انسانی جذبات ندارد ہو رہےہیں: میرانائر
اسی بارے میں
’گول‘ کے لیے لمبی قطاریں
25 November, 2007 | فن فنکار
پاکستانی سنیما کے ساٹھ برس
18 August, 2007 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد