’فلموں میں انسانی جذبات ندارد ہو رہے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلمی حلقوں میں جنوبی ایشیا کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ تین پنجابی خواتین کامیاب’کراس اوور‘ سنیما بنانے میں اپنی شناخت بنا چکی ہیں۔ باقی رہا سوال ہم عصروں کا، سو وہ ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لندن میں مقیم گُرندر چڈّھا نے ’بینڈ اِٹ لائک بیکہم‘ اور’ بِرائڈ اینڈ پِِرُجِڈِس‘ جیسی بین الاقوامی شہرت یافتہ فلموں کے بعد مزاحیہ ’کراس اوور‘ سنیما کی صِنف میں اپنا مُنفرِد مقام بنا لیا ہے۔ کینیڈا جا کر بسنے والی دیپا مہتہ نے ’ارتھ‘، ’فائر‘ اور ’واٹر‘ جیسی سنجیدہ فلمیں بناکر آسکر ایوارڈز کے دروازے پر دستک دی ہے۔ لیکن نیو یارک میں مقیم میرا نائر ہر اس فلم ساز کے لیے مثال ہیں جو کراس اوور سنیما کے میدان میں اپنے جوہر دکھانا چاہتا ہے۔ وجہ بہت واضح ہے۔ میرا نائر نے نہ صرف یہ کہ ’سلام بامبے‘ اور ’مونسون ویڈنگ‘ جیسی دیسی و عمدہ فلمیں بنا کر بین الاقوامی مُقابلوں میں اِعزازات حاصل کیے ہیں بلکہ انہوں نے امریکہ، کینیڈا، یو روپ اور بھارت کے باکس آفِس پر بھی اچھا بزنس کیا ہے، اور یہی کامیاب کراس اوور سنیما کی پہلی اور آخری پہچان ہے۔
لندن میں جب ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے دریافت کیا کہ فلم بناتے وقت وہ کن باتوں پر خاص توجہ دیتی ہیں۔ ’میں اپنی فلموں میں مکالموں سے کم اور جذبات سے زیادہ کام لیتی ہوں۔ایسی بات نہیں کہ میری فلموں میں سکرین پلے (منظر نامہ) نہیں ہوتا۔ ہوتا ہے، لیکن جب میں شوٹنگ کرتی ہوں تو پھر کم سے کم مکالموں کا استعمال کرتی ہوں۔ میرے خیال میں سنیما خود اپنے آپ میں ایک عالمی زبان ہے اور بنا لفّاظی کے بھی اس کے ذریعے بات خوبصورت طریقے سے کہی جاسکتی ہے۔ فلم میں کس طرح آپ چلتے ہیں، آنکھوں میں کس طرح جھانکتے ہیں، کس طرح اشارے کرتے ہیں۔ یہ وہ باتیں ہیں جن سے غضب کا سنیما بنایا جا سکتا ہے‘۔ میرا نائر کی پیدائش 1957 میں بھارت میں ہوئی۔ دِلّی اور ہارورڈ میں تعلیم مکمل کی اور امریکہ میں مقیم ہونے کے بعد ڈاکومنٹری فلموں کے ساتھ انہوں نے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ 1988 میں بمبئی شہر کی سڑکوں پر بڑے ہونے والے بچوں کے گِرد ڈاکومنٹری کی طرز پر فیچر فلم بنا کر اُنہوں نے جو شہرت حاصل کی وہ بہت کم فلم سازوں کے حصے میں آتی ہے۔’سلام بامبے‘ آسکر کے لیے نامزد کی گئی۔ ’کان فلم فسٹیول‘ اور دیگر بین الاقوامی مقابلوں میں اسے اعزازات سے نوازا گیا۔
1991 میں ’مِسیسِپی مصالحہ‘، 1995 میں ’پِیریز فیملی‘، 1996 میں ’کام سُوترا‘ اور پِھر 2000 میں ’مونسون ویڈنگ‘ بناکر میرا نائر ہر اس فلمساز کے لیے قابلِ رشک ہوگئیں جو کم رقم میں دیسی کہانی پر فلم بنا کر عالمی شُہرت کا خواہاں تھا۔ میرا نائر کی فلموں کو مثال مان کر کئی فلمساز اپنی کہانی کا انتِخاب کرتے ہیں، لیکن خود میرا نائر اپنی فلموں کا تھیم کس طرح چُنتی ہیں۔ ظاہر ہے پہلے آڈیئنس یعنی ناظرین کے بارے میں سوچتی ہوں گی کہ اُن کو کیا پسند آئےگا۔ ’یقین کیجیے میں تھیم چنتے وقت آڈئینس کے بار ے میں قطعی نہیں سوچتی۔ میں صرف دِل کی سنتی ہوں۔ میں خود سے سوال کرتی ہوں ’میرا نائر کیا تم بغیر یہ فلم بنائے زندہ رہ سکتی ہو؟‘ جواب اگر ہاں ہے تو قصہ ختم اور اگر فلم کا بنانا میرے وجود کے لیے لازمی ہے تو پھر میرا نیا فلم پروجیکٹ شروع ہوجاتا ہے۔ اِس مرحلہ پر میں سارے سوالات پر غور کرتی ہوں جیسے سکرین پلے، کاسٹنگ، آڈئینس وغیرہ۔ کیا فلاں قصہ یا لطیفہ غیر ملکی لوگوں کی سمجھ میں آئےگا؟ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اپنے پیغام کو ہی بدل لیں‘۔
سال 2007 میں میرا نائر کی فلم ’دا نیم سیک‘ ریلیز ہوئی جس میں بالی وڈ سٹار تبّو اور عِرفان خان کے علاوہ ہالی وڈ کے اداکار بھی شامل ہیں۔ فلم کی کہانی کلکتّہ کے ایک ایسے بنگالی خاندان کے گِرد گھومتی ہے جو وطن سے دور امریکہ کے شہر نیو یارک میں آ کر بس گیا ہے۔ جوان بیٹا اور بیٹی امریکی طرزِ زندگی اختیار کرتے ہیں اور ماں باپ آج بھی دیسی سوچ کے حامل ہیں۔ فلم اسی تضاد کی بخوبی عکاسی کرتی ہے۔ ’کراس اوور‘ سنیما کے کئی فلم ساز یہ کہتے ہوئے پائے گئے ہیں کہ اگر فلم میں دیسی کِرداروں کے ساتھ گورے کرداروں کو بھی protoganist یعنی ڈرامے کے خاص کرداروں کا درجہ دیا جائے تو پھر گورے لوگ بھی شوق سے فلم دیکھنے جاتے ہیں۔ برطانیہ کے معروف فلم ساز رِچرڈ ایٹنبرا نے اپنی دو فلموں ’گاندھی‘ اور ’کرائی فریڈم‘ میں یہی کیا۔ دیسی کہانی آپ گوروں کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ گُرندر چڈّھا کی ’بینڈ اِٹ لائک بیکہم‘ اور ’بِرائڈ اینڈ پِِرُجِڈِس‘ میں بھی گورے کردار حاوی ہیں۔ میرا نائر سے میرا اگلا سوال کہ کیا دیسی کرداروں کے ساتھ گورے کرداروں کو شامل کرنے سے ایک کراس اوور فلم امریکہ و یوروپ وغیرہ میں زیادہ شوق سے دیکھی جاتی ہے؟۔ ’میں اِس بات سے اتفاق نہیں کرتی۔ سنیما لوگوں کو ایک الگ دنیا میں پنہچا دیتا ہے جہاں ان کا تعارف مختلف قسم کے کرداروں سے ہوتا ہے اور ان ہی کرداروں کے ذریعے نہ یہ کہ وہ خود کو پہچانتے ہیں بلکہ تمام دنیا کو محسوس کرتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ شکست خوردہ ذہنیت کی علامت ہے کہ کالے لوگوں کی دنیا تک رسائی کے لیے آپ کو کسی گورے کردار کی ضرورت پڑے۔ مثلاً میری فلم ’دا نیم سیک‘ کی روح دیسی ہے اور پوری کہانی آپ دیسی نقطۂ نظر سے ہی دیکھتے ہیں‘۔ واضح رہے کہ گورے کردار پِروٹیگینِسٹ نہیں ہیں پھر بھی ’دا نیم سیک‘ نے امریکہ اور دوسرے مُمالِک میں بہت عمدہ بزنس کیا ہے۔ اس لیے کہ ’دا نیم سیک‘ اُن لاکھوں لوگوں کی کہانی بیان کرتی ہے جنہیں مجبوریوں اور خاص حالات کے تحت ترکِ وطن پر آمادہ ہونا پڑا۔
’ایک صبح آپ سو کر اُٹھتے ہیں اور اپنی کھڑکی سے باہر جھانکتے ہیں تو پاتے ہیں کہ باہر گنگا نہیں ہڈسن ندی بہہ رہی ہے کیونکہ آپ کلکتّہ میں نہیں نیو یارک میں ہیں۔ یہ تبدیلی آپ کی دنیا بدل کر رکھ دیتی ہے‘، میرا نائر یہ کہتے ہوئے خاصی جذباتی ہوجاتی ہیں۔ شاید میری گورے کرداروں والی بات انہیں ناگوار گزری ہے۔ وہ ایک لمبا سانس بھرتی ہیں اور پھر مُجھے ماپتے ہوئے پوچھتی ہیں ’آپ نے مونسون ویڈنگ دیکھی ہے؟‘۔ میں کہنا چاہتا ہوں نہ صرف دیکھی ہے بلکہ یہ میری فیورٹ فلم ہے مگر میں صرف گردن ہلادیتا ہوں۔ میرا نائر کو میری گردن پر شاید بھروسہ نہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ’جنہوں نے ’مونسون ویڈنگ‘ دیکھی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ میرے ہر دِلّی اور میری پنجابیت کے تئیں ایک پیار کا نغمہ ہے۔ خراجِ عقیدت ہے۔ بھارتی لوگوں کے لیے یہ ایک دیسی فلم ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ساری دنیا نے اسے بے انتہا شوق سے دیکھا ہے۔ کیونکہ انہوں نے محسوس کر لیا کہ یہ فلم بہت پیار اور محبت سے بنائی گئی ہے‘۔ جنوبی ایشیا کے ان فلم سازوں میں جو کراس اوور سنیما بنا رہے ہیں۔ میرانائر اس وقت سب سے مصروف اور کامیاب فلم ساز ہیں۔ ہالی وڈ میں بڑے سٹوڈیو ان کی کئ فلموں میں کروڑوں ڈالر کی رقم لگا رہے ہیں۔ ان کی فلم کمپنی میرا بائی فلمز ہالی وُڈ ادا کار کِرس ٹکر کے ساتھ ہندی فلم ’مُنّا بھائی ایم بی بی ایس‘ کا انگریزی اڈاپٹیشن بنا رہی ہے۔ وہ خود اس وقت انگریزی کے ناول ’شانتارام‘ پر مبنی فلم کی ہدایت کاری کر رہی ہیں جو بالی وڈ اداکار امیتابھ بچّن کی پہلی ہالی وڈ فلم ہوگی۔
میرا کہتی ہیں: ’شانتا رام‘ کے کردار میں ہالی وڈ کے اداکار جانی ڈیپ ہوں گے اور بچّن صاحب کو میں نے قادر بھائی نام کا کردار دیا ہے۔ ’شانتا رام‘ ایک سچّی کہانی پر مبنی فلم ہے جس کی شوٹنگ آسٹریلیا، افغانستان اور انڈیا میں ہوگی۔ میرے لیے سب سے بڑا چیلینج یہ ہے کہ مشرق اور مغرب کے اس رشتے کی میں کس قدر ایمانداری سے عکاسی کر پاتی ہوں‘۔ اس کے علاوہ میرانائر ایڈز کی بیماری کے حوالے سے کئی ڈاکومنٹری فلمیں بھی بنا رہی ہیں اور ساتھ میں افریقی ملک یوگینڈا میں ایک فلم نسٹیٹیوٹ بھی چلاتی ہیں۔ میرا نائر کا کہنا ہے: ’فلمیں ہمیں سفر پر لے جاتی ہیں اور اس سفر میں ہم اپنے جیسے، اپنے سے مختلف، اور بہت بار عجیب و غریب کرداروں سے ملتے ہیں۔ یہ کردار سچّے ہونے چاہیں تو ہی ہمیں لگتا ہے کہ ہم بے انتہا ایمانداری سے بنائی گئی فلم دیکھ رہے ہیں۔ فلم کو جذباتی سطح پر ہم سے رشتہ قائم کرنا چاہیے مگر افسوس یہ کہ سنیما میں آج کل جذباتیت کچھ ندارد سی ہوتی جا رہی ہے۔ سپیشل افیکٹس اور کرتب بازی پر زیادہ زور ہے اور ان سب میں ہم انسان اور اُس کے حالات کو کہیں فراموش کر تے چلے جا رہے ہیں‘۔ |
اسی بارے میں میرا نائر کی اگلی فلم کلکتہ میں07 December, 2004 | فن فنکار ’کراس اوور سنیما‘ ہے کیا؟02 May, 2007 | فن فنکار فلم 'واٹر' آسکر کی دوڑ میں برقرار ہے 24 January, 2007 | فن فنکار میرا نائر کو ہیری پوٹر کی پیشکش04 September, 2004 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||