’آوارہ پن‘ کی ریلیز تیرہ کو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’پاکستان میں فلم صنعت خستہ حال ہے مگر اس کی کمی کسی حد تک وہ گلوکار پوری کررہے ہیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی بے حد مقبول ہیں۔‘ یہ خیالات ہیں پاکستانی گلوکار مصطفی زاہد کے جو بھارتی فلم آوارہ پن کے پروموشن کے سلسلہ میں فلم کے ہیرو اور ہیروئن عمران ہاشمی اور مرنالنی شرما کے ساتھ لکھنؤ آئے تھے۔ فلموں میں اپنی ہیروئنوں کے ساتھ بوس و کنار کے لیے مشہور عمران ہاشمی کو ان کے پرستارگھیرے رہے لیکن مصطفی زاہد نے اس موقع پرگٹار کی دھن پر کچھ نغمے گا کر رنگ جما دیا۔ ’اسموچ کنگ‘ کے نام سے مشہور عمران ہاشمی نے ایک سوال پر پرمزاحیہ انداز میں کہا کہ ہر خوبصورت چیز ایک نہ ایک دن ختم ہوجاتی ہے، بوس و کنار کا سلسلہ بھی اب کم ہورہا ہے کیونکہ اب وہ اپنی امیج سے ہٹ کر رول کررہے ہیں۔
مصطفی زاہد کے لیے بھی یہ ایک انوکھا تجربہ ہے ـ اس فلم کے سبھی نغمے انہوں نےگائے ہیں۔ اس فلم سے بالی ووڈ میں انہوں نے اپنے کریر کا آغاز کیا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے اداکاروں کو قریب لانے میں فلم ساز مہیش بھٹ کے رول کی تعریف کرتے ہوئے مصطفی نے کہا کہ ان کی بھارت آمد بھی مہیش بھٹ کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے۔ـ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی فنکار بھارت میں اپنے فن کی قدر چاہتے ہیں اور موسیقی بھارت اور پاکستان کے فنکاروں اور عوام کو جوڑتی رہی ہے اور یہ رشتہ مزید مستحکم ہورہا ہے ۔ |
اسی بارے میں ' آوارہ پن' پاکستان کے لیے تیار23 June, 2007 | فن فنکار فلم سٹار ٹیکس کے بھی سپر ہیرو03 May, 2007 | فن فنکار بالی ووڈ: جتندر خاندان بھی کسان 01 July, 2007 | فن فنکار رامو کی ’شعلے‘ تنازعہ کا شکار04 July, 2007 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||