BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 June, 2008, 14:00 GMT 19:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشاورت سے نیا صدر لائیں گے‘

’سوری میڈم‘: ایک جنرل کا جواب
News image
بے نظیر نے اپنے دور میں فوج کو قبائلی فسادات بند کرانے کا حکم دیا تو ایک جنرل نے آ کر جواب دیا کہ کہ ’سوری میڈیم، پرائم منسٹر یہ مسئلہ حل نہیں کرسکتا‘۔
پیپلزپارٹی کے شریک چئر پرسن آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ’جس ادارے نے ہم سے بے نظیر بھٹو کو چھین لیا ہم چاہتے ہیں کہ وہ ادارہ برقرار رہے ورنہ پاکستان میں بھی وار لارڈز ہونگے۔جیسے افغانستان میں فوج نہیں رہی تو ایک ایک پہاڑی پر کئی کئی جنگجو سردار چڑھ کر بیٹھ گئے‘۔وہ لاہور کے گورنر ہاؤس میں سنئیر صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ ’وہ جس ادارے کو کمزور کرنے جارہے ہیں اس کے سب سے زیادہ ڈسے ہوئے ہم ہیں۔ہم سے اس ادارے نے قربانیاں لی ہیں لیکن پھر بھی ہم اسے مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں‘۔

آصف زرداری نے کہا کہ ڈر اس بات سے ہے کہ جیسا افغانستان کے ساتھ ہوا وہ پاکستان کے ساتھ نہ ہوجائے۔ ’انقلاب ایران کے بعد ان کے عوام کا کیا بنا۔ ہم تو اٹھارہ کروڑ کا ملک ہیں ہم کہاں جائیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ ملک ٹوٹنے کے بعد مجھے کہیں زمین کا ایک ٹکڑا بھی ملےگا۔شاہ ایران کو بھی دربدر ہوکر مصر میں دفن ہونے کی جگہ ملی۔ ہمیں افغانستان،انڈیا نہ ایران پناہ دے گا۔ہمیں تو یہیں رہنا ہوگا اور خود کو سنبھالنا ہوگا‘۔

’میں نہیں سمجھتا کہ ملک ٹوٹنے کے بعد مجھے کہیں زمین کا ایک ٹکڑا بھی ملےگا‘

پیپلز پارٹی شریک چئیرمین نے کہا کہ پاکستان کو صوبہ سرحد سے زیادہ افغانستان کے اندر خطرات لاحق ہیں کیونکہ وہاں پاکستان کے معاشی مفادات زیادہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں شورش کا سامنا ہے، افغانستان میں نیٹو کی فورسز ہماری جانب بڑھ رہی ہیں۔معاشی حالات بدتر ہیں۔

آصف زرداری نے کہا کہ جب امپورٹ بل فنانس بل نہ ہوں، تنخواہوں کی ادائیگیوں کے لیے پیسے نہ ہوں اور سندھ کے لوگ ابھی بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے صدمے میں ہوں ایسے میں پاکستان کس طرح بہتر رہ سکتا ہے؟

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قبائل اور برادری ازم کو ہوا دی گئی، ضیا دور میں انہیں سپورٹ کیا گیا، لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی چلائی گئی۔انہوں نے کہا سندھ میں مہر اور جتوئی قبیلوں کا بارہ پندرہ برس سے جھگڑا چل رہاہے۔راکٹ لانچر استعمال ہوتے ہیں۔لوگ کندھوں پر لانچر اٹھا ئے پھرتے ٹی وی پر دکھائی دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ میزائل ٹیکنالوجی ہے جو کسی کے پاس نہیں ہوتی حتیٰ کہ پولیس کو بھی خریدنے کی اجازت نہیں ہے یہ صرف انٹیلجنس اور فوج کے پاس ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’بے نظیر نے اپنے دور میں فوج کو قبائلی فسادات بند کرانے کا حکم دیا تو ایک جنرل نے آکر جواب دیا کہ کہ ’سوری میڈیم، پرائم منسٹر میں یہ مسئلہ حل نہیں کرسکتا‘۔

انہوں نے کہا کہ اسی لیے وہ برے حالات کے باوجود برداشت کی پالیسی پر عمل کررہے ہیں اور قومی مفاہمت کی پالیسی کو اپنائے ہوئے ہیں۔

زرداری نے پرویز مشرف کو ایک غیر آئینی صدر قرار دیا اور کہا کہ صدر مشرف کے جانے کے بعد وہ اتحادی جماعتوں اور تمام چھوٹے بڑے گروپوں سے مشاورت کے بعد نیا صدر لائیں گے۔

انہوں نے کہ عدلیہ کا ایک بڑا بحران ہے لیکن عدلیہ کو ان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ رجسٹرار کیا کرتا ہے ریڈر کس طرح ٹائپنگ کی غلطی کرکے لوگوں کو پریشان کرتا ہے؟یہ وہ بخوبی جانتے ہیں۔

مشاورت کے بعد نیا صدر لائیں گے
 زرداری نے پرویز مشرف کو ایک غیر آئینی صدر قرار دیا اور کہا کہ صدر مشرف کے جانے کے بعد وہ اتحادی جماعتوں اور تمام چھوٹے بڑے گروپوں سے مشاورت کے بعد نیا صدر لائیں گے۔
آصف زرداری

انہوں نے کہا کہ انہیں عدلیہ کی بحالی پر اختلاف نہیں ہے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ عدلیہ کا ایک نظام بنایا جائے۔ انہوں نے کہا وہ چاہتے ہیں کہ غیر جانبدار لوگوں پر مشتمل ایک مشاورتی بورڈ بنایا جائے جو عدلیہ کے معاملات کو دیکھے۔

’لانگ مارچ کا فائدہ اور نقصان دونوں ہوا لیکن ہم نے برداشت کا مظاہرہ کیا۔مسلم لیگ نون پیپلز پارٹی سے اتحاد میں ہے لیکن نواز شریف لانگ مارچ میں گئے‘۔انہوں نے کہ ہمارا رشتہ برداشت کا ہے اور وہ انہوں نے نبھایا ہے۔

آصف زرادی نے کہا کہ جب نواز شریف قید ہوئے تھے تو تب خود انہوں نے جاکر ان سے ہاتھ ملایا۔’میں نواز کی وجہ سے قید تھا لیکن مشرف کی بجائے میں نے ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا‘۔

انہوں نے کہا کہ صدر مشرف نے ان کے خلاف اقوام متحدہ میں جاکر کرپشن کے الزام لگائے بعد میں خود انہیں واپس لائے۔غلام اسحاق خان نے الزام لگایا اور بے نظیر بھٹو نے انہی سے میرا (آصف زرداری کا) حلف اٹھوایا۔انہوں نے کہا کہ بے نظیر حلف لینے کو انتقام سمجتھی تھیں۔

آصف زرداری نے کہا کہ معاشی بحران کو آج حل کرنے کے لیے بیٹھا جائے تو کم از کم تین برس لگ جائیں گے۔گندم کے بحران کو حل کرنے کے لیے آنے والی فصل کا انتظار کرنا ہوگا۔پانی بجلی اور ڈیزل مہنگا ہوتا جارہا ہے۔

زرداریزرداری میدان میں
ہم بھٹو کے فرزند ہیں، ڈرتے نہیں: آصف زرداری
زرداری کا انٹرویو
زرداری ایوان صدر سے تصادم کے راستے پر؟
’نظریۂ ضرورت‘
ضروری ہوا تو وزیراعظم بنوں گا: آصف زرداری
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد