’مشاورت سے نیا صدر لائیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انہوں نے کہا کہ کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ ’وہ جس ادارے کو کمزور کرنے جارہے ہیں اس کے سب سے زیادہ ڈسے ہوئے ہم ہیں۔ہم سے اس ادارے نے قربانیاں لی ہیں لیکن پھر بھی ہم اسے مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں‘۔ آصف زرداری نے کہا کہ ڈر اس بات سے ہے کہ جیسا افغانستان کے ساتھ ہوا وہ پاکستان کے ساتھ نہ ہوجائے۔ ’انقلاب ایران کے بعد ان کے عوام کا کیا بنا۔ ہم تو اٹھارہ کروڑ کا ملک ہیں ہم کہاں جائیں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ ملک ٹوٹنے کے بعد مجھے کہیں زمین کا ایک ٹکڑا بھی ملےگا۔شاہ ایران کو بھی دربدر ہوکر مصر میں دفن ہونے کی جگہ ملی۔ ہمیں افغانستان،انڈیا نہ ایران پناہ دے گا۔ہمیں تو یہیں رہنا ہوگا اور خود کو سنبھالنا ہوگا‘۔
پیپلز پارٹی شریک چئیرمین نے کہا کہ پاکستان کو صوبہ سرحد سے زیادہ افغانستان کے اندر خطرات لاحق ہیں کیونکہ وہاں پاکستان کے معاشی مفادات زیادہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں شورش کا سامنا ہے، افغانستان میں نیٹو کی فورسز ہماری جانب بڑھ رہی ہیں۔معاشی حالات بدتر ہیں۔ آصف زرداری نے کہا کہ جب امپورٹ بل فنانس بل نہ ہوں، تنخواہوں کی ادائیگیوں کے لیے پیسے نہ ہوں اور سندھ کے لوگ ابھی بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے صدمے میں ہوں ایسے میں پاکستان کس طرح بہتر رہ سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قبائل اور برادری ازم کو ہوا دی گئی، ضیا دور میں انہیں سپورٹ کیا گیا، لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی چلائی گئی۔انہوں نے کہا سندھ میں مہر اور جتوئی قبیلوں کا بارہ پندرہ برس سے جھگڑا چل رہاہے۔راکٹ لانچر استعمال ہوتے ہیں۔لوگ کندھوں پر لانچر اٹھا ئے پھرتے ٹی وی پر دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ میزائل ٹیکنالوجی ہے جو کسی کے پاس نہیں ہوتی حتیٰ کہ پولیس کو بھی خریدنے کی اجازت نہیں ہے یہ صرف انٹیلجنس اور فوج کے پاس ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’بے نظیر نے اپنے دور میں فوج کو قبائلی فسادات بند کرانے کا حکم دیا تو ایک جنرل نے آکر جواب دیا کہ کہ ’سوری میڈیم، پرائم منسٹر میں یہ مسئلہ حل نہیں کرسکتا‘۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے وہ برے حالات کے باوجود برداشت کی پالیسی پر عمل کررہے ہیں اور قومی مفاہمت کی پالیسی کو اپنائے ہوئے ہیں۔ زرداری نے پرویز مشرف کو ایک غیر آئینی صدر قرار دیا اور کہا کہ صدر مشرف کے جانے کے بعد وہ اتحادی جماعتوں اور تمام چھوٹے بڑے گروپوں سے مشاورت کے بعد نیا صدر لائیں گے۔ انہوں نے کہ عدلیہ کا ایک بڑا بحران ہے لیکن عدلیہ کو ان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ رجسٹرار کیا کرتا ہے ریڈر کس طرح ٹائپنگ کی غلطی کرکے لوگوں کو پریشان کرتا ہے؟یہ وہ بخوبی جانتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں عدلیہ کی بحالی پر اختلاف نہیں ہے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ عدلیہ کا ایک نظام بنایا جائے۔ انہوں نے کہا وہ چاہتے ہیں کہ غیر جانبدار لوگوں پر مشتمل ایک مشاورتی بورڈ بنایا جائے جو عدلیہ کے معاملات کو دیکھے۔ ’لانگ مارچ کا فائدہ اور نقصان دونوں ہوا لیکن ہم نے برداشت کا مظاہرہ کیا۔مسلم لیگ نون پیپلز پارٹی سے اتحاد میں ہے لیکن نواز شریف لانگ مارچ میں گئے‘۔انہوں نے کہ ہمارا رشتہ برداشت کا ہے اور وہ انہوں نے نبھایا ہے۔ آصف زرادی نے کہا کہ جب نواز شریف قید ہوئے تھے تو تب خود انہوں نے جاکر ان سے ہاتھ ملایا۔’میں نواز کی وجہ سے قید تھا لیکن مشرف کی بجائے میں نے ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا‘۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف نے ان کے خلاف اقوام متحدہ میں جاکر کرپشن کے الزام لگائے بعد میں خود انہیں واپس لائے۔غلام اسحاق خان نے الزام لگایا اور بے نظیر بھٹو نے انہی سے میرا (آصف زرداری کا) حلف اٹھوایا۔انہوں نے کہا کہ بے نظیر حلف لینے کو انتقام سمجتھی تھیں۔ آصف زرداری نے کہا کہ معاشی بحران کو آج حل کرنے کے لیے بیٹھا جائے تو کم از کم تین برس لگ جائیں گے۔گندم کے بحران کو حل کرنے کے لیے آنے والی فصل کا انتظار کرنا ہوگا۔پانی بجلی اور ڈیزل مہنگا ہوتا جارہا ہے۔ |
اسی بارے میں ’ایوانِ صدر میں بھی جئے بھٹو ہوگا‘16 June, 2008 | پاکستان مشرف خوشخبری ابھی نہیں: زرداری12 June, 2008 | پاکستان صدر سے اختیارات لینے پر اتفاق27 May, 2008 | پاکستان ’معاف بھی کیا اور معافی بھی مانگی‘03 April, 2008 | پاکستان زرداری پر الزامات: اعتزاز کی تردید02 June, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||