BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف خوشخبری ابھی نہیں: زرداری

آصف زرداری
جج بحال ہوں گے اختلاف صرف طریقہ کار پر ہے: آصف زرداری
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ان کی حکومت ججوں کی بحالی چاہتی ہے، اس پر دوسری کوئی رائے نہیں ہے انہیں نواز شریف کی مکمل حمایت اور تائید حاصل ہے۔ قوم کو صدر مشرف کے حوالے سے خوشخبری ابھی نہیں بعد میں دیں گے۔

کراچی پریس کلب میں جمعرات کی شام صحافیوں سے بات کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ججوں کی بحالی چاہتی ہے اس پر کوئی دو رائے نہیں ہیں مگر اس پر کیسے عمل کیا جائے یہ ایک سوال ہے۔

پیپلز پارٹی کا یہ تصور ہے کہ اس نے مشکلات کا زیادہ سامنا کیا ہے ہم قانون، نظام اور عدلیہ کی مضبوطی پر یقین رکھتے ہیں مگر اس بارے میں ہمارے تجربات نے دوسروں کے مقابلے میں ہمیں بہت کچھ سکھایا ہے ہمارے پاس عدلیہ کی مضبوطی اور جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے روڈ میپ موجود ہے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا صدر مشرف کو ہٹانے کے بارے میں قوم کو کوئی خوشخبری دے رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ یہ خوشخبری بعد میں دیں گے۔

آصف علی زرداری نے میاں نواز شریف سے اختلافات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ پنجاب میں نواز شریف کی حکومت کی حمایت کرتے ہیں اور انہیں مرکز میں نواز شریف کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف جب حکومت میں آئے تھے پہلے دن ان کی یہ پوزیشن تھی کہ ’ آصف بھائی اگر آپ یہ کام اس ڈیڈ لائن میں نہیں کرسکیں گے تو ہوسکتا ہے کہ مجھے آپ سے کچھ راہ دور کرنی پڑے اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی مضبوطی اور جمہوریت کے فروغ کے دوران ہوسکتا ہے کہ کچھ ساتھی سفر میں ساتھ نہ ہوں مگر اس کا یہ مقصد نہیں کہ وہ ہمارا ساتھ چھوڑ گئے ہیں۔

کراچی میں آصف علی زرداری نے اتحادی جماعتوں کے وزراء گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور سٹی ناظم مصطفیٰ کمال سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے صوبائی حکومت اور سٹی حکومت میں اختیارات کے حوالے سے جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ثالثی کا کردا ادا کیا۔

آصف علی زرداری کا صوبائی حکومت میں شامل متحدہ قومی موومنٹ سے تعلقات کے بارے میں کہنا تھا کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی ورکنگ ریلیشن شپ قائم ہونے میں وقت لگ رہا ہے۔ کچھ معاملات ہیں جن پر اختلافات ہوتے رہتے ہیں مگر یہ آج ہیں اور کل بھی رہیں گے۔ ہم نے ایک سیاسی فیصلہ لیا ہے ۔ جس میں الطاف حسین اور اسفند یار ولی ہمارے ساتھ رہیں گے۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے مہمند ایجنسی میں امریکی بمباری کی مذمت کی اور کہا کہ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے یہ حملہ بین اقوامی قانون اور اخلاقیات کی بھی خلاف ورزی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد