زرداری پر الزامات: اعتزاز کی تردید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ انہوں نے بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری پر کرپشن کے الزامات کو درست قرار دیا اور نہ یہ کہا کہ آصف زرداری آزاد جج اس لیے نہیں چاہتے کہ انہیں خوف ہے کہ ان کے خلاف وہ مقدمے دوبارہ چلائے جائیں گے جن میں انہیں ریلیف مل چکاہے۔ لاہور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے ایک انٹریو کے چند مندرجات کی تردید کی ہے۔ اخبار میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے معزول ججوں کی بحالی میں تاخیر پر اپنی جماعت کے سربراہ آصف علی زرداری کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’آصف زرداری آزاد ججز نہیں چاہتے بلکہ حاشیہ بردار ججز چاہتے ہیں‘۔
اخبار کے مطابق اعتزاز کا کہنا تھا کہ انہیں لگتاہے کہ آصف زرداری کو اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں افتخار چوہدری اور دوسرے معزول ججز اپنی بحالی کے بعد ان کے خلاف وہ کیسز دوبارہ نہ کھول لیں جن میں ابھی انہیں ریلیف ملا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ انہوں نے پیپلز پارٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ ان کی جماعت اب تک ایک جاگیردارانہ جماعت ہے۔ نیویارک ٹائم کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اعتزاز احسن اس وقت کار چلا رہے تھے جب رپورٹر نے سوال کیا کہ کیا بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری پر پچھلی حکومتوں میں بنائے گئے مقدمات جائز تھے؟ اعتزاز نے ایک توقف کے بعدجواب دیا: ’زیادہ تر۔‘ اخبار کہتا ہے اعتزاز نے کہا کہ ’ دونوں رہنما جس طرح کے اخراجات کرتے تھے وہ ایسے نہیں تھے جنہیں وہ اپنے جائز ذرائع آمدن میں رہتے ہوئے پورا کرسکیں۔ پیر کو لاہور میں اسی انٹرویو کی تردید کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے اسے نیویارک ٹائمز کی غلطی قرار دیا اور کہا کہ ان کے انٹرویو کو توڑ موڑ کر پیش کیا گیا۔
اعتزاز نے کہا کہ انہوں نے صرف ان الزامات کو دہرایا تھا جو آصف زرداری اور بے نظیر بھٹو پر لگائے گئے تھے یہ نہیں کہا تھا کہ یہ الزامات درست ہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا نیویارک ٹائمز نے ان سے کچھ ایسی باتیں منسوب کی ہیں جو انہوں نے نہیں کہی تھیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ انہوں نے نیویارک ٹائمز کو لکھا ہے اور امید ظاہر کی کہ جلد ان کی وضاحت شائع ہوجائے گی البتہ اعتزاز نے کہا کہ وہ نیویارک ٹائمز کے خلاف باقاعدہ قانونی چارہ جوئی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وکلاء کو ابھی آئینی پیکج نہیں ملا تاہم انہیں ججوں کی جلدی بحالی کی توقع نہیں ہے اس لیے لانگ مارچ ملتوی نہیں ہوگا۔ | اسی بارے میں آزاد عدلیہ، جمہوریت مستحکم: افتخار چودھری31 May, 2008 | پاکستان ’عدالتیں آمروں کا کہنا مانتی رہیں‘25 May, 2008 | پاکستان جسٹس افتخار کا دورہِ فیصل آباد23 May, 2008 | پاکستان ضمنی الیکشن نہ لڑنے کا اعلان18 May, 2008 | پاکستان الیکشن میں شرکت ،فیصلہ کنونشن میں15 May, 2008 | پاکستان بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||