ضمنی الیکشن نہ لڑنے کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے ضمنی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ اتوار کو اپنی رہائش گاہ کے لان میں ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے انتخابات میں حصہ نہ لینے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ دس جون کو وکلاء کے لانگ مارچ کی تیاری کی وجہ سے حصہ نہیں لے رہے جبکہ ان کے ضمنی انتخابات سے اجتناب کی دوسری وجہ ہے کہ اپنی جماعت پیپلز پارٹی کو کسی بڑی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی کی قیادت کو یہ بات بتادی ہے کہ نہ تو وہ پارٹی چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ہی ججوں کی بحالی کی تحریک چھوڑ سکتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ججوں کی بحالی تحریک کے ساتھ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ لے کر انتخاب لڑنا ایک تضاد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے فیصلے کے بارے میں آصف علی زرداری کو ٹیلی فون پر آگاہ کردیا ہے اور ان کو بتایا کہ وہ پارٹی ٹکٹ کے لیے دی گئی درخواست واپس لے رہے ہیں۔جب سے ان سے پوچھا گیا کہ اس پر آصف علی زرداری کا کیا درعمل تھا تو اعتزاز احسن نے اس کے جواب سے گریز کیا۔ اعتزاز احسن نے ضمنی انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ پچپن سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے اور اعلان کیا تھا کہ ان انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ وکلا کی نمائندہ کانفرنس میں کیا جائے گا تاہم وکلا کانفرنس نے انتخابات میں حصہ لینے یا نہ فیصلہ اعتزاز احسن پر چھوڑ دیا تھا۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ دس جون کو ملتان سے لانگ مارچ شروع ہوگااور اسی دن سندھ اور بلوچستان کے وکلاء ملتان میں اکٹھے ہونگے اور اسلام آباد کیطرف لانگ شروع ہوجائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ گیارہ جون کو پشاور کے وکلاء بھی اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کریں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وکلا اپنے لانگ مارچ کے دورا جی ایچ کیو کے گھیراؤ کا کوئی ادارہ نہیں رکھتے ہیں التبہ پارلیمنٹ کی طرف مارچ ہوگا۔ان کے بقول لانگ مارچ کے دوران برطرف جج بار ایسوسی ایشنوں سے خطاب کریں اور ان ججوں کا اس طرح استقبال کیا جائے گا جس طرح کا استقبال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کی تحریک میں کیا گیا تھا۔ اعتزاز احسن کی رائے ہے کہ ججوں کی لانگ مارچ میں شرکت سے عدلیہ اور چیف جسٹس کا وقار مجروح نہیں ہوگا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ وکلاء کے لانگ مارچ میں بھر پور طریقہ سے شامل ہوں کیو نکہ وکلا ملک بچانے نکلے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وکلاء کی اس تحریک شامل ہونا عوام کا فریضہ ہے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد وکلاء کا کیا لائحہ عمل ہوگا تو انہوں نے کہا کہ وکلاء نے آئندہ کی حکمت عملی کی بھی منصوبہ بندی رکھی ہے۔ اعتزاز احسن سے سوال کیا گیا کہ لانگ مارچ سے جمہوریت کو نقصان ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری آصف زرداری پر ہوگی یا آپ پر تو انہوں نے کہا کہ اس کا فیصلہ عوام کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدلیہ کی بحالی سے جمہوریت اور پارلیمان کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہوگی۔ان کے بقول ججوں کی بحالی سے جمہوریت کے اس دشمن جنرل پرویز مشرف کو شکست ہوگی جنہوں نے عدلیہ کی ججوں کو برطرف کردیا تھا۔اعتزاز احسن کے بقول ایسی جمہوریت اور پارلیمان کو عدلیہ کے ملبے پر مضبوط نہیں کیا جاسکتا۔ ان سے سوال کیا گیا کہ پارٹی پالیسی کی خلاف وزری کرنے پر کیا درعمل ہوسکتا ہے توا ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ان کا اور پارٹی کا معاملہ ہے۔‘ ان کےبقول وکلا نے ججوں کی بحالی کے پارلیمان کو خاصا وقت اور مہلت دی بلکہ اٹھارہ فروری سے اب تک کوئی تحریک نہیں چلائی۔ان کی رائے میں معزول ججوں کو صرف تین منٹوں میں ان کے عہدوں پر بحال کیا جاسکتا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا لانگ مارچ میں نواز شریف بھی شامل ہونگے تو انہوں نے کہا کہ اس میں بہت سی قیادتیں شامل ہوں گے۔ اعتزاز احسن سے سوال کیا گیا کہ کیا قومی مفاہمتی آرڈیننس عدلیہ کی بحالی میں رکاوٹ ہے اس حوالے سے کوئی یقین دہانی کیوں نہیں کرائی جاسکتی تو ان کا کہنا تھا کہ جب آزاد عدلیہ آئے گی تو وہ عدلیہ آزاد ہوگی۔ جب ان سے آصف زرداری کی جانب سے جج بحال نہ کرنے کی وجہ پوچھی گئی تو ان کا کہنا ہے کہ سوال آپ آصف زرداری سے کریں میری ان سے اس معاملے پر جو گفتگو ہوئی ہے نجی نوعیت کی ہے تاہم مجھے ان کی رائے سے اختلاف ہے آصف زرداری کی طرف سے معزول ججوں کو تنخواہیں دینے کے معاملہ پر اعتزاز احسن نے کہا کہ ابھی یہ فرق دیکھنا ہے کہ یہ نتخواہیں یا خیرات۔ | اسی بارے میں ’ججز بحالی کے لیے لانگ مارچ ہوگا‘16 May, 2008 | پاکستان ’ججوں کی بحالی آئین میں نہیں‘16 May, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی کے لیے لانگ مارچ17 May, 2008 | پاکستان چیف جسٹس سندھ کی تبدیلی15 May, 2008 | پاکستان پاکستان: وکلاء کی ہفتہ وار ہڑتال15 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||