BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 May, 2008, 16:01 GMT 21:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان: وکلاء کی ہفتہ وار ہڑتال

ججوں کی بحالی
وکلاء کے احتجاج میں سیاسی جماعتوں کےرہنماء، کارکن اور سول سوسائٹی کے ارکان بھی شامل ہوئے
پاکستان بھر میں وکلاء نے معزول ججوں کی بحالی کے لیے جمعرات کو ہفتہ وار احتجاج کیا۔

پاکستان بارکونسل کے فیصلے کی روشنی میں وکیلوں نےمکمل ہڑتال کی اور جلوس نکالے۔ وکلاء کے احتجاج میں سیاسی جماعتوں کےرہنماء، کارکن اور سول سوسائٹی کے ارکان بھی شامل ہوئے۔

پنجاب میں لاہور سمیت صوبہ بھر میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور بار ایسوسی ایشنوں کی سطح پر احتجاجی اجلاس کیے اور ریلیاں نکالیں۔

صوبائی دارالحکومت لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن اور لاہور ہائی کورٹ بار کے الگ الگ اجلاسوں کے بعد وکلاء نے ایک احتجاجی جلوس نکالا جس میں صوبائی وزیر میاں مجتبیٰ الرحمٰن بھی شامل ہوئے۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اجلاس سے مسلم لیگ نون کے رہنماء اور وفاقی کابینہ سے مستعفیٰ ہونے والے وزیر خواجہ سعد رفیق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضیاء کی آمریت کامقابلہ کرنے والی پیپلز پارٹی آج پہلے سے بڑے امتحان سے دوچار ہے اور پیپلز پارٹی کو اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اس نے قوم کے ساتھ کھڑے ہونا ہے یا غیروں کے ساتھ۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نون نے ملک میں قانون کی حکمرانی کے لیے وزارتیں چھوڑ کر کوئی مہنگا سودا نہیں کیا اور پنجاب حکومت آئین کی بالادستی کے لیے ان کے پاؤں کی زنجیر نہیں بنے گی۔

پیپلز پارٹی امتحان سے دوچار ہے
 ضیاء کی آمریت کامقابلہ کرنے والی پیپلز پارٹی آج پہلے سے بڑے امتحان سے دوچار ہے اور پیپلز پارٹی کو اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اس نے قوم کے ساتھ کھڑے ہونا ہے یا غیروں کے ساتھ
سعد رفیق

خواجہ سعد رفیق کے بقول وزراتوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ پارٹی قائد کا نہیں بلکہ سینڑل ایگزیکٹو کمیٹی اور پارلیمانی کمیٹی کا متفقہ فیصلہ تھا۔

جلوس میں سول سوسائٹی کے ارکان کے علاوہ جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور خاکسار تحریک کے کارکن بھی شریک ہوئے۔

مظاہرین نے’گومشرف گو‘، ’این آر او کی بیماری زرداری زرداری‘ اور ’امریکی پجاری، زرداری زرداری‘ کے نعرے لگائے۔

کراچی سے ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ کراچی میں سٹی کورٹس اور ملیر کی عدالتوں میں تو مکمل بائیکاٹ تھا لیکن سندھ ہائی کورٹ میں اس کا اثر کم دکھائی دیا۔

سندھ ہائی کورٹ بار کے اجلاس سے بار کے صدر جسٹس ریٹائرڈ رشید اے رضوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سترہ مئی کے بعد وکلاء کسی بھی تحریک کے لیے خود کو تیار رکھیں۔

انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ پاکستان کے قیام کی قرارداد تو ایک ہفتہ میں تیار ہوگئی تھی لیکن ججوں کی بحالی کی قرارداد میں اڑھائی ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود قرارداد کیوں تیار نہیں ہوسکی۔

 بلوچستان کے قوم پرست رہنما اختر مینگل کے خلاف غدداری کے مقدمہ کو وزیر اعظم ایک ایگزیکٹو حکم کے ذریعے ختم کرسکتے ہیں تو پھر معزول ججوں کو بھی ایگزیکٹو آرڈر سے بحال کیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ججوں کو ججوں سے لڑانے کی سازش کبھی کامیاب نہیں ہوگی اور جج سمجھتے ہیں کہ ججوں کو بحال کرانے اور ان کی دوبارہ تعیناتی میں کیا فرق ہے۔

پشاور سے نامہ نگار عبد الحئی کاکڑ نے بتایا کہ صوبہ سرحد کی ماتحت اور اعلیٰ عدالتوں میں مکمل بائیکاٹ رہا اور وکلاء نے پشاور ہائی کورٹ سے ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی۔

پشاور ہائی کورٹ بار میں ہونے والے اجلاس میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججوں عثمان علی شاہ، میاں برہان الدین، علی حسین قزلباش اور فضل علی خان نے شرکت کی۔

وکلاء کے اجلاس کے بعد ریٹائرڈ ججوں نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ بلوچستان کے قوم پرست رہنما اختر مینگل کے خلاف غداری کے مقدمہ کو وزیر اعظم ایک ایگزیکٹو حکم کے ذریعے ختم کرسکتے ہیں تو پھر معزول ججوں کو بھی ایگزیکٹو آرڈر سے بحال کیا جاسکتا ہے۔

کوئٹہ میں وکلا نے عدالتوں میں پیش نہ ہوکر ہفتہ وار احتجاج میں حصہ لیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد