BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آزاد عدلیہ، جمہوریت مستحکم: افتخار چودھری

دورے کا مقصد شو آف پاور نہیں ہے: علی احمد کرد
جسٹس افتخار چودھری نے کہا ہے کہ آزاد عدلیہ کے قیام سے جمہوریت مستحکم ہو گی اور 58 ٹو بی کا استعمال مشکل ہو جائے گا۔

انہوں نے یہ بات پشاور ہائی کورٹ کے احاطے میں منعقد ہونے والے وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اس سے پہلے معزول چیف جسٹس افتخار کا قافلہ مختلف شہروں میں رکتا ہوا پشاور پہنچا۔ ان کے قافلے نے تین گھنٹے کا فاصلہ گیارہ گھنٹوں میں طے کیا۔ ان کے ساتھ وکلاء رہنما اعتزاز احسن، منیر اے ملک اور حامد خان سمیت کئی سینیئر وکلاء سفر کر رہے ہیں۔

پشارو میں وکلاء کا قافلہ صوبۂ سرحد کے معزول چیف جسٹس طارق پرویز کی رہاشگاہ گیا جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سنیچر کے روز گیارہ بجے کے قریب اپنے گھر سے پشاور کے لیے روانہ ہوئے تو وکلاء، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتیں جن میں پاکستان مسلم لیگ نون، جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف شامل ہیں، کے کارکنوں کی بڑی تعداد ججز کالونی میں موجود تھی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن وہاں پر موجود نہیں تھے۔

وکلاء رہنما علی احمد کُرد اور منیر اے ملک بھی معزول چیف جسٹس کے ہمراہ تھے۔ افتخار محمد چوہدری کے گھر کے باہر وکلاء رہنما علی احمد کُرد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معزول چیف جسٹس کے اس دورے کا مقصد طاقت کا مظاہرہ نہیں ہے اور وکلاء کی جدو جہد کا مقصد پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ وکلاء کی یہ تحریک ضرور کامیاب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد عدلیہ کے بغیر اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ ملکی پارلیمنٹ کتنے عرصہ تک چلتی ہے۔

علی احمد کُرد نے کہا کہ وکلاء کی اس تحریک کو کوئی سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔ واضح رہے کہ وکلاء کے اس قافلے میں پاکستان سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن شامل نہیں ہیں۔ وہ پشاور میں اس قافلے میں شامل ہوں گے۔

معزول چیف جسٹس نے جونہی اسلام آباد کی حدود پار کی تو پنجاب پولیس کی گاڑیوں نے افتخار محد چوہدری کی گاڑی کو اپنی حفاظت میں لے لیا اور انہیں چیف جسٹس کا پروٹوکول دیا اور انہوں نے کسی شخص یا گاڑی کو اُن کی گاڑی کے پاس نہیں آنے دیا۔ راستےمیں سڑک کے دونوں جانب کھڑے ہوئے افراد نے معزول چیف کا استقبال کیا اور ان کی گاڑی پر گل پاشی کی۔

صوبۂ سرحد کی حدود میں داخل ہوتے ہی سرحد کی پولیس معزول چیف جسٹس کی حفاظت پر معمور ہوجائے گی۔ پنجاب حکومت کے بعد سرحد کی حکومت نے بھی افتخار چوہدری کو وی وی آئی پی پرٹوکول دینے کا اعلان کیا ہے۔

ادھر پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے جج جسٹس شاکراللہ جان سنیچر کے روز لندن روانہ ہوگئے ہیں جہاں پر وہ دو ماہ قیام کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد