BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چیف جسٹس کا شاندار استقبال

جج بحال نہیں ہوں گے وکلاء لانگ مارچ کی تیاری کریں: اعتزاز احسن
پاکستانی وکلاء کے نمائندوں نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی جس آئینی پیکیج کو پارلیمنٹ میں لانے کی کوشش کر رہی ہے اس کا مقصد عدلیہ کے وقار میں اضافہ نہیں بلکہ ان ججوں کو سزا دینا ہے جنہوں نے عدلیہ کے وقار کو بلند کیا۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے وکلاء سے کہا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ جج بحال نہیں ہوں گا اور وکلاء کو لانگ مارچ کی تیاری کرنی چاہیے۔

معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری گیارہ گھنٹے کی مسافت کے بعد فیصل آباد بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرنے کے لیے فیصل آباد پہنچے تو وکلاء اور عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد معزول چیف جسٹس کا والہانہ استقبال کیا۔

حکومت پنجاب نے جسٹس افتخار محمد چودھری کو چیف جسٹس آف پاکستان کا مکمل پروٹوکول دیا اور پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے چیف جسٹس کا استقبال کیا اور ان کی گاڑی چلا کر بار ایسوسی ایشن کے پنڈال تک لائے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور معزول چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر چیف جسٹس کے عہدے کی معیاد مقرر کی گئی تو وکلاء اسے مائنس ون فارمولہ سمجھیں گے جسے وہ پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔

اعتزاز احسن نے کہا مجوزہ آئینی پیکیج سے عدلیہ کے وقار کو بڑھایا نہیں جا رہا بلکہ عدلیہ کے وقار کو بڑھانے والوں کو سزا دی جا رہی ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ وکلاء پارلیمنٹ کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں لیکن پارلیمنٹ کو اپنے آپکو مضبوط کرنا پڑے گا اور پارلیمنٹ عدلیہ کے ملبے پر قائم نہیں رہ سکتی۔

وکلاء لانگ مارچ کی تیاری کریں
 مجھے خدشہ ہے کہ جج بحال نہیں ہوں گے۔وکلاء لانگ مارچ کی تیاری کریں۔
اعتزاز احسن
اعتزاز احسن نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ جج بحال نہیں ہوں گے اور وکلاء لانگ مارچ کی تیاری کریں۔

چیف جسٹس کے وکیل حامد خان نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری کو تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور انہیں 1996 میں عدلیہ سے لڑائی کو یاد کرنا چاہیے جس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہو گئی تھی۔

حامد خان نے کہا کہ جس طرح کا آئینی پیکیج حکومت لانا چاہا رہی ہے اس طرح کا پیکیج کسی آمر کو ہی زیب دیتا ہے۔

حامد خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک ایسے شخص کو نوازنا چاہتی ہے جن نے تین نومبر 2007 کو اپنے حلف سے غداری کی اور ایک آمر سے وفاداری کا حلف لیا۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کسی ایسے آئینی پیکیج کو تسلیم نہیں کریں گے جس میں عدلیہ کی آزادی پر قدغن لگائی جا سکے۔

حامد خان نے کہا کہ آئینی پیکیج کے ذریعے حکومت ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر کو بڑھانا چاہا رہی ہے جس کو وکلاء پہلے ہی رد کر چکے ہیں اور صدر پرویز مشرف کو ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کے بعد اسے واپس لے چکے ہیں۔

مائنس ون فارمولہ منظور نہیں
 پیپلز پارٹی ایک ایسے شخص کو نوازنا چاہتی ہے جن نے تین نومبر 2007 کو اپنے حلف سے غداری کی اور ایک آمر سے وفاداری کا حلف لیا۔
حامد خان

حامد خان نے کہا جو شخص کمزور ہو گیا تھا پیپلز پارٹی اس کو مضبوط کرنے کی کوشش میں ہے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کی آمد پر فیصل آباد میں زبردست بارش ہوئی لیکن بارش کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد پوری رات چیف جسٹس کا خطاب سننے کے لیے بار ایسوسی ایشن کے دفتر کے باہر جمع رہی۔

معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے علاوہ سپریم کورٹ کے معزول جج راجہ فیاض احمد، لاہور ہائی کورٹ کے معزول جج خواجہ شریف ، ایم شاہد صدیقی، جہانگیر ارشد بھی شریک ہوئے۔

پاکستان پیلز پارٹی کے سابق وزیر احمد سعید اعوان بھی جسٹس افتخار محمد چودھری کے اسقبال کرنے میں شامل تھے۔

معزول چیف جسٹس کی فیصل آباد آمد کے موقع گل پاشی کی گئی اور سینکڑوں من پھول کی پتیاں جسٹس افتخار محمد چودھری کے راستے میں نچاور کی گئیں۔

پنجاب حکومت نےمعزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آمد کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ۔

چیف جسٹس کے قافلے کے ساتھ اسلام آباد سے فیصل آباد جانے والے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد چیف جسٹس کا استقبال کے لیے آئی۔

چیف جسٹس
معزول چیف جسٹس کو مکمل پروٹوکول دیا جا رہا ہے

چیف جسٹس کے والدین کا تعلق ضلع فیصل آباد سے ہے لیکن جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنے زندگی کا زیادہ حصہ کوئٹہ میں گزارا اور وہی سی تعلیم حاصل کی اور پہلی مرتبہ بلوچستان ہائی کورٹ کے جج بنے۔

عام حالات میں اسلام آباد سے فیصل آباد کا سفر تین گھنٹے میں طے ہو جاتا ہے لیکن چیف جسٹس کے قافلے کو فیصل آباد پہنچنے میں گیارہ گھنٹے لگے۔

معزول چیف جسٹس جب فیصل آباد بار کے پنڈال میں پہنچنے تو وہاں وکلاء کی ایک بڑی تعداد نے جسٹس افتخار کے حق میں اور صدر پرویز مشرف کے خلاف نعرے بازی کی۔

اسلام پولیس کی دو گاڑیوں نے موٹر وے انٹر چینج تک چیف جسٹس کے قافلے کے ساتھ سفر کیا جبکہ باقی سفر کے دوران قافلے کی سکیورٹی کی ذمہ داری پنجاب پولیس کی ہے۔

فیصل آباد میں وکلاء سے خطاب کے بعد جسٹس افتخار محمد چودھری اکتیس مئی کو پشاور جائیں گے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کا قافلہ جب تین بجے سے ذرا پہلے ججز کالونی میں اپنی رہائش گاہ سے روانہ ہوا تو سیاسی اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد وہاں موجود تھی۔

جن سیاسی جماعتوں کے جھنڈے چیف جسٹس کی رہائش گاہ کے باہر دیکھی گئی ان میں پاکستان مسلم لیگ نواز، جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور کیمونسٹ پارٹی شامل ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چند کارکن بھی چیف جسٹس کی فیصل آباد روانگی کے وقت وہاں موجود تھے۔

ابتدائی پروگرام کے مطابق معزول چیف جسٹس راستے میں خطاب نہیں کریں گے تاہم لوگ راستے میں اُن کا استقبال کریں گے۔

وکلاء نمائندوں کے مطابق چیف جسٹس کے لیے پہلا استقبالی کیمپ گولڑہ موڑ لگایا گیا جہاں پاکستان مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی انجم عقیل ان کا استقبال کیا۔

اسلام آباد موٹر وے ٹول پلازہ پر پشاور اور اٹک سے آئے ہوئے وکلاء جلوس میں شامل ہوگئے۔ اسی طرح بلکسر انٹرچینج پر چکوال اور تلہ گنگ سے تعلق رکھنے والے وکلاء جلوس میں شامل ہوئے۔

جب چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا قافلہ کلر کہار پہنچا تو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چودھری اعتزاز احسن بھی جلوس میں شامل ہو گئے۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی مجلسِ عاملہ کے اجلاس کی وجہ سے اسلام آباد میں جلوس میں شامل نہ ہو سکے تھے۔

کلر کہار میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ وکلاء چیف جسٹس کی شرائط ملازمت میں کوئی ایسی تبدیلی قبول نہیں کریں گے جو مائنس ون فارمولے کے مترادف ہو۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کی تحریک پہلے بھی پرامن تھی اور اب بھی پرامن رہے گی۔

منتظمین کے مطابق پنڈدادن خان انٹرچینج پر جہلم اور پنڈدادن خان سے تعلق رکھنے والے وکلا جلوس میں شامل ہوں گے۔

لاہورلاہور میں احتجاج
وکلاء، سول سوسائٹی اور سیاسی کارکن
وکلاء فائل فوٹوصدر کی سازش؟
اعتزاز کے خطاب میں ہاتھا پائی اور حملہ
لاہور مظاہرہکراچی پر احتجاج
پنجاب و سرحد: ایم کیو ایم پر پابندی کامطالبہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد