BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 31 March, 2008, 23:45 GMT 04:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بحالی نہیں، میں آج بھی جج ہوں‘

 افتخار چودھری
رہائی کے بعد سب سے پہلے وہ کوئٹہ پہنچے ہیں
سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ اب ملک میں آئین اور قانون کی پاسداری ہوگی اور جو قومیں اور ملک کے آئین کی پاسداری نہیں کرتیں تباہ ہو جاتی ہیں اور جہاں آئین کی پاسداری ہوتی ہے وہ قومیں ترقی کرتی ہیں۔

کوئٹہ میں بلوچستان ہائی کورٹ کے احاطے میں وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ آئین اور قانون کا مقصد عام آدمی کا مفاد ہوتا ہے اور یہ صرف مراعات یافتہ افراد کے لیے نہیں بلکہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے ہوتا ہے اور قانون اور عدل کے نفاذ میں حائل رکاوٹیں ہٹائی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ آج بھی جج ہیں ان کی بحالی کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا انہیں بس کام کرنے کے لیے سہولت فراہم کرنا ہے۔ چودھری افتخار نے کہا کہ ان کی پہلے یہی منصوبہ تھا کہ جس روز ان کی نظر بندی ختم ہوگی وہ کام کرنے کے لیے عدالت جائیں گے اور کام کریں گے لیکن حکومت اور پارلیمان کو عزت دینے کے لیے انہوں نے حکومت کےفیصلے کو سراہا ہے اور وہ قانون پسند لوگ ہیں اور بقول اعتزاز احسن کے اب منزل دور نہیں ہے اور وہ ضرور کام کرنے جائیں گے۔

چودھری افتخار نے کہا کہ اٹھارہ فروری کو خاموش انقلاب سے پاکستان بدل گیا ہے اب عام آدمی کو بھی اس کے حقوق معلوم ہیں اور عام آدمی جانتا ہے کہ ایک شخص کی حکمرانی نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جس ملک میں عدلیہ آزاد نہیں ہوتی وہاں غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں ہوتی کیونکہ غیر ملکی سرمایہ کار پہلے یہ جاننا چاہتا ہے کہ یہاں عدالیہ کیسی ہے اور اگر اسے یہ معلوم ہو کہ یہاں ججز کو قید میں رکھا گیا ہے اور انہیں کام کی اجازت نہیں دی جار ہی تو وہ کیا سوچے گا۔

کوئٹہ پہنچنے پر جسٹٹس چودھری کا والہانہ استقبال کیا گیا

معزول چیف جسٹس افتخار چودھری نے ان کا والہانہ استقبال کرنے پر کوئٹہ کے لوگوں، سیاسی کارکنوں اور قائدین کا شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ اس استقبال نے ثابت کر دیا ہے کہ بلوچستان کے لوگ امن پسند ہیں اور انصاف چاہتے ہیں۔

اس سے پہلے وکلاء تحریک کے رہنما چودھری اعتزاز احسن نے کہا کہ جہاں ایک شخص کو اختیار حاصل ہو کہ وہ آئین کو معطل کردے ساٹھ ججز کو گرفتار کردے تو وہ آئندہ پارلیمان کے دو سو اسی اراکین کو وہی گرفتار کر سکتا ہے اس لیے اس سلسلے کو ادھر ہی روکنا چاہیے۔

چودھری اعتزاز احسن نے اپنی نظم سنائی جس میں انہوں نے کہا کہ اب منزل دور نہیں ہے۔

علی احمد کرد ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں پر ظلم ڈھائے گئے ہیں انہوں نے پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما صمد خان اچکزئی کا ذکر کیا اور نواب اکبر بگٹی کے بارے میں بتایا اور کہا کہ اب بلوچستان کے لوگوں کی نگاہیں عدلیہ کی طرف ہیں اور وہ انصاف چاہتے ہیں۔

اس سے پہلے چودھری افتخار کا کاررواں ساڑھے آٹھ بجے رات بلوچستان ہائی کورٹ پہنچا لیکن چودھری افتخار پنڈال میں گیارہ بجے پہنچے۔ انہوں نے اپنی تقریر سوا ایک بجے شروع کی جو رات اڑھائی بجے تک جاری رہی۔ ان کی تقریر کا موضوع آئین اور قانون کی پاسداری کے حوالے سے تھا لیکن وہ زیادہ تر کوئٹہ میں ان کے استقبال اور کنونشن میں موجود وکلا: کا ذکر کرتے رہے۔

ان کے استقبال کے لیے اندورن سندھ کے علاوہ پنجاب اور سرحد سے وکلاء پہنچے تھے۔ انہوں نے لکی مروت سے آئے ہوئے وکلاء کا ذکر کیا اور کہا کہ وکلاء کی تحریک جس انداز سے جاری ہے اس سے عدلیہ ضرور آزاد ہوگی اور ملک بہتر راہ پرگامزن ہوگا۔

اسی بارے میں
جسٹس رمدے کے لیے احتجاج
31 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد