کوئٹہ:جسٹس افتخار کا والہانہ استقبال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جسٹس افتخار محمد چوہدری آج اپنے آبائی شہر کوئٹہ پہنچے ہیں جہاں وکلاء تنظیموں سیاسی جماعتوں اور کوئٹہ کے شہریوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا ہے اور اب سے تھوڑی دیر پہلے تک یعنی دوپہر ساڑھے تین بجے وہ صرف آدھ کلو میٹر کا فاصلہ کوئی اڑھائی گھنٹے میں طے کر پائے ہیں۔ ایئر پورٹ کے قریب سیاسی جماعتوں کے کیمپس کے پاس اپنی بلیٹ پروف گاڑی سے وکلاء تحریک کے رہنما چوہدری اعتزاز احسن نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ آج کوئٹہ میں جسٹس افتخار چوہدری کے شاندار استقبال سے ججز کی بحالی کے لیے ایک ماہ کی مدت کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوگیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج کوئٹہ میں پاکستان کے مختلف صوبوں سے وکلاء اور شہری پہنچے ہیں اور یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام نے صدر پرویز مشرف کے فیصلوں کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے اس فیصلے کو لے کر ہم پنجاب، سندھ، پختونخواہ اور کشمیر کے شہر شہر پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کی پارلیمان کو تیس دن دیے ہیں اور اب حکومت بھی بن چکی ہے اور آج کابینہ نے بھی حلف اٹھا لیا ہے اس لیے آج سے گنتی شروع ہو گئی ہے۔ چوہدری اعتزاز کے مطابق کاؤنٹ ڈاؤن آج سے شروع ہو گیا ہے اور اب تیس انتیس اٹھائیس ستائیس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک گننے کے بعد انھوں نے اپنی تقریر ختم کر دی ۔ اس موقع پر سیاسی جماعتوں کے کارکن اور وکلاء مختلف نعرے لگاتے رہے جیسے ’چیف تیرے جانثار بے شمار بے شمار‘ ’ گو مشرف گو‘ اور ’عدلیہ کو آزاد کرو‘ وغیرہ شامل تھے۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے علاوہ جانثار افتخار نامی تنظیم کی جانب سے شہر بھر میں پوسٹر لگے ہوئے ہیں۔ کوئٹہ ائیر پورٹ سے شہر تک چھ کلو میٹر کا فاصلہ ہے اور اس سارے رستے پر سیاسی جماعتوں خصوصاً پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے کارکن اور رہنما بڑی تعداد میں اپنی جماعت کے پرچم اور جسٹس افتخار چوہدری کی بڑی بڑی تصاویر اٹھائے کھڑے ہیں۔ دیگر سیاسی جماعتوں میں پاکستان مسلم لیگ نواز نینشل پارٹی بلوچستان نینشل پارٹی جماعت اسلامی جمہوری وطن پارٹی تحریک انصاف اور جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کے نظریاتی دھڑے کے کارکن موجود تھے۔طلبا مزدور اور رکشہ ڈرائیورز بھی جسٹس افتخار چوہدری کے استقبال میں موجود تھے۔ جسٹس افتخار چوہدری کوئی بارہ بجکر چالیس منٹ پر ایئر پورٹ سے باہر نکلے تو بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سپریم کورٹ کے معزول جج راجہ فیاض اور سینیئر وکلاء نے ان کا استقبال کیا۔ معزول چیف جسٹس افتخار چوہدری کے ہمراہ چوہدری اعتزاز احسن اور منیر اے ملک سمیت دیگر وکلا رہنما آئے ہیں۔ ایئر پورٹ سے نکلنے کے بعد جسٹس افتخار چوہدری کا گاڑی کی چھت پر بڑی تعداد میں وکلا چڑھ گئے جس کے کچھ دیر بعد گاڑی میں نقص پیدا ہوگیا تھا۔ جسٹس افتخار چوہدری بلوچستان ہائی کورٹ کے احاطے میں وکلاء کنونشن سے خطاب کریں گے جس کے بعد وہ چھاؤنی میں اپنے گھر جائیں گے اور کل ضلع کچہری میں بلوچستان بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کریں گے۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی اس موقع پر موجود تھے لیکن وہ وکلاء اور جسٹس افتخار چوہدری کے کاررواں سے دور دور رہے جیسے نینشل پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عبدالحئی بلوچستان نینشل پارٹی کے حبیب جالب ایڈووکیٹ جماعت اسلامی کے زاہد اختر جبکہ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے صوبائی رہنما عثمان کاکڑ کاروان کے ہمراہ اس لیے نظر آ رہے تھے کیونکہ ان کے کارکنوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی۔ ائیر پورٹ پر نواب اکبر بگٹی کے بیٹے اور جمہوری وطن پارٹی براہمدغ گروپ کے رہنما جمیل اکبر بگٹی کراچی جانے کے لیے پہنچے تھے۔ صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے جسٹس افتخار چوہدری کی تحریک کو سراہا لیکن ساتھ ہی کہا کہ وہ اس وقت اسے تحریک یا جدوجہد کو مانیں گے جب گزشتہ تین سالہ دور میں بلوچستان پر روا رکھی گئی زیادتیوں اور نواب اکبر بگٹی سمیت بلوچوں کا قاتل کٹہرے میں ہوں گے اور بقول ان کے ان کا دعویٰ پرویز مشرف پر ہے۔ |
اسی بارے میں جسٹس رمدے کے لیے احتجاج31 March, 2008 | پاکستان وکلاء کے لیے دراب پٹیل ایوارڈ30 March, 2008 | پاکستان چاروں صوبوں میں وکلا کا احتجاج27 March, 2008 | پاکستان رکاوٹیں ہٹ گئیں، جج ’آزاد‘24 March, 2008 | پاکستان ’خلیل رمدے کا گھر زبردستی خالی‘29 March, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||