BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 31 March, 2008, 11:46 GMT 16:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رمدے کا گھر خالی، وکلاء کا احتجاج

وکلاء کا مظاہرہ
وکلاء کی وجہ سے قوم زندہ ہوکر اٹھ کھڑی ہوئی ہے اور انہوں نے ڈکٹیٹروں کا سر جھکادیا ہے: جسٹس رمدے
پاکستان بھر میں وکلاء تنظمیوں نے سپریم کورٹ کے معزول جج جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے کی سرکاری رہائش گاہ کا سامان باہر پھینکنے کے خلاف یوم احتجاج منایا۔

اس احتجاج کی کال سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کےصدر اعتزاز احسن نے دی تھی۔

لاہور کی ایوان عدل میں وکلاء کا ایک احتجاجی اجلاس ہوا جس سے جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے نے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے وکلاء برادری کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ وکلاء جس جرات اور بہادری سے جدوجہد کر رہے ہیں اسے پاکستان کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ان کی وجہ سے قوم زندہ ہوکر اٹھ کھڑی ہوئی ہے اور انہوں نے ڈکٹیٹروں کا سر جھکا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ وکلاء کی تحریک بارآور ثابت ہوگی اور ان کا قربانیاں رنگ لائیں گی۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ قوم اور وکیل مل کر ملک وقوم کی ترقی کے لیے کارنامہ انجام دے رہے ہیں جسے آنےوالی نسلیں قیامت تک یاد رکھیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ان کے رہائش گاہ کو خالی کروانا ایک مجرمانہ فعل تھا اور وکلاء اور میڈیا نے جس طرح ان کے گھر پہنچ کر ان کا ساتھ دیا اس کے لیے وہ ذاتی طور پر احسان مند ہیں اور ان کی آنے والی نسلیں بھی یہ احسان یاد رکھیں گی۔

 رہائش گاہ کو خالی کروانا ایک مجرمانہ فعل تھا اور وکلاء اور میڈیا نے جس طرح میرے گھر پہنچ کر میرا ساتھ دیا اس کے لیے میں ذاتی طور پر احسان مند ہوں اور میری آنے والی نسلیں بھی یہ احسان یاد رکھیں گی۔
جسٹس رمدے

واضح رہے کہ ججز کالونی اسلام آباد میں واقع سپریم کورٹ کے معزول جج جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے کی سرکاری رہائش گاہ کو سنیچر کی رات بغیر کسی پیشگی اطلاع کے خالی کرایا گیا۔ تاہم بعد میں وزیر اعظم نے اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے سامان واپس رکھنے اور واقعہ کی انکوائری کا حکم دیا۔

پیر کو لاہور کے ایوان عدل میں ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لاہور بار کے صدر منظور قادر نے کہا کہ جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے کے گھر ہونے والا حملہ غیر قانونی اقدام تھا تاہم وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اس کے خلاف جو ایکشن لیا ہے اس پر وہ ان کے شکر گذار ہیں۔

اجلاس کے بعد لاہور کے وکلاء نے عدالتی امور کا بائیکاٹ کیا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے میڈیا ایڈوائز محمد اظہر کے مطابق ملک بھر کے وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے۔

اسی بارے میں
ججز کی بحالی کا کیا ہوگا؟
13 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد