’معزولی پر فیصلے تک خطاب بند‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری جمعرات کو مبینہ طور پر موسم کی خرابی کی وجہ سے اسلام آباد نہیں جا سکے اور اطلاعات ہیں کہ حکومت کی درخواست پر اب معزول چیف جسٹس وکلاء کی کسی تقریب سے اس وقت تک خطاب نہیں کرنے جائیں گے جب تک پارلیمان ان کی معزولی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کر لیتی۔ کوئٹہ میں چار دن گزارنے کے بعد جمعرات کو معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری واپس اسلام آباد جا رہے تھے لیکن ائر پورٹ پر انہیں بتایا گیا کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے جہاز کوئٹہ ائر پورٹ نہیں اتر سکا جس وجہ سے وہ اسلام آباد نہیں جا سکتے۔ جسٹس افتخار چوہدری نے اکتیس مارچ کو کوئٹہ میں وکلاء کنونشن سے خطاب کرنے کے بعد اگلے روز بلوچستان بار ایسوسی ایشن کی ایک تقریب سے خطاب کرنا تھا اور کوئٹہ کے بعد انہوں نے سندھ بھی جانا تھا لیکن اچانک یہ تقاریب منسوخ کر دی گئی تھیں۔ اس بارے میں بلوچستان بار ایسسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر فاروق اے نائک نے کوئٹہ کی استقبال کے بعد ٹیلیفون کیا تھا جس میں انہوں نے درخواست کی تھی کہ جسٹس افتخار چوہدری پارلیمان کے فیصلے تک وکلاء کی کسی تقریب سے خطاب نہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وکلاء قائدین نے یہ فیصلہ پہلے سے کیا تھا کہ جب تک پارلیمان معزول ججز کو عدالتوں میں باقاعدہ طور پر کام کرنے کی اجازت نہیں دے دیتی تب تک جسٹس افتخار محمد چوہدری کسی بار کی تقریب سے خطاب نہیں کریں گے۔ باز محمد کاکڑ کے مطابق معزول ججز کے حوالے سے ملک کے سولہ کروڑ عوام کافی فکر مند ہیں اور جسٹس افتخار چوہدری جہاں جاتے ہیں وہاں بڑی تعداد میں لوگ پہنچ جاتے ہیں جس سے مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کوئٹہ آنے سے پہلے جسٹس افتخار چوہدری کو ملک کی کوئی تیس بار ایسوسی ایشنز نے خطاب کی دعوت دی گئی تھی لیکن کوئٹہ آنے کا مقصد اپنے رشتہ داروں سے ملنا تھا۔ | اسی بارے میں بار کونسلوں سے خطاب کا پروگرام26 March, 2008 | پاکستان وکلاء کے لیے دراب پٹیل ایوارڈ30 March, 2008 | پاکستان کوئٹہ:جسٹس افتخار کا والہانہ استقبال31 March, 2008 | پاکستان جسٹس رمدے کے لیے احتجاج31 March, 2008 | پاکستان رمدے کا گھر خالی، وکلاء کا احتجاج31 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||