BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 May, 2008, 23:16 GMT 04:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الیکشن میں شرکت ،فیصلہ کنونشن میں

اعتزاز احسن
اعتزاز احسن نے راولپنڈی سے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ان کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ سترہ مئی کو لاہور میں ہونے والے اس ملک کنونشن میں کیا جائے گا جس میں وکلاء تحریک کی آئندہ کے لیے حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔

جمعرات کو اپنی اقامت گاہ پر پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ان کے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کے حوالے سےسپریم کورٹ بار کے مجلس عاملہ نے چوبیس اپریل کو فیصلہ کیا تھا تاہم وہ اپنے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کا معاملہ وکلا کنونشن پر چھوڑ رہے ہیں۔اعتزاز احسن کے بقول ان کے انتخابات میں حصہ لینے کے بارے میں وکلاء کنونشن میں جو فیصلہ کیا جائے گا وہ اس کے پابند ہونگے۔

خیال رہے کہ اعتزاز احسن نے پاکستان بارکونسل کے فیصلہ کی روشنی میں اٹھارہ فروری کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا تاہم ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے انہوں نے راولپنڈی کے قومی اسمبلی کے حلقہ پچپن سے کاغذات جمع کرائے ہیں اور ریٹرنگ آفیسر نے ان کے کاغذات منظور کر لیے ہیں تاہم ابھی پیپلز پارٹی کے طرف سے ان کو انتخابی ٹکٹ دینے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

اعتزاز احسن نے واضح کیا ہے کہ وہ انتخابات میں جانے سے پہلے ججوں کی بحالی کا حلف اٹھائیں گے اور ان کا وکلاء تحریک کے ساتھ کیا گیا وعدہ اٹل ہے جس میں کوئی لچک نہیں آئے گی۔

 اعتزاز حسن نے کہا کہ پیپلز پارٹی سے ان کا رشتہ چالیس سال پرانا ہے جسے وہ توڑ نہیں سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی خون کی طرح ان کے رگوں میں بہتی ہے اور وہ اسے چھوڑ نہیں رہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ان وکلاء کیا قصور ہے جنہوں نے وکلا تنظیم کے فیصلہ کی وجہ سے انتخابات میں حصہ نہیں لیا تو ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ بار کی رائے تھی کہ انتخابات کا بائیکاٹ نہ کیا جائے تاہم انہوں نے پاکستان بار کونسل کے فیصلے کی روشنی میں انتخاب میں حصہ نہیں لیا۔انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر انتخابات میں حصہ لینے کے حامی تھے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ججوں کے معاملہ پر ان کا پارٹی پالیسی سے اختلاف ہے تاہم ان کا پیپلز پارٹی سے رشتہ چالیس سال پرانا ہے جسے وہ توڑ نہیں سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی خون کی طرح ان کے رگوں میں بہتی ہے اور وہ اسے چھوڑ نہیں رہے۔

اعتزاز احسن نے دیگر سوال کے جواب میں کہا کہ جو جج بھی جسٹس افتخار محمد چودھری کو چھوڑ کر نیا حلف لیں گے وہ پی سی او جج کہلائیں گے۔ان کے بقول’ کیا ہائیکورٹ کا کوئی سینئر جج کس طرح نیا حلف لے کر ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج جسٹس احسن بھون کے جونیئر بن سکتا ہے‘۔

جب ان کی توجہ آصف زرداری کے اس بیان کی طرف دلائی گئی کہ ججوں کی بحالی کی قرارداد پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں پیش کی جائے گی تو اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ ججوں کی بحالی کے لیے قرارداد کی ضرورت نہیں ہے تاہم اگر یہ قرارداد مشترکہ اجلاس میں اکثریت سے منظور کرائی جاتی ہے تو اس زیادہ وزن پڑے گا۔

پریس کانفرنس کےدوران انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کے حوالےسے پوچھے جانے والے سوالات ان کے لیے مشکل ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ آصف زرداری کو کیا مشورہ دیتے ہیں یہ بات پبلک کے لیے نہیں ہے البتہ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ جو بات میں عوام میں کرتا ہوں کیا وہ بات نجی ملاقات میں ان سے نہیں کرتا ہوں گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد