الیکشن میں شرکت ،فیصلہ کنونشن میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ان کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ سترہ مئی کو لاہور میں ہونے والے اس ملک کنونشن میں کیا جائے گا جس میں وکلاء تحریک کی آئندہ کے لیے حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔ جمعرات کو اپنی اقامت گاہ پر پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ان کے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کے حوالے سےسپریم کورٹ بار کے مجلس عاملہ نے چوبیس اپریل کو فیصلہ کیا تھا تاہم وہ اپنے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کا معاملہ وکلا کنونشن پر چھوڑ رہے ہیں۔اعتزاز احسن کے بقول ان کے انتخابات میں حصہ لینے کے بارے میں وکلاء کنونشن میں جو فیصلہ کیا جائے گا وہ اس کے پابند ہونگے۔ خیال رہے کہ اعتزاز احسن نے پاکستان بارکونسل کے فیصلہ کی روشنی میں اٹھارہ فروری کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا تاہم ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے انہوں نے راولپنڈی کے قومی اسمبلی کے حلقہ پچپن سے کاغذات جمع کرائے ہیں اور ریٹرنگ آفیسر نے ان کے کاغذات منظور کر لیے ہیں تاہم ابھی پیپلز پارٹی کے طرف سے ان کو انتخابی ٹکٹ دینے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اعتزاز احسن نے واضح کیا ہے کہ وہ انتخابات میں جانے سے پہلے ججوں کی بحالی کا حلف اٹھائیں گے اور ان کا وکلاء تحریک کے ساتھ کیا گیا وعدہ اٹل ہے جس میں کوئی لچک نہیں آئے گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ان وکلاء کیا قصور ہے جنہوں نے وکلا تنظیم کے فیصلہ کی وجہ سے انتخابات میں حصہ نہیں لیا تو ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ بار کی رائے تھی کہ انتخابات کا بائیکاٹ نہ کیا جائے تاہم انہوں نے پاکستان بار کونسل کے فیصلے کی روشنی میں انتخاب میں حصہ نہیں لیا۔انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر انتخابات میں حصہ لینے کے حامی تھے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ججوں کے معاملہ پر ان کا پارٹی پالیسی سے اختلاف ہے تاہم ان کا پیپلز پارٹی سے رشتہ چالیس سال پرانا ہے جسے وہ توڑ نہیں سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی خون کی طرح ان کے رگوں میں بہتی ہے اور وہ اسے چھوڑ نہیں رہے۔ اعتزاز احسن نے دیگر سوال کے جواب میں کہا کہ جو جج بھی جسٹس افتخار محمد چودھری کو چھوڑ کر نیا حلف لیں گے وہ پی سی او جج کہلائیں گے۔ان کے بقول’ کیا ہائیکورٹ کا کوئی سینئر جج کس طرح نیا حلف لے کر ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج جسٹس احسن بھون کے جونیئر بن سکتا ہے‘۔ جب ان کی توجہ آصف زرداری کے اس بیان کی طرف دلائی گئی کہ ججوں کی بحالی کی قرارداد پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں پیش کی جائے گی تو اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ ججوں کی بحالی کے لیے قرارداد کی ضرورت نہیں ہے تاہم اگر یہ قرارداد مشترکہ اجلاس میں اکثریت سے منظور کرائی جاتی ہے تو اس زیادہ وزن پڑے گا۔ پریس کانفرنس کےدوران انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کے حوالےسے پوچھے جانے والے سوالات ان کے لیے مشکل ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ آصف زرداری کو کیا مشورہ دیتے ہیں یہ بات پبلک کے لیے نہیں ہے البتہ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ جو بات میں عوام میں کرتا ہوں کیا وہ بات نجی ملاقات میں ان سے نہیں کرتا ہوں گا۔ | اسی بارے میں پاکستان: وکلاء کی ہفتہ وار ہڑتال15 May, 2008 | پاکستان شہباز اور اعتزاز کے کاغذات جمع05 May, 2008 | پاکستان ملک بھر میں وکلاء کا احتجاج، بائیکاٹ12 May, 2008 | پاکستان بارہ مئی: وکلاء یوم ِسیاہ منا رہے ہیں12 May, 2008 | پاکستان صرف عارضی تعطل ہے: پی پی پی12 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||