BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 May, 2008, 04:03 GMT 09:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عدالتیں آمروں کا کہنا مانتی رہیں‘

جج بحال نہیں ہوں گے وکلاء لانگ مارچ کی تیاری کریں: اعتزاز احسن
پاکستان کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ ماضی میں کچھ جج آمروں کے کہنے پر فیصلے کرتے رہے ہیں لیکن اب وہ وقت گزر گیا ہے۔

معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے فیصل آباد بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں کچھ ججوں نے آمروں کا ساتھ دیا لیکن اب وہ وقت گذر گیا اور ان تمام لوگوں کو سزا ملے گی جنہوں نے عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

معزول چیف جسٹس نے آمروں کے ساتھ ججوں کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس محمد منیر اور جسٹس انوار الحق کا خصوصی طور پر ذکر کیا۔ جسٹس محمد منیر نے پاکستان میں نظریہ ضرورت کی بنیاد ڈالی جبکہ جسٹس انوار الحق نے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا سنانے والے سپریم کورٹ کے بینچ کی سربراہی کی تھی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری جب فیصل آباد پہنچے تو وکلاء عام شہریوں، سیاسی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا۔ چیف جسٹس کا قافلہ گیارہ گھنٹے کی مسافت کے بعد فیصل آباد پہنچا۔ فیصل آباد بار ایسوسی ایشن کی تقریب ساری رات جاری رہی اور بارش کے باوجود لوگوں کی ایک کثیر تعداد چیف جسٹس کی تقریر سننے کے لیے بار ایسوسی ایشن کے دفتر کے باہر جمع رہے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ تین نومبر کو سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا تھا کہ ملک میں ایمرجنسی نہ لگائی جائے اور اس حکم کی تعمیل تمام متعلقہ محکموں سے کروائی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف لیا انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی۔

معزول چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کی بقا اسی میں ہے کہ تمام فیصلے آئین کے مطابق ہوں اور ’ملک کے اندر ہوں۔‘ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام فیصلہ کریں کہ ان کو کیسی عدلیہ چاہیے۔ ’ایسی عدلیہ جو آئین اور قانون کے تحت فیصلے کرے یا ایسی عدالیہ جو آمر کے کہنے پر فیصلہ کرے۔‘

انہوں نے کہا ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ انہوں نے از خود نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ کے کاموں میں مداخلت کی۔ جسٹس افتخار نے کہا کہ انہوں نے جو کچھ بھی کیا وہ آئین کے دائرہ کار میں رہ کر کیا لیکن وہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ ہائی کورٹ کے ججوں نے تو از خود نوٹس نہیں لیے تھے ان کو کیوں ہٹایا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے مجوزہ آئینی پیکج کے بارے کوئی بات نہیں کی لیکن ان کی وکلاء نے پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے پیش کیے جانے والے آئینی پیکیج پر کھل تقاریر کیں۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ جس آئینی پیکیج کو پارلیمنٹ میں لانے کی کوشش کر رہی ہے اس کا مقصد عدلیہ کے وقار میں اضافہ نہیں بلکہ ان ججوں کو سزا دینا ہے جنہوں نے عدلیہ کے وقار کو بلند کیا۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے وکلاء سے کہا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ جج دس جون سے پہلے بحال نہیں ہوں گے اور وکلاء کو لانگ مارچ کی تیاری کرنی چاہیے۔

حکومت پنجاب نے جسٹس افتخار محمد چودھری کو چیف جسٹس آف پاکستان کا مکمل پروٹوکول دیا اور پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے چیف جسٹس کا استقبال کیا۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور معزول چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر چیف جسٹس کے عہدے کی معیاد مقرر کیگئی تو وکلاء اسے ’مائنس ون فارمولہ‘ سمجھیں گے جسے وہ پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔

اعتزاز احسن نے کہا مجوزہ آئینی پیکیج سے عدلیہ کے وقار کو بڑھایا نہیں جا رہا بلکہ عدلیہ کے وقار کو بڑھانے والوں کو سزا دی جا رہی ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ وکلاء پارلیمنٹ کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں لیکن پارلیمنٹ کو بھی اپنے آپکو مضبوط کرنا پڑے گا اور پارلیمنٹ عدلیہ کے ملبے پر قائم نہیں رہ سکتی۔

وکلاء لانگ مارچ کی تیاری کریں
 مجھے خدشہ ہے کہ جج بحال نہیں ہوں گے۔وکلاء لانگ مارچ کی تیاری کریں۔
اعتزاز احسن
اعتزاز احسن نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ جج بحال نہیں ہوں گے اور وکلاء لانگ مارچ کی تیاری کریں۔

چیف جسٹس کے وکیل حامد خان نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری کو تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور انہیں 1996 میں عدلیہ سے لڑائی کو یاد کرنا چاہیے جس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہو گئی تھی۔

حامد خان نے کہا کہ جس طرح کا آئینی پیکیج حکومت لانا چاہا رہی ہے اس طرح کا پیکیج کسی آمر کو ہی زیب دیتا ہے۔

حامد خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک ایسے شخص کو نوازنا چاہتی ہے جن نے تین نومبر 2007 کو اپنے حلف سے غداری کی اور ایک آمر سے وفاداری کا حلف لیا۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کسی ایسے آئینی پیکیج کو تسلیم نہیں کریں گے جس میں عدلیہ کی آزادی پر قدغن لگائی جا سکے۔

حامد خان نے کہا کہ آئینی پیکیج کے ذریعے حکومت ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر کو بڑھانا چاہا رہی ہے ۔ حامد خان نے کہا جنرل پرویز مشرف ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر کو بڑھانے کے بعد وکلاء کے دباؤ میں واپس لے چکے ہیں۔

مائنس ون فارمولہ منظور نہیں
 پیپلز پارٹی ایک ایسے شخص کو نوازنا چاہتی ہے جن نے تین نومبر 2007 کو اپنے حلف سے غداری کی اور ایک آمر سے وفاداری کا حلف لیا۔
حامد خان

حامد خان نے کہا جو شخص کمزور ہوگیا تھا پیپلز پارٹی اس کو مضبوط کرنے کی کوشش میں ہے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کی آمد پر فیصل آباد میں زبردست بارش ہوئی لیکن بارش کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد پوری رات چیف جسٹس کا خطاب سننے کے لیے بار ایسوسی ایشن کے دفتر کے باہر جمع رہی۔

معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے علاوہ سپریم کورٹ کے معزول جج راجہ فیاض احمد، لاہور ہائی کورٹ کے معزول جج خواجہ شریف ، ایم شاہد صدیقی، جہانگیر ارشد بھی شریک ہوئے۔

پاکستان پیلز پارٹی کے سابق وزیر احمد سعید اعوان بھی جسٹس افتخار محمد چودھری کے اسقبال کرنے میں شامل تھے۔

معزول چیف جسٹس کی فیصل آباد آمد کے موقع گل پاشی کی گئی اور سینکڑوں من پھول کی پتیاں جسٹس افتخار محمد چودھری کے راستے میں نچاور کی گئیں۔

پنجاب حکومت نےمعزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آمد کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے اور بلٹ پروف سٹیج تیار کیا۔

چیف جسٹس
معزول چیف جسٹس کو مکمل پروٹوکول دیا جا رہا ہے

معزول چیف جسٹس کے والدین کا تعلق ضلع فیصل آباد سے ہے لیکن جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنے زندگی کا زیادہ حصہ کوئٹہ میں گزارا اور پہلی مرتبہ بلوچستان ہائی کورٹ کے جج بنے۔

عام حالات میں اسلام آباد سے فیصل آباد کا سفر تین گھنٹے میں طے ہو جاتا ہے لیکن چیف جسٹس کے قافلے کو فیصل آباد پہنچنے میں گیارہ گھنٹے لگے۔

معزول چیف جسٹس جب فیصل آباد بار کے پنڈال میں پہنچنے تو وہاں وکلاء کی ایک بڑی تعداد نے جسٹس افتخار کے حق میں اور صدر پرویز مشرف کے خلاف نعرے بازی کی۔

فیصل آباد میں وکلاء سے خطاب کے بعد جسٹس افتخار محمد چودھری اکتیس مئی کو پشاور جائیں گے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کا قافلہ جب تین بجے سے ذرا پہلے ججز کالونی میں اپنی رہائش گاہ سے روانہ ہوا تو سیاسی اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد وہاں موجود تھی۔

جن سیاسی جماعتوں کے جھنڈے چیف جسٹس کی رہائش گاہ کے باہر دیکھی گئی ان میں پاکستان مسلم لیگ نواز، جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور کیمونسٹ پارٹی شامل ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چند کارکن بھی چیف جسٹس کی فیصل آباد روانگی کے وقت وہاں موجود تھے۔

لاہورلاہور میں احتجاج
وکلاء، سول سوسائٹی اور سیاسی کارکن
وکلاء فائل فوٹوصدر کی سازش؟
اعتزاز کے خطاب میں ہاتھا پائی اور حملہ
لاہور مظاہرہکراچی پر احتجاج
پنجاب و سرحد: ایم کیو ایم پر پابندی کامطالبہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد