BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 May, 2008, 13:38 GMT 18:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر سے اختیارات لینے پر اتفاق

نوازشریف اورآصف زرداری
پنجاب ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں دونوں جماعتوں کے بعض سرکردہ رہنما بھی شریک ہوئے
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے منگل کو ہونے والی ملاقات میں صدر کے اختیارات وزیراعظم کو منتقل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ بات ملاقات میں شریک پیپلز پارٹی کی خاتون رہنما فرزانہ راجہ نے دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتائی۔

ان کے مطابق وزیر قانون فاروق نائیک منگل کی رات تک میاں نواز شریف کے پاس جائیں گے اور مجوزہ آئینی ترمیم کا ڈرافٹ پیش کریں گے۔

مسلم لیگ (ن) کے ترجمان احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے مجوزہ بل کا مسودہ ملنے کے بعد ہی وہ اس پر تبصرہ کریں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پارلیمان کو مضبوط کرنے سمیت میثاقِ جمہوریت کی روشنی میں وہ آئینی پیکیج کی حمایت کریں گے۔

اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں آصف علی زرداری کے ہمراہ آفتاب شعبان میرانی، رکن قومی اسمبلی فرزانہ راجہ اور نیر بخاری شریک ہوئے۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف کی معاونت شہباز شریف، چوہدری نثار علی خان اور اسحٰق ڈار نےکی۔

تقریبا ڈیڑھ گھنٹے کی ملاقات کے اختتام پر آصف علی زرداری میڈیا سے بات کیے بغیر روانہ ہوگئے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما بھی بات کرنے سے گریز کرتے رہے۔ کچھ دیر بعد نیر بخاری اور فرزانہ راجہ نے جب ملاقات کے بارے میں بولنا شروع کیا تو مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال بھی بول پڑے۔ لیکن دونوں جماعتوں کے ترجمان بہت محتاط نظر آئے۔

فرزانہ راجہ نے ایک سوال کےجواب میں کہا کہ ججوں کی بحالی پر دونوں جماعتوں میں اتفاق ہے اور یہ معاملہ بہت جلد حل کرلیا جائے گا۔ ان کے مطابق آئینی پیکیج پارلیمان میں پیش کرنے کے بارے میں کوئی تاریخ طے نہیں ہے۔

واضح رہے کہ ججوں کی بحالی کے طریقہ کار پر اختلافات کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) نے حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی تھی لیکن انہوں نے جہاں حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا وہاں حکومتی اتحاد میں بھی شامل رہنے کا اعلان کیا تھا۔

تیرہ مئی کو مسلم لیگ کے وزراء کے مستعفی ہونے کے بعد چار جماعتی حکومتی اتحاد کی دونوں بڑی جماعتوں کے سربراہوں کی پہلی بالمشافہ ملاقات ہے۔

مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کی کوشش ہوگی کہ وہ مسلم لیگ (ن) کو دوبارہ حکومت میں شامل کرنے کی کوشش کریں۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) ججوں کی بحالی کے بنا ایسا کرنا اپنے لیے سیاسی طور پر خود کشی کے مترادف سمجہتی ہے۔

تیرہ مئی کے بعد پہلی ملاقات
تیرہ مئی کو مسلم لیگ کے وزراء کے مستعفی ہونے کے بعد چار جماعتی حکومتی اتحاد کی دونوں بڑی جماعتوں کے سربراہوں کی پہلی بالمشافہ ملاقات ہے۔

ججوں کی بحالی پر ایک دوسرے سے دور ہونے کے بعد دوبارہ قربت کی ایک وجہ آصف علی زرداری کی صدر پرویز مشرف سے پیدا ہونے والے شدید اختلافات بتائی جاتی ہے۔

میاں نواز شریف پہلے دن سے صدر مشرف کو فوری طور پر ہٹانے کی بات کرتے رہے لیکن آصف علی زرداری اس معاملے پر فوری کارروائی سے گریز کرتے رہے۔ لیکن اب آصف علی زرداری نے بھی صدر مشرف کے جلد چلے جانے کا موقف اختیار کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے ایک پریس کانفرنس میں آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ ’پیپلز پارٹی نے کبھی بھی پرویز مشرف کو آئینی صدر تسلیم نہیں کیا اور ہم چاہتے ہیں کہ صدر مشرف خود چلے جائیں بجائے اس کے کہ ان کا احستاب کیا جائے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد