ججز: ’ایک نکتے کا اختلاف‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے معزول ججوں کی بحالی کے لیے کوئی ٹائم فریم دینے سے اجتناب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کو اتحاد سے جانے نہیں دیں گے۔ یہ بات انہوں نے زرداری ہاؤس میں جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ، فیڈرل کونسل اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمان و صوبائی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کے بعد ایک اخباری کانفرنس میں کی۔ آصف علی زرداری نے اخباری کانفرنس میں واضح کیا کہ پنجاب حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔’ہم ان کے خلاف کوئی عدم اعتماد کی قرار داد نہیں لا رہے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے وفاقی کابینہ سے معزول ججوں کی بحالی کے مسئلے پر علیحدہ ہونے کے فیصلے سے پیدا شدہ سیاسی صورتحال اور پنجاب میں صوبائی حکومت کے بارے میں بھی بات ہوئی۔ آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی بحالی ان کا وعدہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں منظوری کے لیے قرارداد تیار کر رہے ہیں تاہم ان کا نواز شریف کے ساتھ اختلاف محض ایک نکتے پر ہے۔ اس نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف چاہتے ہیں کہ ججوں کی بحالی کا نوٹیفیکشن اور ڈی نوٹیفیکشن کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نوٹیفیکشن کے لیے تیار ہیں لیکن وہ نہیں چاہتے کہ موجودہ پی سی او والے جج ردعمل میں کوئی قدم اٹھائیں جس سے آئینی بحران پیدا ہو جائے۔ پی پی پی کے مرکزی رہنماؤں کی موجودگی میں آصف علی زرداری نے دعوٰی کیا کہ ججوں کی بحالی کی تحریک ان کی جماعت نے شروع کی اور انہیں کے لوگوں نے اس دوران قربانیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ ’جب بھی گلستاں کو لہو کی ضرورت پڑی سب سے پہلے گردن ہماری کٹی اور پھر بھی اہل چمن کہتے ہیں کہ یہ چمن ہمارا ہے تمھارا نہیں‘۔ آصف علی زرداری نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ ججوں کی بحالی ان کی نظر میں بڑا بحران نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’دوستوں کی نظر میں اور پاکستان کے اخبارات اور ٹی وی کی نظر میں یہ ایک بہت بڑا بحران ہے لیکن میری نظر میں ایسا نہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا سیاسی نعرہ نظام کی تبدیلی ہے اور وہ بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کا بدلہ اس نظام کو تبدیل کرکے لیں گے۔ ان کےخیال میں پاکستان کو بچانا، پاکستان کو سنبھالنا، یہاں کی مہنگائی کو سنبھالنا اور آنے والے اقتصادی بحران سے بچنا زیادہ اہم مسائل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی نواز شریف کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہیں اور قومی اسمبلی میں وہ ایک ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔’میں میاں صاحب کو چھوڑنے کے لیئے تیار نہیں ہوں اور میں اب بھی مری اعلامیے کا پابند ہوں‘۔ انہوں نے یاد دلایا کہ انہوں نے مری میں کہا تھا کہ وہ کسی جج کو متاثر نہیں کرنا چاہتے اور اسی بات پر اختلاف اور تعطل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شاید ان کی کمزوری ہے کہ وہ نواز شریف کو قائل نہیں کر پا رہے لیکن اس مقصد کے لیے وہ کوئی وقت کا تعین نہیں کرسکتے کہ یہ کب تک ممکن ہوگا۔ آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کل وزیر اعظم سے ملاقات میں وزراء کے استعفوں پر غور کرکے کوئی فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ دو مرتبہ تاریخ دے کر پابندی نہ کرنے سے انہیں سیاسی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے اور میڈیا ان کا مذاق اڑا رہا ہے لیکن یہ ان کا حق ہے انہیں مبارک ہو۔ آصف زرداری نے بتایا کہ لندن میں امریکی اور برطانوی اہلکاروں سے ان کی ملاقاتوں کا بنیادی مقصد دہشتگردی کے خلاف جنگ ہے۔’ان کو حکومت چلنے یا نہ چلنے کی تشویش ضرور ہے لیکن یہ سب کچھ ثانوی حیثیت کے ان کے مطابق معاملات ہیں‘۔ | اسی بارے میں لیگی استعفے، پی پی کا اہم اجلاس14 May, 2008 | پاکستان لیگی استعفے وزیرِ اعظم کے حوالے13 May, 2008 | پاکستان ’میڈیا پر پابندی، دھمکیاں نہیں‘12 May, 2008 | پاکستان شاید دبئی سے کچھ پیچھے چلے گئے: نواز11 May, 2008 | پاکستان ’اتحاد، عدلیہ، امریکہ یا روٹی کپڑا اور مکان‘ 11 May, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی پر تعطل برقرار10 May, 2008 | پاکستان حکمراں اتحاد کی ڈیڈلائن کی سیاست10 May, 2008 | پاکستان لندن میں مذاکرات ناکام09 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||