BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 May, 2008, 21:25 GMT 02:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ججز: ’ایک نکتے کا اختلاف‘

آصف زرداری
ججز کی بحالی میری نظر میں برا بحران نہیں: آصف زرداری
حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے معزول ججوں کی بحالی کے لیے کوئی ٹائم فریم دینے سے اجتناب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کو اتحاد سے جانے نہیں دیں گے۔

یہ بات انہوں نے زرداری ہاؤس میں جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ، فیڈرل کونسل اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمان و صوبائی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کے بعد ایک اخباری کانفرنس میں کی۔

آصف علی زرداری نے اخباری کانفرنس میں واضح کیا کہ پنجاب حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔’ہم ان کے خلاف کوئی عدم اعتماد کی قرار داد نہیں لا رہے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے وفاقی کابینہ سے معزول ججوں کی بحالی کے مسئلے پر علیحدہ ہونے کے فیصلے سے پیدا شدہ سیاسی صورتحال اور پنجاب میں صوبائی حکومت کے بارے میں بھی بات ہوئی۔

آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی بحالی ان کا وعدہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں منظوری کے لیے قرارداد تیار کر رہے ہیں تاہم ان کا نواز شریف کے ساتھ اختلاف محض ایک نکتے پر ہے۔

اس نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف چاہتے ہیں کہ ججوں کی بحالی کا نوٹیفیکشن اور ڈی نوٹیفیکشن کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نوٹیفیکشن کے لیے تیار ہیں لیکن وہ نہیں چاہتے کہ موجودہ پی سی او والے جج ردعمل میں کوئی قدم اٹھائیں جس سے آئینی بحران پیدا ہو جائے۔

 دوستوں کی نظر میں اور پاکستان کے اخبارات اور ٹی وی کی نظر میں یہ(ججوں کی بحالی) ایک بہت بڑا بحران ہے لیکن میری نظر میں ایسا نہیں۔
آصف زرداری

پی پی پی کے مرکزی رہنماؤں کی موجودگی میں آصف علی زرداری نے دعوٰی کیا کہ ججوں کی بحالی کی تحریک ان کی جماعت نے شروع کی اور انہیں کے لوگوں نے اس دوران قربانیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ ’جب بھی گلستاں کو لہو کی ضرورت پڑی سب سے پہلے گردن ہماری کٹی اور پھر بھی اہل چمن کہتے ہیں کہ یہ چمن ہمارا ہے تمھارا نہیں‘۔

آصف علی زرداری نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ ججوں کی بحالی ان کی نظر میں بڑا بحران نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’دوستوں کی نظر میں اور پاکستان کے اخبارات اور ٹی وی کی نظر میں یہ ایک بہت بڑا بحران ہے لیکن میری نظر میں ایسا نہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا سیاسی نعرہ نظام کی تبدیلی ہے اور وہ بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کا بدلہ اس نظام کو تبدیل کرکے لیں گے۔ ان کےخیال میں پاکستان کو بچانا، پاکستان کو سنبھالنا، یہاں کی مہنگائی کو سنبھالنا اور آنے والے اقتصادی بحران سے بچنا زیادہ اہم مسائل تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی نواز شریف کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہیں اور قومی اسمبلی میں وہ ایک ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔’میں میاں صاحب کو چھوڑنے کے لیئے تیار نہیں ہوں اور میں اب بھی مری اعلامیے کا پابند ہوں‘۔

انہوں نے یاد دلایا کہ انہوں نے مری میں کہا تھا کہ وہ کسی جج کو متاثر نہیں کرنا چاہتے اور اسی بات پر اختلاف اور تعطل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شاید ان کی کمزوری ہے کہ وہ نواز شریف کو قائل نہیں کر پا رہے لیکن اس مقصد کے لیے وہ کوئی وقت کا تعین نہیں کرسکتے کہ یہ کب تک ممکن ہوگا۔

 میں میاں صاحب کو چھوڑنے کے لیئے تیار نہیں ہوں اور میں اب بھی مری اعلامیے کا پابند ہوں

آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کل وزیر اعظم سے ملاقات میں وزراء کے استعفوں پر غور کرکے کوئی فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ دو مرتبہ تاریخ دے کر پابندی نہ کرنے سے انہیں سیاسی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے اور میڈیا ان کا مذاق اڑا رہا ہے لیکن یہ ان کا حق ہے انہیں مبارک ہو۔

آصف زرداری نے بتایا کہ لندن میں امریکی اور برطانوی اہلکاروں سے ان کی ملاقاتوں کا بنیادی مقصد دہشتگردی کے خلاف جنگ ہے۔’ان کو حکومت چلنے یا نہ چلنے کی تشویش ضرور ہے لیکن یہ سب کچھ ثانوی حیثیت کے ان کے مطابق معاملات ہیں‘۔

اسی بارے میں
لندن میں مذاکرات ناکام
09 May, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد