’میڈیا پر پابندی، دھمکیاں نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی وزیر برائے اطلاعات شیری رحٰمن نے اس تاثر کی نفی کی ہے کہ حکومت میڈیا پر نئی پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہی ہے یا یہ کہ نجی ٹیلی وژن جیو نیوز کے کسی اینکر پرسن کو حکومت کی جانب سے دھمکیاں دی گئی ہیں۔ پریس کے خلاف قدغن لگانے اور جیو نیوز کے اینکر پرسن کو دھمکیاں دیے جانے کا معاملہ سوموار کو سینیٹر مشاہد حسین نے اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں جیو نیوز کے اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود نے فون پر بتایا ہے کہ وفاقی مشیر داخلہ رحٰمن ملک نے انہیں فون پر دھمکیاں دی ہیں۔ مشاہد حسین نے کہا کہ یہ بہت سنگین معاملہ ہے اور مشیر داخلہ کے اس رویے سے یہ تاثر گہرا ہوتا ہے کہ حکومت پریس کو دبانا چاہتی ہے اور اس مقصد کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ مشاہد حسین نے کہا کہ یہ خاصی پریشان کن صورتحال ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت میڈیا کے خلاف ایک اور کریک ڈاؤن کا ارادہ رکھتی ہے۔ مشاہد حسین نے رحٰمن ملک کی جانب سے ڈاکٹر شاہد مسعود کو مبینہ طور دھمکیاں دینے کی پر زور مذمت کی۔ وزیر اطلاعات شیری رحٰمن نے کہا کہ پارٹی سربراہ آصف زرداری کی جانب سے اس واقعہ کی تردید کی جا چکی ہے۔ شیری رحٰمن نے پریس پر قدغن لگائے جانے کی افواہوں کی بھی تردید کی اور کہاکہ حکومت میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتی ہے اور اسی جذبے کے تحت پیمرا قوانین میں ترامیم کی جا رہی ہیں۔ اس سے قبل سینیٹ کے اجلاس میں کراچی میں ایک برس قبل ہونے والی ہلاکتوں پر فاتحہ خوانی کے دوران بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز اور متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان کے درمیان الزامات اور تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ سینیٹ کا اجلاس جب شروع ہوا تو عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر حاجی محمد عدیل نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ ایک سال پہلے کراچی میں خون کی ہولی کھیلی گئی جس میں ہلاک ہونے والوں میں سے زیادہ تر کا تعلق پشتو بولنے والوں سے تھا۔
حاجی عدیل نے کہا کہ اتنے عظیم سانحے کے بارے میں ابھی تک کوئی تحقیقات نہیں کروائی گئی ہیں اور اس بارے میں مرکزی اور صوبائی حکومت نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ حاجی عدیل نے اس موقع پر بارہ مئی دوہزار سات کو کراچی میں ہلاک ہونے والوں کے ایصال ثواب کے لیے دعا کروائی۔ دعا ختم ہوتے ہی متحدہ قومی موومنٹ کے سینٹر بابرخان غوری نے کہا کہ ایوان میں صرف پشتو بولنے والوں کے لیے دعا کی جا رہی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس روز کراچی میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کے پیچھے کس کی سازش کارفرما تھی۔ بابر غوری نے کہا کہ یہی عناصر اب اس مسئلے پر سیاست کر رہے ہیں۔ بابر غوری کے ان ریمارکس پر بلوچستان اور صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے متعدد ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور متحدہ کے ارکان کے ساتھ الزامات کا تبادلہ ہوا۔ چئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو نے ہنگامے میں شامل تمام ارکان کے مائیک بند کر دیے اسکے باوجود سینیٹ ہال میں قاتل اور سازش جیسے الفاظ سنائی دیتے رہے۔ جماعت اسلامی کے سینیٹر ابراہیم نے کہا کہ کراچی میں بارہ مئی کو ہونے والے قتل عام میں متحدہ قومی موومنٹ ملوث تھی۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی سے مطالبہ کیا کہ اس جماعت کو حکومت میں شامل نہ کیا جائے۔ قائد ایوان رضا ربانی نے بارہ مئی کی ہلاکتوں کے بارے میں کہا کہ سندھ حکومت اس بارے میں تحقیقات کروانے پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے صدر مملکت پرویز مشرف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آمریت نے اس روز خون کی ہولی کھیلی اور اب وہی آمریت سیاسی قوتوں کو آپس میں لڑا کر اپنے اقتدار کو طول دینا چاہتی ہے۔ رضا ربانی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی عدلیہ کی دو نومبر والی پوزیشن پر بحالی کے اعلان پر قائم ہے اور تمام ججوں کو انکے منصب پر بحال کر کے ہی دم لے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے طریقہ کار پر مسلم لیگ نواز کے ساتھ اتفاق رائے نہیں ہو سکا لیکن اسکا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ پیپلز پارٹی اعلان مری سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تین نومبر کو کیے گئے اقدامات غیر قانونی تھے اور پیپلز پارٹی انہیں واپس کروائے گی۔ دریں اثنا متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے سینیٹ کے رکن کامران مرتضٰی نے صدر مملکت کے اختیارات میں کمی کے بارے میں ایک آئینی ترمیم ایوان میں پیش کی۔ اس آئینی ترمیم کے ذریعے صدر کی جانب سے بنائے جانے والے قوانین کو تحفظ دینے والی آئینی شق کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ سینیٹر کامران مرتضٰی نے آئین کے آرٹیکل دو سو اڑسٹھ میں ترمیم کی قرارداد ایوان میں پیش کی جس کے ذریعے اس آرٹیکل کی ذیلی شق نمبر دو کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جس میں صدر کی جانب سے کی جانے والی قانون سازی کو آئین میں شامل شیڈول نمبر چھ کے ذریعے تحفظ دیا گیا ہے۔ مذکورہ آرٹیکل میں درج ہے کہ آئین کے چھٹے شیڈول میں درج قوانین میں کوئی تبدیلی اس وقت تک نہیں کی جا سکے گی جب تک صدر مملکت اس کی منظوری نہ دے دیں۔ کامران مرتضٰی کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ ملک کا اعلٰی ترین ادارہ ہے لیکن وہ بھی چھٹے شیڈول میں درج صدر کے بنائے گئے قوانین میں ترمیم نہیں کر سکتی۔ لہٰذا پارلیمنٹ کی بالادستی ثابت کرنے کے لیے آئین سے اس ذیلی شق کو ختم کیا جائے۔ واضح رہے کہ یہ آئینی ترمیم منظور کرنے کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے۔ دریں اثنا سینیٹ نے شادی کے موقعہ پر جہیز اور تحائف دینے کی حد مقرر کردی ہے جس کے بعد دلہن کو دیے جانے والے جہیز کی مالیت تیس ہزار اور تحائف پچاس ہزار سے تجاوز نہیں کر سکیں گے۔ اس بارے میں نیا قانون سوموار کو پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سینیٹر چوہدری انور بھنڈر کی تحریک پر منظور کیا گیا جس کی مخالفت نہیں کی گئی۔ اس نئے قانون کی اہمیت بیان کرتے ہوئے سینیٹر انور بھنڈر نے کہا کہ یہ قانون ملک سے جہیز کی لعنت ختم کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔ اس نئے قانون کے مطابق اب کوئی خاندان دلہن کو ایک مقررہ حد سے زیاد جہیز نہیں دے سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ جہیز کی لسٹ نکاح نامے کے ساتھ منسلک کی جائے گی اور قانونی طور پر اسے ہمیشہ دلہن کی ملکیت تسلیم کیا جائے گا۔ انور بھنڈر نے کہا کہ شادی کے حوالے سے پیدا ہونے والے کسی بھی تنازعے کی صورت میں فیملی کورٹ اس معاملے میں دخل اندازی کر سکے گی۔ | اسی بارے میں ملک بھر میں وکلاء کا احتجاج، بائیکاٹ12 May, 2008 | پاکستان بارہ مئی: سال بھر سے رکا ہوا دن12 May, 2008 | پاکستان ملک اور صحافیوں میں آنکھ مچولی06 May, 2008 | پاکستان ججز بحالی: آئینی تصادم کی جانب؟03 May, 2008 | پاکستان حکومت فون ٹیپ نہیں کر رہی: نائیک05 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||