BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 May, 2008, 11:20 GMT 16:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بارہ مئی: سال بھر سے رکا ہوا دن

بارہ مئی کو کراچی
بارہ مئی کو کراچی میں متعدد گاڑیاں نذرِ آتش کی گئیں
پاکستان میں اعلیٰ شخصیات کا قتل اور پھر اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کی تو روایت سی ہے لیکن بارہ مئی کا واقعہ ایک ایسا واقعہ ہے جو بڑی تعداد میں لوگوں کی ہلاکت کے باوجود معمہ بنا ہوا ہے۔

گزشتہ سال بارہ مئی کو جو کچھ ہوا اسے ہزاروں آنکھوں نے دیکھا مگر سرکاری طور پر یہ معاملہ بظاہر ایک ’بلائنڈ کیس‘ لگتا ہے۔

بارہ مئی کو سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی کراچی آمد کے موقع پر شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔جس میں چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

اسی روز اپوزیشن جماعتوں نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے استقبال کے لیے جلوس نکالے جبکہ اس وقت کی حکومت میں شامل جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے بھی عدلیہ کی آزادی کے لیے شہر بھر سے ریلیوں کا انعقاد کیا۔

بعد میں سامنے آنے والے محکمہ داخلہ کے سیکیورٹی پلان میں آگاہ کیا گیا تھا کہ اس روز سڑک پر بم دھماکوں، خودکش بم حملوں سمیت گروہوں میں تصادم کا خطرہ ہے۔ مگر حیرت انگیز طور پر پولیس اہلکاروں کو غیر مسلح کرکے تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور یہ فیصلہ اس سیکیورٹی پلان میں بھی درج ہے۔

اس ہنگامہ آرائی میں ہلاک ہونے والے چالیس کارکنوں کو عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ نے اپنا ہمدرد اور کارکن قرار دیا تھا۔

حکومت کی جانب سے اس واقعے کی کوئی تحقیقات نہیں کرائی گئیں اور اس سلسلے میں اس وقت کے وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم کا کہنا تھا کہ بارہ مئی کو مختلف سیاسی جماعتوں کی ریلیوں کے ایک جگہ اکٹھا ہونے پر جھگڑا ہوا اس لیے اگر اس میں ملوث ہیں تو سبھی ملوث ہیں۔

ملوث ہیں تو سبھی ملوث ہیں
 وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم کا کہنا تھا کہ بارہ مئی کو مختلف سیاسی جماعتوں کی ریلیوں کے ایک جگہ اکٹھا ہونے پر جھگڑا ہوا اس لیے اگر اس میں ملوث ہیں تو سبھی ملوث ہیں
ارباب غلام رحیم

ارباب رحیم کا موقف تھا کہ’اگر تحقیقات میں چلے جائیں گے تو اس سے امن امان خراب ہوگا، کوئی اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیں ہوگا اور اسے سیاسی مسئلہ بنایا جائے گا۔‘

سندھ ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس صبیح الدین احمد نے ہائی کورٹ کے گھیراؤ کا ازخود نوٹس لیا اور اس کی باقاعدہ سماعت شروع کی مگر کسی نتیجے پر پہنچنے سے قبل ہی وہ ایمرجنسی کے عبوری آئینی حکم کو قبول نہ کرنے کی بنا پر فارغ ہو گئے۔

بعد میں عبوری آئینی حکم کے تحت وجود میں آنے والی عدالت میں بارہ مئی کے واقعات کی سماعت ہوئی اور پانچ رکنی بینچ نے تشدد کے ان واقعات کے متعلق درخواستیں یہ کہتے ہوئے نمٹا دیں کہ کسی آئینی درخواست کی بنیاد پر ہائی کورٹ تفتیش نہیں کر سکتی۔

پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے بارہ مئی کے واقعے کی تحقیقات کی اور اپنی رپورٹ میں کمیشن کی چئر پرسن عاصمہ جہانگیر نے سندھ حکومت اور متحدہ قومی موومنٹ کو بارہ مئی کے واقعات کا ذمہ دار قرار دیا اور مطالبہ کیا ہے کہ ان واقعات کی تحقیقات کے لیے اعلی سطح کی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے اس رپورٹ کو ’سراسر جانبدارانہ، جھوٹ کا پلندہ اور ایم کیو ایم کو بدنام کرنے کی سازش‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ رپورٹ الزام تراشیوں اور بہتان تراشیوں کے ذریعے ایم کیو ایم کے تصور کو خراب کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔

موجودہ صف بندیوں سے قبل حکمران اتحاد میں شامل جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کرتی رہیں، اس قدر کہ ایک دوسرے کے خلاف ویڈیو سی ڈیز جاری کی گئیں۔ انتخابات کے بعد سندھ اور مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت وجود میں آنے کے بعد پیپلز پارٹی کے حلقوں کی جانب سے بارہ مئی کے واقعے کی تحقیقات کی آوازیں سنائی دیں جو صوبے میں مخلوط حکومت کے قیام کے بعد دھیمی پڑتی گئیں۔ سندھ کے حکمران اتحاد میں شامل مسلم لیگ ن اور عوامی نیشنل پارٹی کئی بار بارہ مئی کے واقعے کی تحقیقات کرانے کے اعلان کر چکی ہیں مگر حکومت کے قیام کے بعد سے اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔

 کراچی پولیس
کہا جاتا ہے کہ بارہ مئی کو کراچی میں پولیس کی بڑی نفری کو غیر مسلح کر دیا گیا تھا

صوبائی وزیر اطلاعات شازیہ عطا مری کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے، عنقریب کوئی حتمی صورت سب کے سامنے آ جائے گی۔

انہوں نے پیپلز پارٹی حکومت کی جانب سے یوٹرن لینے کے الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ پیپلز پارٹی لوگوں سے کیے گئے وعدوں پر قائم ہے اور اس نے ہمیشہ لوگوں کو ریلیف فراہم کیا ہے۔’ہم تصادم میں نہیں جانا چاہتے اس صوبے کے عوام کے جو اصل مسائل ہیں حکومت کی ترجیحات ہونی چاہئیں اور حکومت انہی ترجیحات پر کام کر رہی ہے‘۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما شاہی سید کا بھی کہنا ہے کہ ’وہ اس واقعے کو بھول نہیں پائے ہیں پیپلز پارٹی اور ان کی جماعت میں اس واقعے کی تحقیقات پر اتفاق ہے مگر پہلے ججوں کی بحالی کا مسئلہ حل ہوجائے اس کے بعد اس کی تحقیقات کی جائیں گی‘۔

اس سلسلے میں متحدہ قومی موومنٹ کا کہنا ہے کہ وہ بھی بارہ مئی کے متاثرین میں شامل ہے ’ایم کیو ایم نے پہلے روز سے ہی اعلیٰ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، جس پر ابھی بھی قائم ہے‘۔

جماعت کے صوبائی ڈپٹی پارلیمانی رہنما فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ ’بارہ مئی کو شہر اور شہر کی سب سے بڑے نمائندہ جماعت کے خلاف ایک سازش کی گئی تھی جس میں چودہ کارکن ہلاک اور چالیس کے قریب زخمی ہوئے جو ہلاک ہوئے، انہیں گولیاں ماری گئیں اور اگر گولیں ماری جائیں گی تو ظاہر ہے کہ سامنے سے پھول تو نہیں برسائے گئے تھے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دیگر لوگوں نے اس تشدد سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ بجائے اس کے کہ شہریوں کے زخموں پر مرہم رکھتے اس وقت کی ناکام سیاسی قوتوں نے ایم کیو ایم کے خلاف الزام تراشیاں شروع کر دیں‘۔

شہر بہت متاثر ہوا تھا
 شہر شدید متاثر ہوا تھا شہر کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت اس شہر کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتی ہے اور اس کی کوششیں اور تمام کا تمام عمل یہی تھا
فیصل سبزواری

فیصل سبزواری کے مطابق ’اس واقعے سے شہر شدید متاثر ہوا تھا شہر کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت اس شہر کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتی ہے اور اس کی کوششیں اور تمام کا تمام عمل یہی تھا۔ ایم کیو ایم کی ہی کوششیں تھیں کہ ایک ماہ کے اندر شہر کی رونقیں بحال ہوگئیں تھیں‘۔

ایک سال کا عرصہ گذرنے کے بعد نہ تو بظاہر کوئی شواہد ہیں اور نہ ہی شہادتیں بچی ہیں وقت اور سیاسی مصلحت پسندی کی دھول نے سب کچھ ڈہانپ دیا ہے۔

متحدہ کی وڈیو
وڈیو کراچی میں 12 مئی کے تشدد پر مبنی ہے
دو ہاتھیوں کی لڑائی
چیف جسٹس کی آمد پر عسکری طاقت کا مظاہرہ
کراچیلمحہ بہ لمحہ
مختلف علاقے میں موجود ہمارے رپورٹرز سے
پولیس(فائل فوٹو)گرفتاریاں
’جسٹس‘ کی ریلی: تصویروں میں
’جنگ‘ کس نے جیتی
’کراچی کی لڑائی سب ہی ہار گئے‘
افتخار کے بعد بینظیر
وہی ہوا جس کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا
بارہ مئی کے’ذمہ دار‘
کراچی ہنگاموں پر’ایچ آر سی پی‘ کی رپورٹ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد