نواز شریف کو نا اہل قرار دے دیا گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دے دیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی فل بینچ نے سوموار کو فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ کے صدر اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف اسوقت تک وزارتِ اعلیٰ کے عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں جب تک ان پر لگائے جانے والے اعتراضات پر الیکشن کمیشن طرف سے فیصلہ سامنے نہیں آ جاتا۔ ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ سید خرم شاہ اور نور الہی کی طرف سے نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف دائر کی گئی دو علیحدہ علیحدہ درخواستوں پر کیا۔ لاہور ہائی کورٹ کا تین رکنی بینچ جسٹس عبدالشکور پراچہ، جسٹس ایم بلال خان اور جسٹس شبر رضا رضوی پر مشتمل تھا۔ عدالت نے پیر کے روز تین گھنٹے کی کارروائی کے بعد ان درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا اور سوموار ہی کی شام کو اس فیصلہ کا اعلان کر دیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر مایوسی اور ناامیدی کا اظہار کیا۔ پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا کہ وفاقی حکومت کا یہ مؤقف ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف درخواستین ہائی کورٹ کے سامنے قابل سماعت نہیں تھیں۔ خیال رہے کہ شہباز شریف پنجاب کے علاقہ بھکر کی صوبائی اسمبلی کی نشست اڑتالیس سے بلامقابلہ منتخب ہونے کے بعد پنجاب کے وزیر اعلٰی چنے گئے ہیں جبکہ ان کے بھائی نوازشریف لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو تئیس سے ضمنی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ سماعت کے دوران درخواست گزار نور الہیْ کے وکیل ڈاکٹر قاضی محی الدین نے دلائل میں کہا کہ نواز شریف کے کاغذات نامزدگی اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات کے دوران بھی مسترد کیے گئے تھے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ جب عام انتخابات میں کوئی امیدوار نااہل ہوجاتا ہے تو کس طرح اس امیدوار کے کاغذات ضمنی انتخابات میں اہل ہوسکتا ہے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ نواز شریف عدالت سے سزا یافتہ ہیں اور اس لیے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔ کارروائی کے دوران سید خرم شاہ نے وکیل رضا کاظم نے دلائل میں کہا کہ شہباز شریف کے خلاف الیکشن ٹربیونل نے اختلافی فیصلہ دیا ہے اس لیے شہباز شریف کے انتخاب لڑنے کی اہلیت کی جانچ پڑتال ہونی چاہئے۔ سماعت کے دوران مسلم لیگ نون لائیرز فورم کے صدر خواجہ محمود نے بنچ کے رکن جسٹس شبر رضا رضوی پر اعتراض کیا جس پر بنچ کے سربراہ جسٹس عبدالشکور پراچہ نے انہیں ہائی کورٹ آفس میں باضابطہ درخواست دائر کرنے کی ہدایت کی جس پر فورم کے صدر نے اس معاملہ پر درخواست دائر کردی۔ فورم کی طرف سے دائر کردہ درخواست میں کہاگیا کہ جسٹس شبر رضا رضوی مسلم لیگ قاف کے سینیٹر ڈاکٹر خالد رانجھا کے ایسوسی ایٹ رہے ہیں اور انہیں اس وقت ہائی کورٹ کا جج مقرر نہیں کیا گیا تھا جب نوازشریف وزیر اعظم اور شہبازشریف وزیر اعلیْ پنجاب تھے۔ عدالت نے پیر کے روز تین گھنٹے کی کارروائی کے بعد ان درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا اور سوموار ہی کی شام کو اس فیصلہ کا اعلان کر دیا۔ عدالت کے فیصلہ سناتے ہی مسلم لیگ کے حامی وکلاء نے کمرہ عدالت میں ’پی سی او جج نامنظور‘ اور ’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگائے۔ یاد رہے کہ ان مقدمات میں نواز شریف اور شہباز شریف احتجاجاً پیش نہیں ہو رہے تھے۔ ادھر مسلم لیگ نون ارکان پنجاب نے عدالتی فیصلہ کے خلاف مال روڈ پر احتجاج کیا اور نعرے لگائے۔ | اسی بارے میں نواز، شہباز کو نئے چیلنج کا سامنا05 June, 2008 | پاکستان شریف برادر: اہلیت کیس کا فیصلہ18 June, 2008 | پاکستان ’پی پی، نون لیگ میں ہم آہنگی نہیں‘20 June, 2008 | پاکستان ’جج بحال ہونگے، وقت معلوم نہیں‘20 June, 2008 | پاکستان جج پر اعتراض، بنچ ٹوٹ گیا21 June, 2008 | پاکستان جج پر اعتراض، بینچ ٹوٹ گیا21 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||