’پی پی، نون لیگ میں ہم آہنگی نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ججوں کی بحالی اور صدر کے مواخذے پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز میں ہم آہنگی نہیں ہے اور اس کے لیے بات چیت کے مزید راؤنڈ ہوں گے۔ یہ بات انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری اور پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کے درمیان رائیونڈ میں ہونے والی ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ نواز لیگ بجٹ کی حمایت کرے گی اور فنانس بل میں پاس کرانے میں حکومت کی مدد کرے گی۔ ’یہ پورا پیکج ہے اور ہم فنانس بل کی مکمل حمایت کریں گے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں رہنماؤں نے دونوں جماعتوں کے درمیان صدر کے مواخذے اور ججوں کی بحالی کے حوالے سے جو خلیج ہے اس کو کم کرنے پر بات ہوئی ہے۔ ’ان مسئلوں پر دونوں جماعتوں میں مماثلت پائی جاتی ہے وہاں اختلافات بھی ہیں۔ ان اختلافات کو آج دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کو نوڈیرو جانا تھا اور وہ جلدی میں تھے۔ تاہم ان اختلافات کو دور کرنے کے لیے بات چیت کے دو تین راؤنڈ مزید ہوں گے۔ ’آصف زرداری نے بیرون ملک جانا ہے اور دو یا تین جولائی کو واپس آنا ہے اس لیے بات چیت کے مزید راؤنڈ ان کی وطن واپسی کے بعد ہی ہوں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کے مواخذے پر دونوں جماعتوں میں طریقہ کار پر اختلاف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مواخذے پر باقی اتحادی جماعتوں سے بھی مشاورت کرنی ہے۔ ’اس سلسلے میں ہمیں عوامی نیشنل پارٹی اور فضل الرحمٰن گروپ سے بھی مشاورت کی ضرورت ہے اور اسی وجہ سے دس بارہ روز لگ جائیں گے اور پھر آصف زرداری ملک سے باہر جا رہے ہیں۔‘ وفاقی کابینہ میں واپسی کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہا کہ کابینہ سے استعفے ایک اصول کے لیے دیے تھے اور وہ مسئلہ جب تک حل نہیں ہوتا، ہماری کابینہ میں واپسی نہیں ہو گی۔ نئے صدر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس بارے میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ ’پہلے جگہ خالی کرا لیں پھر صدر کون ہو گا اس پر بات کریں گے۔‘ اس ملاقات میں ججوں کی بحالی، مجوزہ ترمیمی آئینی پیکیج اور پنجاب میں حکومتی امور پر دونوں جماعتوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات پر بات چیت ہوئی ہے۔ چار گھنٹے سے زائد ہونے والی ملاقات کے اختتام پر آصف زرداری رائیونڈ سے روانہ ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل ان دونوں قائدین نے پہلے مرحلے میں اپنے ساتھ آئے جماعت کے رہنماؤں کے ہمراہ میٹنگ کی۔ لیکن بعد میں ان دونوں قائدین کی تنہائی میں بات چیت ہوئی۔ اس ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری کی معاونت پی پی پی کے سیکریٹری جنرل جہانگیر بدر اور پنجاب کے سینئر وزیر راجہ ریاض جبکہ مسلم لیگ نواز کی ٹیم میں پارٹی کے قائد نواز شریف کے علاوہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف، ایم این اے خواجہ محمد آصف، چودھری نثار علی خان اور اسحٰق ڈار شامل ہیں۔ واضح رہے کہ تین دنوں میں ان رہنماؤوں کی دوسری ملاقات ہے۔ بدھ کے روز لاہور کے قریب جاتی عمرا فارم ہاؤس میں ہونے والی یہ ملاقات ڈھائی گھنٹوں تک جاری رہی تھی۔ | اسی بارے میں آئینی پیکج تیار ہے:فاروق نائیک19 May, 2008 | پاکستان ’ایوانِ صدر میں بھی جئے بھٹو ہوگا‘16 June, 2008 | پاکستان ’مشاورت سے نیا صدر لائیں گے‘17 June, 2008 | پاکستان لانگ مارچ کے بعد اٹھنے والے سوالات14 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||