BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 June, 2008, 16:40 GMT 21:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شریف برادر: اہلیت کیس کا فیصلہ

شریف برادران
نواز شریف اور شہباز شریف اور ان کے وکلاء میں سے کوئی عدالت میں پیش نہیں ہوا
لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی فل بنچ نے شریف برادران کے انتخاب لڑنے کی اہلیت کے معاملے میں فریق بننے کے لیے دائر الگ الگ درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جو جمعرات کو سنایاجائے گا۔

حکومت پنجاب اور سپیکر صوبائی اسمبلی نے شہباز شریف کے خلاف دائر درخواست میں جب کہ تجویز کنندہ مہر ظفر اقبال نے نواز شریف کے خلاف درخواست میں فریق بننے کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے۔

وزیر اعلیْ شہباز شریف کے خلاف نور الہیْ جبکہ نواز شریف کے خلاف سید خرم شاہ نے درخواستیں دائر رکھیں ہیں ۔ہائی کورٹ کے فل بنچ نے ان درخواستوں پر نواز شریف اور شہباز شریف کو اٹھارہ جون کے لیے نوٹس جاری کیے تھے تاہم شریف برادران نہ تو خود عدالت میں پیش نہ ہوئے اور نہ ہی ان کے وکیل ۔

خیال رہے کہ فریق بننے کی درخواستوں پر ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد شریف برادران کی اہلیت کے بارے میں دائر درخواست پر سماعت ہوگی۔

لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس فضل میراں چوہان، جسٹس حسنات احمد خان اور جسٹس احسن بھون پر مشتمل بنچ نے شریف برادران کے انتخاب لڑنے کی اہلیت کے معاملہ میں فریق بننے کے لیے درخواستوں پر چار گھنٹوں تک سماعت کی۔

شہباز شریف پنجاب کے علاقہ بھکر کی صوبائی اسمبلی کی نشست اڑتالیس سے بلامقابلہ منتخب ہونے کے بعد پنجاب کے وزیر اعلیْ چنے گئے ہیں جبکہ ان کے بھائی نوازشریف لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو تئیس سے ضمنی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔

 شریف برادارن کے اہلیت کیس میں حکومتِ پنجاب اور پنجاب اسمبلی کے سپیکر بھی فریق بننا چاہتے ہیں اور ان کی دلیل ہے کہ شہباز شریف صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں اور انہیں صوبے کے انتظامی امور چلانا ہوتے ہیں اس لیے حکومتِ پنجاب کو فریق بنایا جائے

کارروائی کے دوران حکومت پنجاب کی طرف سے خواجہ حارث نے دلائل میں کہا کہ شہباز شریف صوبہ کے وزیر اعلیْ ہیں اور انہیں صوبے کے انتظامی امور کو چلانے ہوتے ہیں اس لیے حکومت پنجاب کو اس معاملے میں فریق بنایا جائے۔

سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال کے وکیل اکرم شیخ نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل اسمبلی کے رکھوالے ہونے کے ناطے اس معاملے میں فریق بننے کا قانونی استحقاق رکھتے ہیں کیونکہ شہباز شریف اسمبلی کے رکن ہیں۔

نواز شریف کے تجویز کنندہ مہر ظفر اقبال کے وکیل سابق وزیر قانون سید اقبال حیدر نے دلائل دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ تجویز کنندہ کے بغیر انتخابی عمل شروع نہیں ہوتا ہے اس لیے ان کے موکل کو فریق بنایا جائے۔

درخواست گزار نور الہیْ اور خرم شاہ کے وکیل ڈاکٹرمحی الدین قاضی نے ان متفرق درخواستوں کی مخالفت کی اور کہا کہ شریف برادران خود پیش نہیں ہوئے جب وہ پیش ہونگے تو اس وقت فیصلہ کیا جائے کہ کس کو فریق بنانا ہے کس کو نہیں۔

سماعت کے دروان سابق صدر رفیق تارڑ، سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس خلیل الرحمٰن خان، ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی رانا مشہود، مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اور صوبائی اسمبلی کے علاوہ وکلا کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

حکومت پنجاب لوگافسران کی فہرستیں
پنجاب میں سابقہ دور کے افسران کی فہرستیں تیار
شریف اور نیا چیلنج
پہلے فرقہ واریت تھی اب خود کش حملے ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد