BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 April, 2008, 13:03 GMT 18:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب: اعلٰی افسران کی فہرستیں تیار

شہباز شریف (فائل فوٹو)
نامزد وزیر اعلٰی شہباز شریف کے بارے میں تاثر ہے کہ وہ سول بیوروکریسی کے ساتھ درشت رویہ رکھتے ہیں۔
پنجاب میں مسلم لیگ نواز نے ابھی حکومت نہیں سنبھالی لیکن ان افسروں کی فہرستیں تیار کرلی گئی ہیں جنہیں سابق دور میں قواعد میں نرمی کرکے اہم عہدوں پر تعینات کیا گیا تھا۔

ان میں وہ افسران شامل ہیں جنہیں ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ کنٹریکٹ دیا گیا، ان کی مدت ملازمت میں توسیع کی گئی یا وہ ڈیپوٹیشن پر دوسرے محکموں سے آئے ہیں۔

یہ فہرستیں پنجاب کے نئے چیف سیکرٹری جاوید محمود تیار کروارہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہر تعیناتی کا انفرادی طور پر جائزہ لے رہے ہیں اور اس کے بعد ہی فیصلہ کیا جائے گا۔

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں سب سے اونچے عہدے پر فائز اس بیوروکریٹ نے اپنے دفتر کے دروازے عام لوگوں کے لیے کھول دیئے ہیں اور سیکرٹریٹ کے راستے میں حائل کنکریٹ کی ان رکاوٹوں کو ہٹا دیا گیا ہے جنہیں سابق دور میں لگایا گیا تھا۔

چیف سیکرٹری نے اس بات کی تو تصدیق کی ہےکہ ایسے افسروں کی فہرستیں تیار کی جارہی ہیں جن کے مستقبل کا فیصلہ وہ کرنے والے ہیں۔ لیکن یہ نہیں بتایا کہ ایسے افسروں کی تعداد کتنی ہے اور وہ کون لوگ ہیں۔

اخباری اطلاعات کے مطابق پولیس اور دیگر اہم محکموں میں تعینات ایسے سینیئر افسروں کی تعداد نوے سے زیادہ ہے جنہیں دوبارہ نوکریاں دی گئیں۔ جبکہ دوسرے محکموں سے حکومتِ پنجاب آنے والے افراد ستر سے زیادہ بتائے جارہے ہیں۔

پنجاب کے نئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ ضروری نہیں کہ ایسے تمام سینیئر افسروں کو ہٹادیا جائے جنہیں سیاسی بنیادوں پر تعینات کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی تعیناتی میرٹ پر ہوئی ہے اور اس عہدے پر وہ افسر ناگزیر ہے تو اسے تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ البتہ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے افراد کی تعداد زیادہ ہے جنہیں تبدیل کیا جانا ضروری ہے۔

پنجاب کے سابق وزیر اعلٰی چودھری پرویز الہی اعلٰی سول و ملٹری افسروں سے ذاتی تعلقات استوار رکھنے کے لیے مشہور ہیں، تو نامزد وزیر اعلٰی شہباز شریف کے بارے میں تاثر ہے کہ وہ سول بیوروکریسی کے ساتھ درشت رویہ رکھتے ہیں۔

اٹھارہ فروری کو عام انتخابات کے نتائج سے جب یہ واضح ہوگیا کہ اگلے وزیر اعلٰی شہباز شریف ہونگے تو پنجاب سے سینیئر افسروں نے ازخود عہدے چھوڑنے شروع کردئیے تھے۔

انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس احمد نسیم نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی، وزیر اعلٰی کے پرنسپل سیکرٹری جی ایم سکندر نے اپنا تبادلہ وفاق میں کروالیا، ایڈیشنل چیف سیکرٹری نجیب اللہ ملک اور سیکرٹری ہاؤسنگ خالد سلطان بھی اپنا ٹرانسفر مرکز میں کروا چکے ہیں۔ لاہور کے ایس ایس پی آپریشن آفتاب چیمہ تربیت کے لیےچلے گئے ہیں جبکہ پنجاب میں نئے چیف سیکرٹری کی تعیناتی کے بعد صوبےکی سیکرٹری سروسز مسز وسیم افضل رخصت پر چلی گئی ہیں۔

پنجاب کے نئے چیف سیکرٹری جاوید محمود کی تقرری نومنتخب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے انٹرویو کے بعد کی لیکن تاثر یہی ہے کہ انہیں پنجاب کے سابق وزیر اعلٰی شہباز شریف کی سفارش پر تعینات کیا گیا۔

جاوید محمود ان کی وزارت اعلٰی کےدور میں ان کے پرنسپل سیکرٹری بھی رہے ہیں اور ان کی حکومت چلے جانے کےبعد کسی اہم عہدے پر تعینات نہیں کیے گئے۔ وہ اس بات کو نہیں مانتے کہ شہباز شریف سینیئر افسروں سے برا سلوک روا رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے شہباز شریف کو ایسے کسی افسر سے ناراض ہوتے نہیں دیکھا جو ایمانداری سے فرائض انجام دیتا ہو لیکن جہاں کام میں تساہل برتا جائے وہاں وہ ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں۔

مسلم لیگ نون کے صدر میاں شہباز شریف سے آٹھ برس پہلےجب پنجاب کی وزارت اعلٰی لے لی گئی تھی اس وقت سے لیکر اب تک پنجاب کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی آچکی ہے۔ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے عہدے ختم کردیئے گئے ہیں جبکہ محکمۂ پولیس میں تفتیشی ونگ کو الگ کیا گیا ہے اور انتظامی کنٹرول میں مقامی حکومتوں کے نمائندوں کو شامل کیا گیا ہے۔

نوتعینات شدہ چیف سیکرٹری نے کہا کہ نیا نظام چند برس سے کام کررہا ہے۔ کچھ فیڈ بیک اچھا ہے اور بعض پہلوؤں میں کمزوری پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پر سیاسی سطح پر غور ہورہا ہے اورتبدیلی کی ضرورت ہوئی تو اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔

نامزد وزیر اعلٰی شہباز شریف کو ساڑھےآٹھ برس بعد جہاں صوبے کا تبدیل شدہ انتظامی ڈھانچہ ملےگا وہیں انتظامی امور میں پیپلزپارٹی کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہوگا جو مخلوط حکومت کا حصہ ہے۔

اسی بارے میں
مل کر حکومت بنائیں گے
21 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد