BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 June, 2008, 09:17 GMT 14:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جج پر اعتراض، بنچ ٹوٹ گیا

شہبازشریف
درخواستوں کی سماعت سے انکار
لاہور ہائی کورٹ کی تین رکنی فل بنچ کے رکن جسٹس حسنات احمد خان نے شریف برادران کے انتخاب لڑنے کی اہلیت کے معاملے کی سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

دوسری طرف چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے شریف برادران کے انتخاب لڑنے کی اہلیت کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے لیے نیا بنچ تشکیل دے دیا ہے جو تئیس جون سے درخواستوں پر دوبارہ سماعت کرے گا۔

شریف برادران کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے لیے جو تین رکنی بنچ تشکیل دیا گیا ہے اس میں جسٹس عبدالشکور پراچہ، جسٹس ایم بلال خان اور جسٹس شبر رضا رضوی شامل ہیں۔

ہائی کورٹ کے جسٹس حسنات احمد خان نے درخواستوں پر انکار مسلم لیگ نون لائیرز فورم کے صدر خواجہ محمود کی طرف سے بنچ کی تشکیل کے اعتراض کے بعد کیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس فضل میراں چوہان ، مسٹر جسٹس حسنات احمد خان اور مسٹر جسٹس احسن بھون پر مشتمل بنچ شریف برادران کے انتخاب لڑنے کی اہلیت کے معاملے سماعت کررہا ہے۔

سینچر کو کارووائی کے دوران مسلم لیگ لائیرز فورم پاکستان کے صدر خواجہ محمود احمد نےتین رکنی فل بنچ کی تشکیل پر اعتراض کیا اور کہا کہ بنچ کے ایک رکن قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف پرویز الہیْ کے رشتہ دار ہیں جبکہ دوسرے رکن مسلم لیگ قاف کے سینیٹر ڈاکٹر خالد رانجھا کے جونئیر رہ چکے ہیں اور ڈاکٹر خالد رانجھا کو نواز شریف کے دور حکومت میں لاہور ہائی کورٹ کا مستقل جج مقرر کیا گیا تھا۔

ہائی کورٹ کے جسٹس حسنات احمد خان نے بنچ پر اٹھائے گئے اعتراض کی وجہ سے شریف براردارن کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرنے سے انکار کردیا۔

شریف براردان کو انتخاب لڑنے کی اجازت دینے کے خلاف سید خرم شاہ اور نورالہی نے الگ الگ درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ہائی کورٹ کے تین رکنی بنچ نے ان درخواستوں پر نواز شریف اور شہباز شریف کو نوٹس جاری کیے تھے تاہم ان کے پیش نہ ہونے پرفل بنچ نے یکطرفہ کارروائی شروع کی تھی۔

سینچر کو فل بنچ کے حکم اٹارنی جنرل کے ایما پر ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ عبدالرحمان پیش ہوئے اور انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ شریف برادران کی اہلیت کا معاملہ فریقین کے درمیان ایک نجی نوعیت کا تنازعہ ہے جس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں لاء افسر کی معاونت درکار نہیں ہے۔

سماعت کے دوران درخواست گزار سید خرم شاہ کے رضا کاظم نے شہباز شریف کے خلاف درخواست پر دلائل مکمل کیے جس کے بعد نورالہی کے وکیل ڈاکٹر محی الدین قاضی نے دلائل کا آغاز کیا تو اسی دوران مسلم لیگ نون لائیرز فورم کے صدر خواجہ محمود نے بنچ کی تشکیل پر اعتراض کردیا۔

خیال رہے کہ جمعہ کو لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی فل بنچ نے نواز شریف اور شہباز شریف کے انتخاب لڑنے کی اہلیت کے معاملے میں فریق بننے کے لیے دائر کی گئی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔

یہ درخواستیں سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال، حکومت پنجاب ، مسلم لیگ نون لائیرز فورم اور نواز شریف کے تجویز کنندہ مہر ظفر اقبال نے دائر کی تھیں۔

یاد رہے کہ شہباز شریف پنجاب کے علاقہ بھکر کی صوبائی اسمبلی کی نشست اڑتالیس سے بلامقابلہ منتخب ہونے کے بعد پنجاب کے وزیر اعلٰی منتخب ہوئے ہیں جبکہ ان کے بھائی نوازشریف لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو تئیس سے ضمنی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد