اہلیت کیس:یکطرفہ کارروائی کا فیصلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی فل بنچ نے مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف اور وزیراعلیْ پنجاب شہباز شریف کے انتخاب لڑنے کی اہلیت کے خلاف دائر درخواستوں پر یکطرفہ کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہائیکورٹ کے فل بنچ نے یہ فیصلہ شریف برادران کو جاری کردہ عدالتی نوٹسوں کی تعمیل کے باوجود ان کے پیش نہ ہونے پر دیا۔ وزیراعلیْ شہباز شریف کے خلاف نور الہیْ جبکہ نواز شریف کے خلاف سید خرم شاہ نے درخواستیں دائر رکھی ہیں۔ ہائیکورٹ کے فل بنچ نے ان درخواستوں پر نواز شریف اور شہباز شریف کو اٹھارہ جون کے لیے نوٹس جاری کیے تھے تاہم نہ شریف برادران اور نہ ہی ان کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے ۔ دوسری جانب ہائیکورٹ کے تین رکنی فل بنچ نے شریف برادران کے انتخاب لڑنے کی اہلیت کے معاملے میں فریق بننے کے لیے دائر الگ الگ درخواستوں پر فیصلہ ایک دن کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔ اب یہ فیصلہ بیس جون کو سنایا جائے گا۔ ہائیکورٹ کے فل بنچ نے ان درخواستوں پر بدھ کو سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ جمعرات کی صبح تک محفوظ کرلیا تھا تاہم یہ فیصلہ نہیں سنایا گیا۔ حکومت پنجاب اور سپیکر صوبائی اسمبلی نے شہباز شریف کے خلاف دائر درخواست میں جب کہ تجویز کنندہ مہر ظفر اقبال نے نواز شریف کے خلاف درخواست میں فریق بننے کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کا فل بنچ مسٹر جسٹس فضل میراں چوہان، جسٹس حسنات احمد خان اور جسٹس احسن بھون پر مشتمل ہے۔ شہباز شریف پنجاب کے علاقہ بھکر کی صوبائی اسمبلی کی نشست اڑتالیس سے بلامقابلہ منتخب ہونے کے بعد پنجاب کے وزیراعلیْ منتخب ہو ئے ہیں جبکہ ان کے بھائی نوازشریف لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو تئیس سے ضمنی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ حکومتِ پنجاب کی درخواست میں خواجہ حارث نے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ شہباز شریف صوبے کے وزیراعلیْ ہیں اور انتظامی امور کو چلاتے ہیں اس لیے حکومت پنجاب کو اس معاملے میں فریق بننے کی اجازت دی جائے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال کے وکیل اکرم شیخ نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل اسمبلی کے رکھوالے ہونے کے ناطے اس معاملے میں فریق بننے کا قانونی استحقاق رکھتے ہیں کیونکہ شہباز شریف اسمبلی کے رکن ہیں۔ نواز شریف کے تجویز کنندہ مہر ظفر اقبال کے وکیل سابق وزیر قانون سید اقبال حیدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تجویز کنندہ کے بغیر انتخابی عمل شروع نہیں ہوتا ہے اس لیے ان کے موکل کو فریق بنایا جائے۔ درخواست گزار نور الہیْ اور خرم شاہ کے وکیل ڈاکٹرمحی الدین قاضی نے ان متفرق درخواستوں کی مخالفت کی اور کہا کہ شریف برادران خود پیش نہیں ہوئے جب وہ پیش ہونگے تو اس وقت فیصلہ کیا جائے کہ کس کو فریق بنانا ہے کس کو نہیں۔ | اسی بارے میں شریف برادر: اہلیت کیس کا فیصلہ18 June, 2008 | پاکستان درخواست ہائی کورٹ بھجوا دی گئی12 June, 2008 | پاکستان شہباز: نو سال بعد پِھر وزیراعلٰی بن گئے08 June, 2008 | پاکستان انتخابی اہلیت، شریف برادران کی طلبی05 June, 2008 | پاکستان نواز، شہباز کو نئے چیلنج کا سامنا05 June, 2008 | پاکستان نواز، شہباز اہلیت، ٹریبونل منقسم31 May, 2008 | پاکستان ’عدالتی کارروائی قوم سے دھوکہ‘ 30 May, 2008 | پاکستان نواز شریف کی اہلیت پر تنازع28 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||