انتخابی اہلیت، شریف برادران کی طلبی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف کی ضمنی انتخاب کے لیے اہلیت کے فیصلے اور شہباز شریف کی بلامقابلہ کامیابی کے نوٹیفیکشن کے خلاف درخواستوں پر شریف برادران کو اٹھارہ جون کو عدالت میں طلب کر لیا ہے۔ جسٹس فضل میراں چوہان، جسٹس حسنات احمد خان اور جسٹس محمد احسن بھون پر مشتمل بینچ نے یہ نوٹس آزاد امیدوار نور الٰہی اور خرم شاہ کی طرف سے دائر درخواستوں پر جاری کیے ہیں۔ ان درخواستوں میں استدعا کی گئی ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف انتخابات لڑنے کے اہل نہیں ہیں اس لیے انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہ دی جائے۔ عدالت نے اس استدعا کو مسترد کر دیا جس میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کو درخواست پر حتمی فیصلہ آنے تک انتخاب لڑنے سے روک دیا جائے۔عدالت نے شہباز شریف کے بلامقابلہ منتخب ہونے کے نوٹیفیکیشن کے اجراء پر عملدرآمد روکنے کی درخواست بھی مسترد کردی۔ نواز شریف نے لاہورکے حلقہ این اے ایک سو تئیس سے جبکہ شہباز شریف نے لاہور کے دو حلقوں سمیت پنجاب کے پانچ حلقوں سے صوبائی نشست کے لیے کاغذات جمع کرائے تھے اور وہ بھکر سے بلامقابلہ رکن پنجاب اسمبلی منتخب بھی ہو چکے ہیں۔ | اسی بارے میں نواز، شہباز کو نئے چیلنج کا سامنا04 June, 2008 | پاکستان آئینی پیکج:شہباز، زرداری ملاقات 03 June, 2008 | پاکستان آئینی پیکج بجٹ کے بعد اسمبلی میں03 June, 2008 | پاکستان شہباز منتخب: نوٹیفیکیشن جاری03 June, 2008 | پاکستان ’شہباز بِلامقابلہ ایم پی اے‘02 June, 2008 | پاکستان نواز، شہباز کے کاغذات منظور01 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||