BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 June, 2008, 10:33 GMT 15:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نواز، شہباز کے کاغذات منظور

نواز شریف(فائل فوٹو)
نواز شریف لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے ایک سو تئیس سے ضمنی انتخابات میں حصہ لیں گے
چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ قاضی محمد فاروق نے پاکستان مسلم نون کے قائد میاں نواز شریف اور پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر میاں شہباز شریف کے خلاف انتخابی عذرداریوں کو نمٹاتے ہوئے انہیں ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر کی طر ف سے اتوار کو جاری ہونے والے تفصیلی بیان میں کہا ہے کہ چونکہ ان ضمنی انتخابات میں عذداری پر فیصلوں کی آخری تاریخ اکتیس مئی تھی اور ان افراد کے خلاف انتخابی عذرداریوں پر لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ منقسم تھا اس لیے عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت ریٹرنگ افسر کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا ہے جس میں ریٹرنگ افسر نے ان دونوں مسلم لیگی رہنماوں کے خلاف تمام عذرداریوں کو مسترد کردیا تھا اور اُن کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے تھے۔

فیصلہ برقرار
 ضمنی انتخابات میں عذداری پر فیصلوں کی آخری تاریخ اکتیس مئی تھی اور ان افراد کے خلاف انتخابی عذرداریوں پر لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ منقسم تھا اس لیے عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت ریٹرنگ افسر کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا ہے
الیکشن کمیشن
بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر الیکشن ٹربیونل مقررہ مدت تک انتخابی عذرداریوں پر فیصلہ نہیں کر پاتا تو پھر ریٹرننگ افسر کے فیصلے کو ہی حتمی تصور کیا جاتا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی الیکشن ٹربیونل کی طرف سے شریف برادران کے خلاف انتخابی عذردایوں پر منقسم فیصلہ آنے پر اسے چیف الیکشن کمشنر کو بھجوا دیا تھا۔

شریف برادران کے خلاف انتخابی عذرداروں کی سماعت کرنے والے لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی ٹریبونل کے ایک رکن اکرم قریشی نے سنیچر کے روز نوازشریف اور شہباز شریف کو الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دیدیا جبکہ اسی ٹریبونل کے دوسرے رکن جسٹس حافظ طارق نسیم نے اپیلیں مسترد کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ نون کے ان دونوں رہنماؤں کو انتخابات لڑنے کا اہل قرار دیا۔

میاں نواز شریف لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے ایک سو تئیس سے ضمنی انتخابات میں حصہ لیں گے یہ نشست پاکستان مسلم لیگ نون کے جاوید ہاشمی نے خالی کی ہے جبکہ میاں شہباز شریف پنجاب کی چار نشستوں سے ضمنی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

قومی اسمبلی کے لاہور کے حلقے 123 سے نور الٰہی نے میاں نواز شریف کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے لیے الیکشن ٹریبونل سے رجوع کیا تھا جبکہ میاں شہباز شریف کے خلاف انتخابی عذرداریاں سیالکوٹ کے حلقے پی پی 124 سے ذوالفقار علی گھمن، بھکر سے پی پی 48 سے سید خرم شاہ، لاہور کے پی پی 141 سے اظہر خان لودھی، لاہور کے ہی پی پی 154 سے سید خرم علی شاہ نے دائر کی تھیں۔

میاں نواز شریف نے راولپنڈی سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے باون سے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے تھے اور اس حلقے سے میاں نواز شریف کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پاکستان مسلم لیگ نون کے اُمیدوار ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد