BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 June, 2008, 07:05 GMT 12:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اہلیت: فریق بننےکی درخواستیں رد

شریف برادران
شہباز وزیراعلٰی پنجاب بن چکے ہیں جبکہ نواز شریف ضمنی انتخاب میں حصہ لیں گے
لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی فل بنچ نے نواز شریف اور شہباز شریف کے انتخاب لڑنے کی اہلیت کے معاملے میں فریق بننے کے لیے دائر کی گئی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔

ہائی کورٹ کے فل بینچ نے شہباز شریف کی اہلیت کے خلاف درخواست میں اٹارنی جنرل کو معاونت کے لیے اکیس جون کو طلب کیا ہے۔

شریف برادران کے انتخاب لڑنے کی اہلیت کو سید خرم شاہ اور نور الہیْ نے ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے جبکہ حکومتِ پنجاب اور سپیکر صوبائی اسمبلی رانا محمد اقبال نے شہباز شریف کے خلاف دائر درخواست میں اور تجویز کنندہ مہر ظفر اقبال نے نواز شریف کے خلاف درخواست میں فریق بننے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

ہائی کورٹ کے فل بنچ نے شریف برادران کی اہلیت کے خلاف درخواستوں پر ان کو نوٹس جاری کیے تھے نواز شریف اور شہباز شریف عدالتی نوٹسوں کی تعمیل کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

ہائی کورٹ کے فل بنچ نے شریف برداران کے پیش نہ ہونے پر ان کے خلاف جعمہ کو یک طرفہ کارروائی شروع کر دی۔

کارروائی کے دوران درخواست گزار سید خرم شاہ کے وکیل رضا کاظم نے یہ موقف اختیار کیا کہ جب الیکشن کمیشن کا ٹربیونل منقسیم فیصلے دے تو الیکشن کمشنر قانون کے تحت نیا الیکشن ٹربیونل تشکیل دے سکتے ہیں۔
وکیل کا کہنا ہے کہ الیکشن کمشنر نے شریف برادران کے معاملے میں ایسا نہیں کیا۔

ہائی کورٹ کے جسٹس فضل میراں چوہان، جسٹس حسنات احمد خان اور جسٹس احسن بھون پر مشتمل بنچ نے درخواست گزار کے وکیل کے موقف کے بعد اٹارنی جنرل کو طلب کر لیا ہے۔

قبل ازیں ہائی کورٹ کے تین رکنی بنچ نے شریف برادران کے خلاف درخواستوں میں فریق بننے کے معاملے میں تمام متفرق درخواستوں کو رد کردیا۔ فل بنچ نے ان متفرق درخواستوں پر کارروائی مکمل ہونے پر فیصلہ جمعرات تک محفوظ کیا تھا تاہم بنچ نے ایک دن کی توسیع کرتے ہوئے یہ فیصلہ جمعہ کو سنایا ہے۔

فریق بننے کے لیے حکومتِ پنجاب کی درخواست میں خواجہ حارث نے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ شہباز شریف صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں اور انتظامی امور کو چلاتے ہیں اس لیے حکومت پنجاب کو اس معاملے میں فریق بننے کی اجازت دی جائے۔
سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال کے وکیل اکرم شیخ کا یہ موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل اسمبلی کے رکھوالے ہونے کے ناطے اس معاملے میں فریق بننے کا قانونی استحقاق رکھتے ہیں کیونکہ شہباز شریف اسمبلی کے رکن ہیں۔

نواز شریف کے تجویز کنندہ مہر ظفر اقبال کے وکیل سابق وزیر قانون سید اقبال حیدر کا کہنا تھا کہ تجویز کنندہ کے بغیر انتخابی عمل شروع نہیں ہوتا ہے اس لیے ان کے مؤکل کو فریق بنایا جائے۔

درخواست گزار نور الہیٰ اور خرم شاہ کے وکیل ڈاکٹرمحی الدین قاضی نے ان متفرق درخواستوں کی مخالفت کی۔

خیال رہے کہ شہباز شریف پنجاب کے علاقہ بھکر کی صوبائی اسمبلی کی نشست اڑتالیس سے بلامقابلہ منتخب ہونے کے بعد پنجاب کے وزیر اعلیٰ چنے گئے ہیں جبکہ ان کے بھائی نوازشریف لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو تئیس سے ضمنی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد