شہباز نے اعتماد کا ووٹ لے لیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے نومنتخب وزیراعلٰی میاں شہباز شریف نے صوبائی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے لیا ہے۔ دو سو چھیاسٹھ اراکینِ اسمبلی نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ شہباز شریف اتوار کو دو سو پینسٹھ ووٹ لے کر بلامقابلہ قائد ایوان منتخب ہوئے تھے۔ پیر کو اعتماد کے ووٹ کے لیے بلایا گیا اجلاس ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے ساڑھے گیارہ بجے شروع ہوا۔ صوبے میں حزب مخالف کی بڑی جماعت مسلم لیگ قاف نے پیر کو بھی ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ جاری رکھا اور ان کے اراکین اسمبلی کے سامنے لگائے گئے احتجاجی کیمپ پر بیٹھے رہے۔ مسلم لیگ قاف نے قائد ایوان کے چناؤ کے لیے ہونے والی کارروائی کا بھی بائیکاٹ کیا تھا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ان کے نامزد قائد حزب مخالف چوہدری ظہیر کی بطور قائد حزبِ اختلاف تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ قائد ایوان و حزبِ اختلاف کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے مجاز سپیکر صوبائی اسمبلی رانا محمد اقبال کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ قاف کے پاس اکثریت نہیں ہے لہٰذا ان کے نامزد کردہ قائد حزب مخالف کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جا سکتا۔ پیر کے روز اعتماد کے ووٹ کی کارروائی شروع ہونے سے قبل سپیکر نے ڈپٹی سپیکر رانا مشہود علی خان اور وزیر خزانہ تنویر اشرف کائرہ پر مشتمل کمیٹی کو حزب مخالف کو ایوان میں لانے کیلیے بھیجی۔ اس کمیٹی نے واپس آ کرایوان کو بتایا کہ مسلم لیگ قاف ایوان میں آنا ہی نہیں چاہتی اور وہ کوئی بھی بات ماننے کو تیار نہیں۔ جس کے بعد ایوان کی کارروائی شروع کی گئی۔ شہباز شریف نے اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد ایوان سے خطاب کرتے ہوئے دو ہزار دس تک صوبے میں یکساں نظام تعلیم نافذ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس وقت تک پنجاب کا کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہیں ہوگا۔ شہباز شریف نے صوبے میں کنٹریکٹ پر بھرتی اساتذہ کے معاملے کے تحقیقات کے لیے ایک کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نےگذشتہ دور حکومت میں بھرتی کیے گئے کنٹریکٹ اساتذہ کو تسلی دی کہ انہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ حکومت تحقیقات کے بعد ملک و قوم اور شعبہ تعلیم کے بہترین مفاد میں ہی فیصلہ کرے گی۔ شہباز شریف نے کہا کہ دیہاتوں کے بچے بھی اعلٰی تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے بچوں کی طرح ذہین ہیں لیکن انہیں وہ مواقع میسر نہیں۔ انہوں اعلان کیا کہ وہ بچے جو صرف مالی تنگ دستی کی وجہ اعلٰی تعلیمی اداروں میں داخلہ نہیں لے پاتے ان کی تعلیم کے اخراجات صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔ ایوان میں جنوبی پنجاب سے منتخب اراکین نے چولستان میں پانی کی کمیابی پر احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چولستان بدترین قحط کا شکار ہے وہاں لوگوں اور جانوروں کے لیے پینے کا پانی میسر نہیں ۔ وزیر آبپاشی اور سینئر وزیر راجہ ریاض نے بھی ان کی تائید کی اور کہا کہ چولستان بدترین حالات سے گذر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چولستان کو صرف فلڈ چینل (سیلابی نالے) سے ہی پانی دیا جا سکتا ہے اور اس کے لیے وزیراعلٰی یا صدر مملکت کی خصوصی اجازت درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے شہباز شریف پر زور دیا کہ وہ اجازت دیں تو فلڈ چینل (سیلابی نالے ) میں ایک سو کیوسک پانی چھوڑا جائے۔ | اسی بارے میں شہباز: نو سال بعد پِھر وزیراعلٰی بن گئے08 June, 2008 | پاکستان شہباز کا حلف، کھوسہ مستعفی06 June, 2008 | پاکستان نواز، شہباز کو نئے چیلنج کا سامنا05 June, 2008 | پاکستان شہباز کی اتوار کو حلف برداری06 June, 2008 | پاکستان شہباز منتخب: نوٹیفیکیشن جاری03 June, 2008 | پاکستان آئینی پیکج:شہباز، زرداری ملاقات 03 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||