BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 July, 2008, 11:55 GMT 16:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نواز شریف ملک کے مقبول ترین لیڈر

ڈاکٹر عبدالقدیر
پاکستانیوں کی اکثریت ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر کو ملک کا صدر دیکھنا چاہتی ہے
ایک امریکی غیر سرکاری تنظیم نے پاکستان میں کیے جانے والے ایک سروے کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھتی ہے اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردی اور شدت پسندی کو مذاکرات کے ذریعے ختم کرنے کی خواہاں ہے۔ نواز شریف ملک کے مقبول ترین لیڈر ہیں اور پاکستانیوں کی اکثریت ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر کو ملک کا صدر دیکھنا چاہتی ہے۔

واشنگٹن میں قائم انٹرنیشنل ریپبلیکن انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام ہونے والے اس سروے میں ملک کے پچاس ضلعوں میں ساڑھے تین سو مقامات پر تقریباً چار ہزار افراد سے سوالات پوچھے گئے۔

ملک کے اقتصادی اور سماجی مسائل کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کے جواب میں ستر فیصد پاکستانیوں کی رائے تھی کہ مہنگائی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جبکہ صرف دو فیصد امن و امان اور خودکش حملوں کو مسئلہ سمجھتے ہیں۔ بہت کم پاکستانی (ایک فیصد سے بھی کم) القاعدہ تنظیم کو اپنے لیے مسئلہ سمجھتے ہیں۔ بہتّرفیصد پاکستانیوں کی رائے میں ان کے معاشی حالات گزشتہ سال کی نسبت زیادہ خراب ہوئے ہیں۔

اکاون فیصد لوگوں نے کہا کہ ملک کو درپیش اہم مسائل حل کرنے میں حکومت کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے۔ چھیاسی فیصد لوگ سمجھتے ہیں کہ ملک غلط سمت میں جا رہا ہے اور تریسٹھ فیصد لوگ خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔

تراسی فیصد افراد معزول ججوں کی بحالی کے حق میں ہیں اور اسی تناسب سے

مشرف چوہدریوں سے ذرا آگے
 معزول چیف جسٹس افتخار چوہدری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پینسٹھ فیصد جبکہ پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف زرداری کو سروے میں شامل پینتالیس فیصد افراد کی حمایت حاصل ہے۔ صدر پرویز مشرف کو صرف نو فیصد جبکہ مسلم لیگ ق کے راہنماؤں چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الہی کو آٹھ فیصد لوگ پسند کرتے ہیں
سروے
صدر مشرف کی رخصتی کے خواہاں ہیں۔ سڑسٹھ فیصد لوگ انکی جگہ زیرحراست ایٹمی سائنسدان کو صدر پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں جو اس وقت اپنی نظر بندی ختم کرانے کے لیے مقدمہ لڑ رہے ہیں۔

ساٹھ فیصد لوگ مذہبی انتہا پسندی کو مسئلہ سمجھتے ہیں جب کہ اکہتر فیصد کہتے ہیں کہ صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں شدت پسندی اور دہشت گردی کو مذاکرات کے ذریعے ختم کیا جائے۔ صرف نو فیصد پاکستانی وہاں فوجی کارروائی کے حامی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کے ساتھ تعاون کی مخالفت بھی بہت نمایاں ہے۔ اکہتر فیصد لوگ کسی بھی طرح کے امریکی تعاون کے مخالف جبکہ پندرہ فیصد حامی ہیں۔

سروے کے مطابق پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو کے قتل، مسلم لیگ (ق) کی انتخابی شکست اور صدر پرویز مشرف کی مقبولیت میں کمی کے بعد پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ نواز شریف ملک کے مقبول ترین راہمنا کے طور پر سامنے آئے ہیں جن کی حمایت اس سروے میں شامل بیاسی فیصد لوگوں نے کی۔ دوسرے نمبر پر ڈاکٹر عبدالقدیر ہیں جنہیں بہتر فیصد لوگوں کی حمایت حاصل ہے۔ اس کے بعد معزول چیف جسٹس افتخار چوہدری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پینسٹھ فیصد جبکہ پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف زرداری کو سروے میں شامل پینتالیس فیصد افراد کی حمایت حاصل ہے۔ صدر پرویز مشرف کو صرف نو فیصد جبکہ مسلم لیگ ق کے راہنماؤں چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الہی کو آٹھ فیصد لوگ پسند کرتے ہیں۔

اسی طرح سروے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) سب سے مقبول جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ سروے میں شامل لوگوں سے جب یہ پوچھا گیا کہ مستقبل قریب میں اگر پارلیمانی اتخابات ہوتے ہیں تو وہ کس پارٹی کو ووٹ دیں گے، چھتیس فیصد نے مسلم لیگ ن اور بتیس فیصد نے پیپلز پارٹی کے حق میں فیصلہ دیا۔ چار فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ وہ ق لیگ کو ووٹ دیں گے۔

اٹھاون فیصد لوگ موجودہ حکومتی اتحاد کو برقرار رکھنے کے حق میں ہیں جبکہ ترپن فیصد لوگوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے مسلم لیگ ق سے اتحاد کی مخالفت کی ہے۔

مسلم لیگ پیپلز پارٹی سے مقبول
 پاکستان مسلم لیگ (ن) سب سے مقبول جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ سروے میں شامل لواگوں کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں انتخاب ہونے پر چھتیس فیصد لوگ مسلم لیگ ن اور بتیس فیصد نے پیپلز پارٹی کے حق میں ووٹ دیں گے

اداروں کی مقبولیت کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کے جواب میں بتایا گیا ہے کہ فوج کی مقبولیت میں گزشتہ برس کے مقابلے میں کمی آئی ہے جب بیاسی فیصد افراد فوج کو پسند کرتے تھے جو اب کم ہو کر پچپن فیصد رہ گئے ہیں۔

پاکستان میں سرگرم انتہا پسند گروپوں کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کے جواب میں معلوم ہوا ہے کہ چوبیس فیصد لوگ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو پسند کرتے ہیں اور اتنے ہی نا پسند۔ جبکہ پاکستانی عسکریت پسند راہنما بیت اللہ محسود کو صرف نو فیصد پسند کرتے ہیں اور بتیس فیصد نا پسند۔

شریف اور نیا چیلنج
پہلے فرقہ واریت تھی اب خود کش حملے ہیں
نواز شریفنواز شریف سے اپیل
لاپتہ افراد کے عزیزوں کی نواز شریف سے ملاقات
اخباروں میں نواز
ہر اخبار میں نواز شریف آمد کی خصوصی کوریج
کلثوم کا عزم
سیاست میں آنا خواہش نہیں مجبوری
نواز شریفنواز شریف استقبال
پارٹی کی اعلٰی قیادت فلاپ شو کی ذمہ دار ہے؟
پاکستانی پریس جلاوطنی کا معاہدہ
کیا بلی تھیلے سے باہر آ گئی؟ پاکستانی اخبارات
نواز شریف’فائدہ نواز شریف کا‘
’قیدی نواز شریف زیادہ خطرناک ثابت ہوگا‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد