BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 July, 2008, 09:35 GMT 14:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غیر آئینی صدر داخلی معاملہ: نواز

میاں نواز شریف
میاں نواز شریف حکومت کی بعض پالیسیوں سے بھی نالاں ہیں
پاکستان کے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے صدر پرویز مشرف کے متعلق امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ ایک غیر آئینی صدر سے پاکستان کو کیا کرنا ہے اس بارے میں بیرونی مشاورت کی ضرورت نہیں۔‘

جمعرات کی صبح لندن روانگی سے قبل صحافیوں سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہا ’پاکستان کو کیا کرنا ہے اور پاکستان کو اپنے صدر کے ساتھ جو کہ ایک غیر آئینی صدر ہیں ان کے ساتھ کیا کرنا ہے یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، یہ پاکستان کا بیرونی معاملہ نہیں ہے، ہمیں اس میں کسی بھی بیرونی مشاورت کی ضرورت نہیں ہے۔‘

رچرڈ باؤچر نے صدر پرویز مشرف اور دیگر حکام سے ملاقاتوں کے بعد بدھ کو ایک نیوز بریفنگ میں کہا تھا کہ پاکستان کا مسئلہ صدر پرویز مشرف نہیں بلکہ توانائی اور خوارک ہیں اور سب کو ان مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کے بقول امریکہ پرویز مشرف کو پاکستان کا صدر مانتا ہے اور ان کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما سے جب پوچھا گیا کہ وہ کب تک حکومت سے علیحدگی کے بارے میں فیصلہ کریں گے تو انہوں نے اس بارے میں کوئی واضح جواب نہیں دیا۔’ ہم بڑی برد باری اور تحمل کے ساتھ جمہوریت کے لیے اپنے عزم کی خاطر پیپلز پارٹی کی حکومت کی حمایت کر رہے ہیں۔ ہم آمریت کا خاتمہ چاہتے ہیں اور ایک آمر نے جو پچھلے آٹھ سال سے پاکستان کے ساتھ جو ہولی کھیلی یا حشر کیا ہے اُسے مضبوط نہیں کرنا چاہتے لیکن ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ ججز معزول رہیں اور عوام مہنگائی کے طوفان میں بہتے چلے جائیں۔ ہم تو خلوص کے ساتھ حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں۔‘

 ڈھائی ماہ قبل وزیراعظم ہاؤس میں اجلاس ہوا تھا جس میں بھی تھا اور فیصلہ ہوا تھا کہ قبائلی علاقوں میں ڈائیلاگ کی پالیسی پر عمل کیا جائےگا، لیکن اب آپریشن کا فیصلہ ہواہے یہ از خود پیپلز پارٹی کا فیصلہ ہے۔ جس وجہ سے بھی یہ فیصلہ ہوا وہ قومی پالیسی کے تحت ہونا چاہیے اور پارلیمان میں ہونا چاہیے
میاں نواز شریف

میاں نواز شریف نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ وہ حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت نے قبائلی علاقہ جات میں جو آپریشن شروع کیا ہے، ملک میں تیل، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے ہوئے ہیں ایسے کسی بھی اہم فیصلے میں ان سے مشاروت نہیں کی گئی۔

ان کا کہنا تھا ’ ڈھائی ماہ قبل وزیراعظم ہاؤس میں اجلاس ہوا تھا جس میں بھی تھا اور فیصلہ ہوا تھا کہ قبائلی علاقوں میں ڈائیلاگ کی پالیسی پر عمل کیا جائےگا، لیکن اب آپریشن کا فیصلہ ہواہے یہ از خود پیپلز پارٹی کا فیصلہ ہے۔ جس وجہ سے بھی یہ فیصلہ ہوا وہ قومی پالیسی کے تحت ہونا چاہیے اور پارلیمان میں ہونا چاہیے۔‘

اطلاعات کے مطابق میاں نواز شریف ایک ہفتہ کے لیے لندن روانہ ہوئے ہیں جہاں وہ اپنی اہلیہ کی عیادت کریں گے۔ ان کی اہلیہ کلثوم نواز کا کچھ ہفتے قبل لندن کے ایک ہسپتال میں گُھٹنے کا آپریشن ہوا تھا۔

اسی بارے میں
’مشرف کا مواخذہ جلد‘
15 June, 2008 | پاکستان
جج پر اعتراض، بنچ ٹوٹ گیا
21 June, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد