غیر آئینی صدر داخلی معاملہ: نواز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے صدر پرویز مشرف کے متعلق امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ ایک غیر آئینی صدر سے پاکستان کو کیا کرنا ہے اس بارے میں بیرونی مشاورت کی ضرورت نہیں۔‘ جمعرات کی صبح لندن روانگی سے قبل صحافیوں سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہا ’پاکستان کو کیا کرنا ہے اور پاکستان کو اپنے صدر کے ساتھ جو کہ ایک غیر آئینی صدر ہیں ان کے ساتھ کیا کرنا ہے یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، یہ پاکستان کا بیرونی معاملہ نہیں ہے، ہمیں اس میں کسی بھی بیرونی مشاورت کی ضرورت نہیں ہے۔‘ رچرڈ باؤچر نے صدر پرویز مشرف اور دیگر حکام سے ملاقاتوں کے بعد بدھ کو ایک نیوز بریفنگ میں کہا تھا کہ پاکستان کا مسئلہ صدر پرویز مشرف نہیں بلکہ توانائی اور خوارک ہیں اور سب کو ان مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کے بقول امریکہ پرویز مشرف کو پاکستان کا صدر مانتا ہے اور ان کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما سے جب پوچھا گیا کہ وہ کب تک حکومت سے علیحدگی کے بارے میں فیصلہ کریں گے تو انہوں نے اس بارے میں کوئی واضح جواب نہیں دیا۔’ ہم بڑی برد باری اور تحمل کے ساتھ جمہوریت کے لیے اپنے عزم کی خاطر پیپلز پارٹی کی حکومت کی حمایت کر رہے ہیں۔ ہم آمریت کا خاتمہ چاہتے ہیں اور ایک آمر نے جو پچھلے آٹھ سال سے پاکستان کے ساتھ جو ہولی کھیلی یا حشر کیا ہے اُسے مضبوط نہیں کرنا چاہتے لیکن ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ ججز معزول رہیں اور عوام مہنگائی کے طوفان میں بہتے چلے جائیں۔ ہم تو خلوص کے ساتھ حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں۔‘ میاں نواز شریف نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ وہ حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت نے قبائلی علاقہ جات میں جو آپریشن شروع کیا ہے، ملک میں تیل، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے ہوئے ہیں ایسے کسی بھی اہم فیصلے میں ان سے مشاروت نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا ’ ڈھائی ماہ قبل وزیراعظم ہاؤس میں اجلاس ہوا تھا جس میں بھی تھا اور فیصلہ ہوا تھا کہ قبائلی علاقوں میں ڈائیلاگ کی پالیسی پر عمل کیا جائےگا، لیکن اب آپریشن کا فیصلہ ہواہے یہ از خود پیپلز پارٹی کا فیصلہ ہے۔ جس وجہ سے بھی یہ فیصلہ ہوا وہ قومی پالیسی کے تحت ہونا چاہیے اور پارلیمان میں ہونا چاہیے۔‘ اطلاعات کے مطابق میاں نواز شریف ایک ہفتہ کے لیے لندن روانہ ہوئے ہیں جہاں وہ اپنی اہلیہ کی عیادت کریں گے۔ ان کی اہلیہ کلثوم نواز کا کچھ ہفتے قبل لندن کے ایک ہسپتال میں گُھٹنے کا آپریشن ہوا تھا۔ | اسی بارے میں صدر مشرف کوئی مسئلہ نہیں: باؤچر02 July, 2008 | پاکستان باؤچر کی نواز شریف سے ملاقات01 July, 2008 | پاکستان ’مشرف کا مواخذہ جلد‘15 June, 2008 | پاکستان نواز، شہباز کو نئے چیلنج کا سامنا05 June, 2008 | پاکستان آئینی پیکج: شہباز، زرداری ملاقات آج02 June, 2008 | پاکستان لاہور: نواز کے حق میں اہم مراکز بند28 June, 2008 | پاکستان جج پر اعتراض، بنچ ٹوٹ گیا21 June, 2008 | پاکستان ’جج بحال ہونگے، وقت معلوم نہیں‘20 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||