’مشرف کا مواخذہ جلد‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی میں اگلے مالی سال کے مجوزہ بجٹ پر جاری بحث میں مسلم لیگ نواز کے ایک رکن نے بجٹ پر تنقید کر کے اور صدر مشرف کے مواخذے کی تحریک پیش کرنے کا اعلان کر کے بجٹ پر جاری پارلیمانی بحث کو نیا رنگ دے دیا۔ راولپنڈی سے منتخب ہونے والے رکن اسمبلی حنیف عباسی نے بجٹ کے بارے میں مختصر الفاظ میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بجٹ میں کچھ ایسا نظر نہیں آیا جس سے مہنگائی میں کمی کا امکان ہو اس لیے وہ بجٹ پر زیادہ بات نہیں کرنا چاہتے کیونکہ وہ حکومت کا حصہ ہیں اور اس صورت میں اپنی ہی حکومت کے بجٹ پر تنقید مناسب معلوم نہیں ہوتی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تیل، بجلی اور گیس سمیت مختلف اشیا پر سبسڈی کے خاتمے سے ہر پاکستانی متاثر ہوگا لیکن تنخواہیں صرف سرکاری ملازمین کی بڑھائی گئی ہیں۔ ارکان کے اصرار کے باوجود بجٹ پر مزید بحث سے انکار کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے سابق رکن نے اپنی تنقید کا رخ صدر پرویز مشرف کی جانب موڑ دیا اور کہا کہ پاکستان کے عوام اور نظریات کو امریکہ کے ہاتھوں فروخت کر کے بھی صدر مشرف اس ملک کی معیشت ٹھیک نہیں کر سکے۔ حنیف عباسی نے کہا کہ مشرف کے اقتدار کا آخری وقت آن پہنچا ہے اور انکی جماعت صدر مشرف کے خلاف بہت جلد مواخذے کی تحریک پارلیمنٹ کے سامنے پیش کر دے گی۔
بعد ازاں قومی اسمبلی کی لابی میں انہوں نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ انکی جماعت نے صدر کے مواخذے کی تحریک تیار کر لی ہے اس پر پچاس کے قریب ارکان نے دستخط بھی کر دئیے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے چیئرمین رابط ظفرالحق نے صدر کے مواخذے کی تحریک کی تیاری سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔ اتوار کے روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے راجہ ظفرالحق نے کہا کہ انکی جماعت کی خواہش ہے کہ صدر پرویز مشرف کا مواخذہ جلد از جلد ہو لیکن ایسا اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیکر ہی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت صدر مشرف کے مواخذے کے بارے میں سنجیدہ ہے اور اس بارے میں بات چیت بھی چل رہی ہے لیکن ابھی قرارداد کی تیاری یا اس پر دستخط کرنے کا مرحلہ نہیں آیا۔ پاکستان مسلم لیگ ن ہی کے فیض ٹمن نے نام لیے بغیر پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو لوگ الٹی گنتی کی مخالفت کرتے ہیں وہ سمجھ لیں کہ ججوں کی بحالی کے لیے انکی وعدہ خلافی کے بارے میں پاکستانی عوام نے لانگ مارچ کرکے کیا پیغام دیا ہے۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ق کے پارلیمانی لیڈر کامل علی آغا نے کہا کہ یہ بجٹ ملک میں مہنگائی کا طوفان لانے کا باعث بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تعلیمی بجٹ میں دو فیصد سے بھی کم اضافہ کیا ہے جبکہ افراط زر کی شرح کے لحاظ سے یہ دراصل تعلیم کے بجٹ میں کمی کے مترادف ہے۔ | اسی بارے میں ترقیاتی کام 520 ارب، دفاع 275 ارب09 June, 2007 | پاکستان ’غیرآئینی بجٹ کو مسترد کرتے ہیں‘10 June, 2007 | پاکستان ’دفاعی بجٹ کا خاکہ اسمبلی میں‘09 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||